کرونا وائرس اور ہمارا قومی ذہن
کرونا وایرس ایک بین الاقوامی مسلہ بن گیا ہے اور پاکستان بھی کرونا وایرسے متاثر ہو گیا ہے ہمارا قوی ذہن کیا ہے اوراس حالت میں قومی تقاضے کیا ہیں؟
کرونا وایرس ایک بین الاقوامی مسلہ بن گیا ہے اور پاکستان بھی کرونا وایرسے متاثر ہو گیا ہے ہمارا قوی ذہن کیا ہے اوراس حالت میں قومی تقاضے کیا ہیں؟
ہمارے ملک کا ایک بڑا طبقہ دیہاڑی دار مزدور ہے، چھابڑی والے سے لےکر اینٹ پتھر اٹھانے والےتک، روزانہ کی بنیاد پر کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والا۔۔۔۔۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ سامراجی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے ،بھوک پیدا کرنے ،خوف وہیجان میں مبتلا کرنے، اور لوگوں سے ان کا یقین و ایمان متزلزل کرنے۔۔۔۔
Our mass behaviour is shaped by our social institutions through the life-long socialization process.
جب سے یہ وائرس آیا ہے مختلف طریقوں سے سوشل میڈیا پر اس کا علاج جاری ہے، دم درود سے، دیسی ٹوٹکوں سے، دعائوں سے، احتیاطی تدابیر سے وغیرہ وغیرہ
ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو وہ سب ہمارے حکومتی نظام سے پیدا کیے گئے ہیں ان سب کا حل سماجی تبدیلی کی صورت میں ممکن ہے.
سرمایہ دارانہ نظام میڈیا کو بطور آلہ کار کے استعمال کرتا ہے اور معاشروں کے افراد کی اپنے مفادات کے تحت ذہن سازی کرتا ہے
انسانی تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح سے انسانیت پر ظلم کرنے میں جاگیردایت اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔کیسے ایک جاگیردار اپنے مزارع کی غمی، خوشی،اس کی سماجی
مضبوط و منظم سماجی ڈھانچے کے لئے تعلیمی نظام کا اجتماعی فکرو نظریہ پر ہونا انتہائی ضروری ہے جو اسے دیگر سماجی دائروں سے باہم ملائے۔
انسانی محنت اور عظمت کی اساس پر معاشرتی تشکیل اورآزادی و شعور کے ساتھ درست اقدار پر قائم رہنے کی تعلیم و تربیت حاصل کرنا وقت کی اھم ضرورت ھے۔
حکومتی ادارے عوامی تحفظ کی علامت ہوتے ہیں۔اداروں کے منفی کردار کے سبب ان کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔ اوریہ عوامی اعتماد کھو دیتے ہیں۔
کھوٹے اور کھرے کی پہچان ایک مشکل کام ہے۔ جو اس پہچان کو حاصل کرلیتا ہے تو وہ فائدے میں رہتا ہے بصورت دیگر نقصان ہی نقصان ہے۔