سوشل میڈیا کے استعمال کےتقاضے - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سوشل میڈیا کے استعمال کےتقاضے

    سائنس نے جو حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے، جس کی مقبولیت میں تمام تر پابندیوں اور قوانین کے باوجود اضافہ ہورہا ہے۔

    By محمد عتیق تنولی Published on Feb 18, 2026 Views 169

    سوشل میڈیا کے استعمال کےتقاضے

    تحریر؛ محمد عتیق تنولی ۔ کراچی


    سائنس نے جو حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے، جس کی مقبولیت میں تمام تر پابندیوں اور قوانین کے باوجود اضافہ ہورہا ہے۔ والدین، اساتذہ ، ریاست اور نظام نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہیں، نوجوان نسل کو روک نہیں پا رہے اور پریشان ہیں۔ ریاست کی جانب سے مختلف پابندیاں، قوانین میں ترامیم اور سزاؤں کے نفاذ سے بھی مسئلہ حل نہیں ہورہا۔ ریاست مخالف بیانیے تیزی سے پھیل رہے ہیں اور انتشار پیدا کررہے ہیں، غور کرنے والا ذہن سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجوہات ہیں؟

    سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی انسانی سرشت کا خاصہ ہے  اور اس ترقی کے لیے علم، مباحثہ اور مکالمہ بنیادی اجزا ہیں۔

    ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی ہمارے ہاتھ آگئی ہے، جس کی کوئی حد و قید نہیں ہے۔ اس کے ذریعے دنیا ایک ایسی سماجی اجتماعیت میں بندھ گئی ہےکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو استعمال کرنے کے لیے مجبور ہے ۔ایک ہی گھر میں شوہر اور بیوی مختلف امور میں الگ الگ دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ماں باپ اور بچے سب اس میں ملوث ہیں اور ریاستیں اس کو اپنی سوسائٹی میں رائج کرنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا ماضی میں لاؤڈ اسپیکر، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی ایجاد کو فتنہ دجل اور انتشار قرار دینے کی طرح اس پر بھی دجالیت کا فتویٰ لگا دینا درست نہیں ہوگا۔لیکن سوشل میڈیا کے بنیادی حقائق، حدود، تصورات اور اس کے درست استعمال کے حوالے سے علمی مکالمہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

    آج سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا ایک گلوبل ولیج (Global village) بن چکی ہے اور آپس میں جڑی ہوئی ہے، جہاں مختلف آزاد قومی جمہوری ریاستیں اپنے اپنے نیشنل اِزم کی بنیاد پر دنیا میں آگے بڑھ رہی ہیں اور ترقی کررہی ہیں۔ ریاست کی تشکیل کی چند بنیادی اقدار ہیں، جن کی اساس پر ریاست کا تمام تر سماجی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے اور کوئی قوم ترقی کرتی ہے۔

    حضور نبی اکرمﷺ کی سیرت اور قرآنِ حکیم کی تعلیمات سے ہمیں ریاست کی تشکیل کی 4 بنیادی اقدار ملتی ہیں۔

    1۔ غلامی کے مقابلے پر قومی آزادی کی سوچ، یعنی باہر سے کوئی غیرملکی احکامات کی اطاعت نہ ہو۔ مکہ کی ریاست میں قیصر و کسریٰ کی مداخلت موجود تھی۔ خانہ کعبہ سے بت ختم کر کے آپﷺ نے قومی آزادی کی بنیاد رکھی۔

    2۔ سماج ایک مرد اور عورت کے نکاح سے  لے کر بین الاقوامی سطح پر معاہدات سے چلتا ہے، اور اگر وہ معاہدے عدل کی بنیاد پر ہیں تو سماج ترقی کرتا ہے اور اگر وہاں ظلم ہے تو سماج کی ترقی رک جاتی ہے۔ قرآن حکیم کی آیات کی قابل ذکر تعداد عدل و انصاف کے حوالے سے ہیں، اس کی ضد ظلم ہے۔

    3۔تمام انسانوں کو بلاتفریق رنگ، نسل اور مذہب کے امن و امان دینا، ان کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کا سیاسی نظام بنانا کسی بھی سماج کی بنیادی قدر ہے۔

    آپﷺ نے ایک منافق مسلمان کے خلاف ایک مظلوم یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا کیوں کہ وہ سچا تھا۔ تمام انسانوں کو بلاتفریق امن و تحفظ دینے والا سیاسی نظام بنانا، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    4۔ایسا اطمینان بخش معاشی نظام فراہم کرنا جو وافر مقدار میں بلاتفریق تمام انسانوں کو رزق فراہم کرے، یعنی معاشی خوش حالی کا نظام بنانا۔

    ‎اس تناظر میں ریاستِ مدینہ کے یہ چار بنیادی اصول ہمارے سامنے آگئے۔

    ( قومی آزادی (قوم غلام نہ ہو) ( عدل (ظلم نہ ہو) (امن ( خوف نہ ہو) ( معاشی خوش حالی (بھوک اور افلاس نہ ہو)

    ان چار اقدار کی بنیاد پر ادارتی سماجی ڈھانچہ اور قوانین کی تشکیل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یعنی

    کوئی بھی ایسی چیز جو قومی آزادی کے خلاف ہو 

    عدل و انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہو

    امن و امان تباہ و برباد کرے

    معاشی بدحالی کا باعث بنے 

    قانون سازی اس بنیاد پر ہونی چاہیےکہ ان رکاوٹوں کو دور کرکے سماجی ترقی کا راستہ آسان کیا جائے اور ادارے اس پر عمل درآمد کروائیں ۔

    ‎جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ریاستیں نیشنل اِزم کی بنیاد پر وجود میں آئی ہیں اور اسی کی بنیاد پر سسٹم بنا کر اپنے سماج کو ترقی دے رہی ہیں۔

    ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہے کہ  پاکستان  کا ملکی نظم و نسق ابھی تک حقیقی بنیادوں پر قومی اور  جمہوری نظم ونسق می نہیں ڈھل سکا۔

    برعظیم پاک و ہند کی 1000 سالہ تاریخ کے مسلم حکمرانی کے دور میں (محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک) ہماری قومی تاریخ شان دار اصول و قوانین پر مبنی ہے۔ ہماری اس شان دار تاریخ کی بنیادی اقدار کیا تھیں اور کیسے ہمارے نظام نے بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب کے تمام انسانوں کو آزادی ، امن اور معاشی خوشحالی دی؟ ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 150 سالہ غلامی کی تاریخ تو پڑھائی جاتی ہے، لیکن ہماری 1000 سالہ تہذیب، کلچر اور روایات، جنھوں نے دین اسلام کی بنیاد پر ہمارا نیشنل اِزم زندہ کیا تھا، نہیں پڑھائی جاتی؟

    یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہمیں مکالمے کی ضرورت ہے۔‎

    ہمیں امریکا ، یورپ، چین کے (سیاسی، معاشی، سماجی) فکر کا تجزیہ کرنے کےساتھ اپنا نیشنل اِزم دریافت کرنا ہو گا۔

    سوشل میڈیا کے مفید استعمال کے لیے ریاست نوجوان کو مطمئن کرے، خودمختاری کے فیصلے کرے، باہر سے احکامات نہ لے، عدل کا معاشرہ بنائے، ظلم ختم کرے، امن قائم کرے، خوف کی فضا ختم ہو، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے، معاشی خوش حالی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    آج ہمارا نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہے۔ ملک کے بہترین دماغ مواقع نہ ملنے پر باہر منتقل ہورہے ہیں اور ہمارے حکمران طبقات اس کو ملک کی بہترین ایکسپورٹ قرار دے رہے ہیں، نوجوان معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کے نوجوان پر ہوتا ہے، خواہ وہ معاشرہ زوال پذیر ہی کیوں نہ ہو۔ نوجوان معاشرے کا سرمایہ ہوتا ہے۔ نوجوان کے بغیر کوئی ایسی طاقت نہیں جو کسی بھی معاشرے کو تبدیل کر سکے۔ 

    اسی طرح میڈیا کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں، سوشل میڈیا ہو یا کوئی بھی میڈیا ہو مثلاً

    1۔ انفارمیشن یا خبر درست بنیادوں پر نشر ہو ،غلط ، جھوٹی اور توہین آمیز خبر ہر گز نہ ہو۔ کسی کی عزت سے کھیلنے کا کام یا مس انفارمیشن (Misinformation) نہیں ہونی چاہیے ۔

    2۔دنیا میں اقوام کی کیا صورتِ حال ہے، سیاسی و سماجی ترقی کی کیا پوزیشن ہے، اس طرح کی خبریں فراہم کرنا میڈیا کا کام ہے، اس کی (education) دے۔

    3۔سماجی وحدت کو برقرار رکھنا ، سماجی انتشار کو پھیلانے کا کوئی بھی عمل اگر ریاست میں موجود ہے تو یہ بہت نقصان دہ ہے ۔ میڈیا کا کام قوم کو ایک وحدت میں پرونا ہے، بلاتفریق نسلی ، لسانی ، مذہبی فرقوں اور گروہوں سے بالا تر ہو کر کام کرنا  سوشل میڈیا کی ذمہ داری ہے۔

    حالیہ دِنوں میں ایران پر سامراجی پراپیگنڈے کی یلغار میں ایرانی قومی جمہوری ریاست اور میڈیا کے درست کردار نے لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر نکال کر اپنے قومی ریاستی بیانیے کو دنیا میں منوایا، اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے۔

    آج ہمارا سوشل میڈیا غلط ، جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو بغیر تصدیق کے صرف ریٹنگز بڑھانے کےلیے پھیلاتا ہے، چاہے اس سے ملک میں انتشار، بدامنی  اور خوف ہی کیوں نہ پھیلے اور سماجی وحدت پارہ پارہ کیوں نہ ہو جائے۔

    ‎ہمارےمیڈیا چینلز اور اینکرز کا مقصد اقدار و روایات قائم کرنے کی تعلیم دینے، خطے کی شان دار تاریخ اور حقیقی رہنماؤں کا تعارف کرانے کے بجائے دو فریقوں یا پارٹیوں کو اپنے (talk shows) میں لڑانا اور نان ایشوز جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ان پر (debates) کروانا، فحاشی پھیلانا اور لا حاصل مباحثوں کو اپنا موضوع بنا کر اپنے ذاتی مفادات یا جز وقتی تشہیر کے لئے عوام کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں۔

    آج ہمیں ان باتوں پر غور کر کے اپنا درست قومی بیانیہ بنانے کی ضرورت ہے، محض خواہشات کی بنیاد پر نہیں عملی ڈھانچہ اور درست سسٹم بنا کر جس میں ریاست بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور سوشل میڈیا بھی درست کردار ادا کرے۔ صرف وعظ و نصیحت اور بغیر کسی قومی سسٹم کے یہ صرف خواہشات اور خیالات ہی ہوسکتے ہیں اور خواہشات بھی ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔

    قرآن، سنت، تاریخ اور جدید دنیا سب ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ آزادی، امن اور معاشی خوش حالی ہی ایک کامیاب معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ایک اعلیٰ نظریے پر تیار تربیت یافتہ منظم جماعت کی شعوری کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

    Share via Whatsapp