رمضان: عبادت گاہوں میں نور، بازاروں میں نار
رمضان کی آمد محض ایک مہینے کی تبدیلی نہیں ہوتی، یہ دراصل دِلوں کے قبلے بدلنے کا موسم ہے، مگر وطنِ عزیز میں حسبِ روایت جیسے ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے
رمضان: عبادت گاہوں میں نور، بازاروں میں نار
تحریر؛ محبوب الرحمن سہر، مانسہرہ
رمضان کی آمد محض ایک مہینے کی تبدیلی نہیں ہوتی، یہ دراصل دِلوں کے قبلے بدلنے کا موسم ہے، مگر وطنِ عزیز میں حسبِ روایت جیسے ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے، معمولاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ حالاتِ زندگی بھی کروٹ بدل لیتے ہیں۔ اوقاتِ کار میں رد و بدل، سحر و افطار کی رونقیں اور عبادت کی فضا تو قائم ہوتی ہے، مگر اس روحانی تبدیلی کے ساتھ ایک ایسی مادی تبدیلی بھی جنم لیتی ہے، جس کا سر فخر سے بلند نہیں، بلکہ شرم سے جھکا ہوا ہونا چاہیے۔
یہ وہ موسم ہوتا ہے، جب روح کی ترقی کے نام پر مادہ پرستی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ تاجر ہو یا کاروباری طبقہ، سب مادی ترقی کو مقصدِ اوّل بنا کر بازاروں میں اُترتے ہیں اور خریداروں کو منہ مانگی قیمتوں کی وہ ”جنت“ عطا کرتے ہیں، جس کا نہ کوئی دروازہ کھلتا ہے اور نہ ہی واپسی کا راستہ دِکھائی دیتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ رمضان میں عام آدمی مہنگائی کی چکی میں اس طرح پِس جاتا ہے، جیسے گندم کا دانہ چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ جاتا ہے۔
وہ مظلوموں کی صف میں کھڑا ہو، اور ظالم تاجروں کے ہاتھوں اپنی آخرت کا روشن صفحہ تیار کر رہا ہو۔ گویا رات کا صبر، اس کی مجبوری اور اس کی خاموشی سب عبادت میں شمار ہو رہی ہوں، جب کہ لوٹ مار کرنے والے روزے کی آڑ میں بری الذمہ قرار پا جاتے ہیں۔
اصول تو یہ تھا کہ انسان سال بھر کی لغزشوں کا کفارہ رمضان میں ادا کرتا، توبہ کے آنسو بہاتا اور انسانیت کے بھلے کے کاموں میں سبقت لے جاتا، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں رمضان آتے ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں دوگنی نہیں، بلکہ پہلے سے کئی گنا بلند ہو جاتی ہیں۔ سبزی فروش ہو یا دانہ فروش، سب سال بھر کی کمائی کا حساب ایک ہی مہینے میں پورا کرنے کا عزم لے کر مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں۔
اور داد دیجئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو، جو ان لٹیروں کو محض اس لیے معاف کر دیتے ہیں کہ ”سب روزے سے ہیں“ ، گویا روزہ اس بات کے لیے رکھا گیا ہے کہ ہر ظالم کو کھلی چھٹی دے دی جائے، چاہے اس کی مصنوعی مہنگائی سے رعایا کی چمڑی ہی کیوں نہ اُتر جائے۔
گوشت فروش بھی ماہِ رمضان میں کسی جشن سے کم کیفیت میں نہیں ہوتے۔ جو زندہ جانور لاکھ کا بھی نہ ہو، وہ ذبح ہوتے ہی رمضان کے طفیل تین لاکھ کا ہوجاتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے روزے کا مفہوم صرف قیمت بڑھانے تک محدود ہو گیا ہو۔
ہم مسلمان تو ہیں، مگر مسلمانی سے کوسوں دور کھڑے ہیں۔ ہم سے اپنی عادتیں نہیں بدلتیں، مزاج نہیں بدلتا اور نہ ہی طبیعت پر ذرا سی گراں گزرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے کہ عام رعایا کے حالات بدل سکیں۔ مجال ہے کہ ہم نے کبھی حرمت کے مہینوں کی لاج رکھی ہو، یا اس بات کا خیال کیا ہو کہ کسی غریب کے چولہے کی آگ ہماری منافع خوری سے بجھ نہ جائے۔
بہ حیثیت قوم ہم اس دن کے منتظر ہیں، جب یہ چڑھتا سورج واقعی روشنی لے کر طلوع ہو، وہ دن جب رمضان کا احترام صرف سحری و افطاری تک محدود نہ ہو، بلکہ بازاروں، رویّوں اور نیتوں میں بھی جھلکے۔ جب روزمرہ کی اشیا مناسب اور آسان داموں میں میسر ہوں، جب غریب کا نونہال بھی عید کے دن اچھے لباس میں ملبوس ہو، اور اس کی چال میں محرومی نہیں، خودداری بولتی ہو۔
ہماری بھرپور یہ کوشش ہونی چاہیے کہ یہ مقدس مہینہ واقعی روحانی ترقی کے ساتھ مادی زندگی میں بھی اعتدال لے کر آئے۔تاکہ اس کا اَثر ہمارے ناپ تول میں، ہمارے منافع میں اور ہمارے فیصلوں میں بھی نظر آئے۔ تب ہی معاشرہ واقعی باہم شیروشکر اور امن کاگہوارا بن سکتاہے یوں رمضان عبادت کے ذریعے زندگی میں جوھری تبدیلی لانےوالا مہینہ بن سکتا ہے۔









