پاکستان میں طلبہ یونین کی بحالی؛ متوقع فائدے اور خدشات
طلبہ یونین کا مثبت کردار ناگزیر ہے لیکن موجودہ بحالی کی تحریک کے محرکات نیا معاشرتی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں
طلبہ یونین کا مثبت کردار ناگزیر ہے لیکن موجودہ بحالی کی تحریک کے محرکات نیا معاشرتی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں
آخر پاکستان کی سیاست میں یہ پُتلی تماشے کیوں ہوتے ہیں؟ عوام اور کارکنوں کو خواب بیچے جاتے ہیں۔انھیں یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اب کی بار انقلاب ان کی د
پاکستان میں جب بھی حکومتیں گرانے کی تحریکیں چلتی ہیں، اقتدارکے حریف دو طاقت ور فریقوں کے درمیان لڑائی ہوتی ہے۔ ایک فریق اقتدار میں بیٹھا ہوتا ہے
اُمت مسلمہ کے جمہورکو اس بات کا شعوری ادراک کر لیناچاہیے کہ یہ دور قومی ریاستوں کا ہے
ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسے فاسد مذہبی کردار کے ردِ عمل میں سیاست میں دینی تصورات کی بنیاد پر قومی و سیاسی کردار کی نفی کرتا ہے۔
نظام جمہوریت دور جدید کا کامیاب طرز حکومت ہو سکتا ہے اگر اس کو صحیح معنوں میں نافذ کیا جاۓ۔
پاکستان سماج کا اصل مسئلہ بوسیدہ سرمایہ داری نظام ہے۔
انڈین آئین سے 370 نکلانے کے بعد کشمیر کی صورتحال پر امریش مسرہ کے آرٹیکل کا اردو ترجمہ۔
پاکستان میں کبھی پارٹیوں کی طاقت کو جلسہ گاہ کے رش اور مجمعے کی کثرت سے پہچانا جاتا تھا اور ملک بھر کی جلسہ گاہیں اس کا پیمانہ ہوا کرتی تھیں
عوام کی رائے قائم کرنے میں میڈیا کا کردار، عوام کو اصل مسائل کی طرف متوجہ نہ ہونے دینا اور نان ایشوز پر اُلجھا کر رکھنا.....
ملکی تاریخ میں کیسے ایک طبقہ ہر دور میں عوام کو ایک چکر میں چلائے رکھتا ہے
جو تحریکیں جذباتی ابال سے پیدا ہوتی ہیں، وہ بہت جلد ختم ہوجاتی ہیں۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں علاقائی اور لسانی بنیادوں پر اٹھنے ہونی تحریک کا تجزیہ