ناکام مذہبی سماج ؛ اخلاقیات کا زوال اور حقیقی اقدار کی گمشدگی
سوسائٹی کو مذہب کے حقیقی اصولوں سے دور رکھ کر باثرافراد یعنی مذہبی اجارہ دار طبقہ اس مذہب کو اپنے مفادات بٹورنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
سوسائٹی کو مذہب کے حقیقی اصولوں سے دور رکھ کر باثرافراد یعنی مذہبی اجارہ دار طبقہ اس مذہب کو اپنے مفادات بٹورنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
انسان کی اصل ترقی تو اس کی غلامی سے آزادی ہے۔ اس کی سیاست، اس کی معیشت اور معاشرت آزاد ہو۔
معاشرتی مسائل کے جڑ کی تلاش ڈاکٹر ذاکر نائک کی رائے کا تجزیہ
فرقہ واریت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ یا جماعت اپنے مخصوص عقائد اور نظریات کو دوسرے گروہوں سے برتر سمجھے اور ان کے خلاف عدم ِبرداشت کا رویہ اختیار کرے
عائلی زندگی میں مرد و عورت کے جنسی رویے اور ان سے جڑے اختلافات اکثر ازدواجی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ یہ مسائل اس قدر پیچیدہ ہو جاتے ہیں کہ۔۔۔۔۔
خاندانی زندگی انسان کی بنیادی ضرورت اور معاشرتی استحکام کی ضامن ہے۔ اس کی بنیاد والدین، اولاد اور دیگر رشتہ داروں کے باہمی تعاون، محبت اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سےبڑا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ۔نوجوان قوم کے مستقبل کے معمار، قوم کی اُمنگوں کے ترجمان اور قوم کی اُمیدوں کا مرکز ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
زندگی کی راہوں میں مشکلات اور چیلنجز ہمیشہ ہمارے منتظر ہوتے ہیں، اور ان کا سامنا کرتے ہوئے ہم نہ صرف اپنے آپ کو جانچتے ہیں بلکہ اپنے اندر چھپے ......
وہ مرکز جو سماج کے جملہ مسائل اور ان کا حل پیش کرے اور افراد کی روحانی تربیت کا اہتمام کرے ایسے مرکز کو دینی زبان میں مسجد کہتے ہیں
بچوں کی تربیت میں خاندانی نظام کا کردار و اہمیت
انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہم سب وقت کے پابند ہیں۔ بچپن میں وقت کی اہمیت کا شعور نہیں ہوتا اور اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے ۔۔۔