سیرتِ نبوی ﷺ: حُسنِ اخلاق سے سماجی تبدیلی تک
حضور نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ کے ایسے فرسودہ نظام میں تشریف لا ئے، جہاں جہالت اور بے شعوری کا یہ عالم تھا کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی بھی بات پر جھگڑا ....
حضور نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ کے ایسے فرسودہ نظام میں تشریف لا ئے، جہاں جہالت اور بے شعوری کا یہ عالم تھا کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی بھی بات پر جھگڑا ....
حضور پاک ﷺ کی ذات مبارک اپنے آپ میں ایک مکمل آئین و دستورِ کامل ہے جو انفرادی و اجتماعی زندگی سے لیکر روحانی پہلو تک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔
مطالعہ سیرۃ نبوی ﷺ کے سیاسی و معاشی تقاضے
عمومًا جس قوم میں کوئی بڑی شخصیت پیدا ہوتی ہے،تو اُس قوم کے لوگ اُس شخصیت سے محض عقیدت و محبت کے حد تک تعلق نہیں رکھتے، بلکہ اُس کی تعلیمات پر بھی عمل
بلاشبہ آج کے عالمی حالات نہایت سنگین ہیں۔ ظالم قوتوں نے ظلم و جبر کی انتہا کر رکھی ہے، جس کے باعث کوئی بھی انسان محفوظ نہیں اور ۔۔۔۔۔
انسانی معاشروں نے سماجی انقلاب اور نظامِ حیات کی تبدیلی کے لیے مختلف نظریات، تحریکیں اور ماڈلز کو جنم دیا ہے۔ کہیں طاقت کے زور پر۔۔۔۔
انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ظلم، جبر، استحصال اور گروہیت کے مقابلے میں عدل، معاشی خوش حالی اور اجتماعیت کے۔۔۔۔
عقیدہ ختمِ نبوت کی پُکار؛ ختمِ نبوت اور عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا
دین اسلام نے ہمیں یہ عظیم الشان دعا سکھائی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ "آپ پر سلامتی ہو اللہ تعالی کی رحمتوں اوربرکتوں کا نزول ہو"
نبی کریم نے فرمایا کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ ہر قوم اپنے فکر و نظریہ کے مطابق اس اجتماعی دن کی خوشی کو مناتی ہے۔
اسوہ رسولﷺ ہمارے لیے کامل نمونہ ہے جس کی روشنی میں ہم سیاسی،معاشرتی و معاشی اصول اپنا کر فلاح انسانیت کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آج کے پرفتن دور میں متلاشیِ حق پریشان ہو جاتا ہے کیونکہ وہ حق اور باطل کی پہچان کرنے سے قاصر ہے۔