اعلیٰ تعلیمی ادارے : تعلیم کے نام پر ایک " کاروباری ماڈل"
ہمارے ملک کے مروجہ عصری نظامِ تعلیم میں انٹرمیڈیٹ یا اس کی مساوی تعلیم کا حصول مکمل کرنے کے بعد باصلاحیت امیدواران اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ۔۔۔۔۔
ہمارے ملک کے مروجہ عصری نظامِ تعلیم میں انٹرمیڈیٹ یا اس کی مساوی تعلیم کا حصول مکمل کرنے کے بعد باصلاحیت امیدواران اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ۔۔۔۔۔
نوجوان نسل کو مایوسی سے نکل کر اجتماعی طور پر مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ کلائمیٹ چینچ، گلوبل وارمنگ، ہارپ ٹیکنالوجی، سیزمک ٹیکنالوجی ہے یا عذابِ الٰہی۔دنیا میں برپا ؛ہونے والے فساد کی بابت قرآن حکیم یہ حقیقت بیان کرتاہے
ایک ترقی یافتہ سوسائٹی، جسے ہم آزاد اور وسائلِ رزق سے مالامال سوسائٹی کہتے ہیں۔ دوسری زوال یافتہ سوسائٹی، جسے ہم غلامی اور وسائلِ رزق سے محروم ۔۔۔۔۔
صحت افزا سیاحت سےالمناک اور خونی سیاحت تک
محنت کو ہمارے معاشرے میں نظر انداز کیا جاتا ہے، جسے ہمارے تعلیمی نظام اور میڈیا نے ذہنی اور جسمانی محنت میں تقسیم کر کے حقیر بنا دیا
میری زندگی میں کئی منظر گزرے، لیکن ایک منظر ایسا ہے جو آج بھی میری روح میں پیوست ہے۔ یہ بچپن کی بات ہے۔ سردیوں کی رات تھی، بارش زوروں کی ہو رہی تھی۔
ایک ملک کی کہانی جس پر عادل حکمران کا راج ہوتا پھر قوم زوال کا شکار ہوتی تو نااہل حکمران مسلط ہوتے۔ ظلم کا راج ہوتا۔ نوجوان تبدیل لاتے۔
پاکستان میں آج کل جو قربانی کی روایت ہمیں دِکھائی دیتی ہے، وہ اپنی اصل روح سے بہت حد تک محروم ہوچکی ہے۔۔۔۔
آج ہم جس دور میں زندہ ہیں، وہ ایک ڈیجیٹل دور ہے۔ اس دور میں ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور خاص طور پر سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔