پاکستان میں تبدیلی کی نام نہاد تحریکیں
پاکستان میں تبدیلی کی نام نہاد تحریکیں ہمیشہ شخصیات کے خلاف رہی ہیں، مجموعی سسٹم کے خلاف کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی۔ پھر تحریک کسی جامع نظریہ کی حامل ن
پاکستان میں تبدیلی کی نام نہاد تحریکیں ہمیشہ شخصیات کے خلاف رہی ہیں، مجموعی سسٹم کے خلاف کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی۔ پھر تحریک کسی جامع نظریہ کی حامل ن
فتنہ کرونا کی وجہ سے آج وقت کی یہ پکار ہے کہ سامراجی نظام کو شعوری بنیادوں پر سمجھ کر اس کے خاتمے کے لئے ایک منظم شعوری انقلابی جدوجہد کی جائے۔
کرونا سے زیادہ اج اس کے ڈر کو ختم کرنے اور قوت مدافعت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے
How we are dependent upon private sector in times of crisis and should this continue as it is in future?
انسان دوست نظام کے نتیجے میں انسانیت خوشحال ہوئی جبکہ ترقیات کے منفی استعمال سے انسانیت میں منفی اثرات نے جنم لیا.
وہ تحریک جس کی پشت پر اعلی، جامع اور انسانیت دوست نظریہ موجود نہ ہو، اور منظم اور تربیت یافتہ جماعت نہ ہو، جلد ہی ناکام ہوکر اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔
ہر ادارہ اور طبقہ اصولوں سے ماورا اپنے ادارے اور طبقے کے لیے قبائلی دور کی عصبیت کا شکار ہے، جس کا وہ برملا اظہار بھی کررہا ہے اور بڑے فخرسے ان کی....
حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح فرماتے ھیں "الاخلاق بالاحوال لا بالعلوم" اخلاق ماحول سے پیدا ہوتے ھیں نہ کہ علم سے۔
طلبہ یونین کا مثبت کردار ناگزیر ہے لیکن موجودہ بحالی کی تحریک کے محرکات نیا معاشرتی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں
آخر پاکستان کی سیاست میں یہ پُتلی تماشے کیوں ہوتے ہیں؟ عوام اور کارکنوں کو خواب بیچے جاتے ہیں۔انھیں یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اب کی بار انقلاب ان کی د
پاکستان میں جب بھی حکومتیں گرانے کی تحریکیں چلتی ہیں، اقتدارکے حریف دو طاقت ور فریقوں کے درمیان لڑائی ہوتی ہے۔ ایک فریق اقتدار میں بیٹھا ہوتا ہے