اَقوامِ عالم کی نسل کُشی سے علم کُشی تک
ہر دور کا سامراج اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے بنیادی طور پر انسانیت کا دشمن رہا ہے۔ اس کا طریقۂ واردات بدلتا رہتا ہے.....
ہر دور کا سامراج اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے بنیادی طور پر انسانیت کا دشمن رہا ہے۔ اس کا طریقۂ واردات بدلتا رہتا ہے.....
ساتویں صدی عیسوی کا مکہ صرف ایک مذہبی مرکز ہی نہیں تھا ،بلکہ عرب کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا بھی محور سمجھا جاتا تھا۔ بہ ظاہر یہ ایک .....
خلافت اور جمہوریت کوئی متضاد طرزِ حکمرانی نہیں ہیں، جس طرح آج کل بعض حلقوں کی جانب سے خلافت کو بمقابلہ جمہوریت پیش کیا جاتا ہے۔
مذہب اور سیاست کا باہمی تعلق صدیوں سے انسانی فکر کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ یہ سوال کہ آیا مذہب کو سیاست میں کردار ادا کرنا چاہیے یا سیاست کو.......
سرمایہ دارانہ دنیا کے بڑے تنازعات کو صرف نظریاتی یا اخلاقی جنگوں کے طور پر سمجھنا ایک حد تک سادہ لوحی ہے
دین محض مذہب نہیں، مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام میں دین کا مفہوم وہ نہیں جو آج کے غلام ذہن نے محدود کردیا ہے۔
درالحکومت کے وسط میں ایک عمارت تھی جسے لوگ ایوان کہتے تھے اسکے دروازے پر نہ کوئی مذہبی علامت تھی نہ قومی۔ فیصلے یہاں ہوتے ہیں اعلان کہیں اور۔
باشعور معاشرہ نعروں سے نہیں بنتا شور سے نہیں پنتا اور الزام تراشی کبھی پروان نہیں چڑھتا۔
ہزاروں سال قبل شکاری دور میں انسان کا دوسرے انسانوں سے کوئی خاص رابطہ نہ تھا۔ وہ محض اپنی ذات، بیوی اور بچوں کی فکر میں مصروف رہتے تھے،لیکن .....
ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں دین کو عبادت گاہوں میں بند کر دیا گیا ہے کا اور اخلاق کو تقریروں کا موضوع بنایا گیا ہے۔
چند مہینوں سے پنجاب میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کےحوالے سے غیرمعمولی سختی نظر آرہی ہے۔ موٹرسائیکل سواروں اور گاڑی چلانے والوں کو ہر جگہ چالان، جرمانے اور
انسانی تاریخ کی سب سے خطرناک بیماری وہ نہیں جو جسموں کو کمزور کرتی ہے، بلکہ وہ ہے جو دِلوں اور ذہنوں کو اندھا کر دیتی ہے۔