شعبہ جاتی تصادم اور نااہل قیادتیں
وکلا اور ڈاکٹرز کے درمیان تصادم کسی بڑے ہسپتال پر حملہ اداروں اور شعبوں میں تصادم کی ایک طے شدہ حکمت عملی ہے
وکلا اور ڈاکٹرز کے درمیان تصادم کسی بڑے ہسپتال پر حملہ اداروں اور شعبوں میں تصادم کی ایک طے شدہ حکمت عملی ہے
آج ضرورت اس امر کی ہےکہ حقیقی فکر ونظریہ اور اس کے معیارات کی روشنی میں اپنی راۓ قاٸم کریں اور موجودہ دور کے دجل کو سمجھیں۔
دین اسلام نے جہاں ہمیں عبادات ومعاملات کے درست انداز میں سر انجام دینے کی ترغیب دی ہے وہیں ایسی معاشرت کے قیام کی جانب بھی راہنمائی فرمائی ہے
سماجی بگاڑ بنیادی طور پر معاشی عدم مساوات ,ناقص تعلیمی نظام اور غلط سیاسی نظام ہے اور یہ خود مسائل نہیں ہیں بلکہ نظام ہی نے اسے جنم دیا ہے
سماجی تبدیلی کے حقیقی مفہوم کا مختصرا اصولی طور پر جائزہ لیا گیا ہے
مسلمانوں کے دور عروج میں جو نظام تعلیم رہا اسکی اہیمیت پر بات کی گئی ہے اور اسکا انگریزوں کے نظام تعلیم کیساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔۔
جذباتی طبیعت کے مالک اور ہیجانی کیفیت کے عادی معاشروں میں چیزوں کو حقائق کی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی
انسان اس کائنات کی ترقی یافتہ مخلوق ہے جس کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔ تاہم تمام انسانوں کی صلاحیت یکساں نہیں-
انسان کا وجود اس کائنات میں اﷲ رب العزت کی پہچان کا ذریعہ ہے۔انسان کی تخلیق سے قبل اﷲ ﷻ نے اور بہت سی مخلوقات کو پیدا فرمایا
انسانی معاشرے میں تمام معاملات کو عقلی پیمانے پر پرکھنے اور ان میں بہتری لانے کہ لیے انبیاء کہ معجزات دراصل انسانوں کی تربیت کا ایک ذریعہ قرار پائے
عمدہ حکمت عملی اور حفاظتی تدابیر کو اختیار کر کے حادثات کو کم سے کم کرنا ممکن ہے