سماجی تبدیلی کے ذمہ دار
قرآن نے زمین کی وراثت کے لیے کمزور اور پسے ہوئے باصلاحیت طبقے کا انتخاب کیا نہ کہ معاشرے کے اونچے بالادست طبقے کا۔
قرآن نے زمین کی وراثت کے لیے کمزور اور پسے ہوئے باصلاحیت طبقے کا انتخاب کیا نہ کہ معاشرے کے اونچے بالادست طبقے کا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پوری صلاحیت کے ساتھ اپنے گردوپیش کا جاٸزہ درست معیارات کی روشنی میں، قوم کے حقیقی بنیادی سماجی امراض کا ادراک حاصل کریں۔
قومی و بین الاقوامی نظاموں کا نظریاتی تجزیہ زیربحث ہے
"فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں"
ائنات کا یہ وسیع نظام ہمیں اجتماعیت پسندی کے نظریہ کا درسِ دیتی ہے
دین اسلام کے اگر اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنائیں گے تو ہمارا گھر، خاندان، معاشرہ، قوم ان مصیبتوں اور مشکلات سے بچا رہے گا
کورونا وائرس سے پھیلی خوف وہراس کی فضا انسانوں کے رویوں اور ذہنی صحت پر گہری اثر انداز ہو رہی ہے
سماجی تبدیلی تنقید سے نہیں تدبیر اور تحریک سے رونما ہوتی ہے۔
دعوت اور جماعت سازی کا طریقہ قرآن و سنت کی روشنی میں
اس تحریر کو لکھنے کا مقصد ہمارے ملک میں وبا سے متعلق جو خیالات اور مفروضے پیش کیے جا رہے ہیں اور جس کے لیۓ دلاٸل کا ایک انبار لگا ہے۔ کیا وہ واقعی اس
موجودہ حالات کے تناظر میں سماج کو درپیش خطرہ اور اس سے وابستہ خوف کے حوالے سے فہم و ادراک پیدا کرنا-