غیر متوازن نظام کے کرداروں کی پہچان کی ضرورت واہمیت
قرآنِ پاک جب بھی کوئی مثال یا واقعہ بیان کرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ قیامت تک کے لیے اصول اور قوانین متعین کر دیتا ہے۔
قرآنِ پاک جب بھی کوئی مثال یا واقعہ بیان کرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ قیامت تک کے لیے اصول اور قوانین متعین کر دیتا ہے۔
ہمارے زمانے میں معاشیات کو عموماً ایک خشک، سائنسی اور تکنیکی علم سمجھا جاتا ہے۔ عام آدمی کے ذہن میں معاشیات کا مطلب مہنگائی، بجٹ، ٹیکس، شرحِ نمو، قرضے
آج وطنِ عزیز معاشی بدحالی کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ معاشی بدحالی، عدم استحکام، بھوک، بے روزگاری اور افلاس — آیا ان کی وَجہ وسائل کی کمی ہے؟
28 فروری 2026 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عالمی سیاست کی ا
وہ عمل ہے جس کے ذریعے طاقتور طبقات اور قومیں کمزور انسانوں اور معاشروں کی محنت، وسائل اور امکانات پر قابض ہو جاتی ہیں۔۔
حالیہ سرویز کے مطابق ملک میں غربت کی شرح گزشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ 7 کروڑ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے
بر صغیر کی عظیم و فکر حضرت امام ص ولی اللہ دہلی رحمت اللہ علیہ نے صدیوں پہلے اس بنیادی نکتے کو نہایت ہی بصیرت سے واضح کیا کہ معاشی نظام دراصل اخلاقی ن
افراط زر کی شرح کو calculate کرنے کے لئے کنزیومر پرائس انڈیکس calculate کیا جاتا ہے۔مضمون میں اسی معیار کے ذریعے ایک موازنہ اور تجزیہ کیا گیا ہے۔
فطرت میں ہر چیز بڑھتی ہے پھر توازن بنا لیتی ہے۔ مگر ہمارا نظام بلا روک ٹوک بڑھنا چاہتا ہے جس کی کوئی حد متعین نہیں.
آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دولت کی فراوانی ، وسائلِ پیداوار کی ترقی اور حیرت انگیز معاشی ارتقاء نظر آتا ہے اس کے باوجود انسانیت فقروفاقہ
مثالی معاشرہ کے دو بنیادی عناصر ہیں: خوف کا خاتمہ، یعنی قیامِ امن، اور بھوک و افلاس کا خاتمہ، یعنی معاشی خوشحالی۔
آج ہم آپ کو ایک ایسے ملک اور اس کے باشندوں سے متعارف کروانا چاہتے ہیں جو دنیا کی سخاوت کرنے والی اقوام میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ا...