سوشل میڈیا کے استعمال کےتقاضے
سائنس نے جو حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے، جس کی مقبولیت میں تمام تر پابندیوں اور قوانین کے باوجود اضافہ ہورہا ہے۔
سائنس نے جو حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے، جس کی مقبولیت میں تمام تر پابندیوں اور قوانین کے باوجود اضافہ ہورہا ہے۔
سوشل میڈیا کا استعمال آج کل انسانی ذہن اور نفسیات کیلئے ایک معمے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے سوسائٹی نے نظرانداز کیا ہے، اس کے مثبت استعمال پر تحریر
رمضان کی آمد محض ایک مہینے کی تبدیلی نہیں ہوتی، یہ دراصل دِلوں کے قبلے بدلنے کا موسم ہے، مگر وطنِ عزیز میں حسبِ روایت جیسے ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے
پاکستان میں فری لانسنگ جدید ڈیجیٹل غلامی کی وہ شکل ہے جہاں نوجوان ڈالر کمانے کی دوڑ میں اپنی ذہنی صحت، خاندانی جڑت اور سماجی وجود گنوا رہے ہیں۔
آج کا انسان، بالخصوص پاکستانی معاشرہ، جس سب سے گہرے کرب سے گزر رہا ہے وہ محض غربت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ ایک درد و انبوہ میں ڈوبی بے کراں خاموش ۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں جب بھی ”کرپشن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، تو اس سے صرف پیسے کی ہیراپھیری مراد لی جاتی ہے۔ حال آں کہ مالی اعدادوشمار تو صرف اس بیماری کی۔۔۔۔
آج کا دن ان سب عظیم جوانوں کے نام جو شادی کے چند ہفتے بعد پردیس کی فلائٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا "ATM" بن جاتے ہیں۔۔۔۔
پاکستان کا نوجوان آج ایک ایسی تہذیبی و سماجی تقسیم کے بیچ کھڑا ہے جہاں ہر نئی حرکت، ہر ثقافتی اظہار اور ہر تخلیقی تجربہ ایک نئی جنگ چھیڑ دیتا ہے۔
ہمارے گھروں کی گھٹن صرف گھروں کی گھٹن نہیں، یہ کمزور ریاست، نوآبادیاتی وراثت، غیر محفوظ معیشت اور بوسیدہ سماجی اداروں کا اجتماعی اثر ہے.
نظامِ عبادات دراصل اسلام کے حقیقی تبدیلیی مزاج کا عملی تربیتی فریم ورک ہے جو فرد کی روحانی و اخلاقی اصلاح کے ساتھ ساتھ جماعتی نظم، معاشی عدل، اجتماعی
جب کوئی معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے تو اس کی سوچ پست اور معیارات بھی کم تر ہوجاتے ہیں۔