مایوسی: اسباب، نتائج اور مزاحمت کا شعوری راستہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • مایوسی: اسباب، نتائج اور مزاحمت کا شعوری راستہ

    آج کا انسان، بالخصوص پاکستانی معاشرہ، جس سب سے گہرے کرب سے گزر رہا ہے وہ محض غربت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ ایک درد و انبوہ میں ڈوبی بے کراں خاموش ۔۔۔۔

    By سلیمان علی Published on Feb 12, 2026 Views 118

    مایوسی: اسباب، نتائج اور مزاحمت کا شعوری راستہ

     تحریر: سلیمان علی، پشاور 


    آج کا انسان، بالخصوص پاکستانی معاشرہ، جس سب سے گہرے کرب سے گزر رہا ہے وہ محض غربت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ ایک درد و انبوہ میں ڈوبی بے کراں خاموش اور ہر سُو پھیلتی ہوئی عمل کش مایوسی ہے۔ یہ مایوسی صرف نوجوانوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر عمر، ہر طبقے اور ہر سطح پر اپنے اَثرات چھوڑ رہی ہے۔ بہ ظاہر اس کی وجوہات معاشی مشکلات، بے روزگاری اور مہنگائی دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ بحران کہیں زیادہ گہرا، پیچیدہ اور ہمہ جہتی ہے۔

    مایوسی اس لمحے جنم لیتی ہے، جب انسان اپنے حال کو بے معنی اور مستقبل کو بے سمت محسوس کرنے لگتا ہے۔ جب محنت اور نتیجے کے درمیان ربط ٹوٹ جائے، جب انصاف اور میرٹ پر یقین کمزور ہوجائے اور جب انسان خود کو حالات کے سامنے بے بس سمجھنے لگے تو وہ صرف معاشی طور پر نہیں، بلکہ فکری اور نفسیاتی طور پر بھی شکست کھا جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے، جہاں انسان جینے کے بجائے محض وقت گزاری کرنے لگتا ہے۔

    وکٹر فرینکل اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: 

    "when a person can no longer see meaning in life, he distracts himself with pleasure"

    اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان اپنی زندگی میں کسی واضح مقصد یا معنی کو کھو دیتا ہے تو وہ اصل مسئلے کا سامنا کرنے کے بجائے وقتی لذتوں، مصروفیات یا غیرسنجیدہ سرگرمیوں میں خود کو اُلجھا لیتا ہے۔ یہ رویہ وقتی طور پر ذہن کو بہلا تو دیتا ہے، مگر مسئلے کو حل نہیں کرتا، بلکہ مایوسی کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

    مایوسی کے بنیادی اسباب

    1۔  معاشی اسباب :

    معاشی اسباب میں بے روزگاری، کم آمدن، مہنگائی اور معاشی عدمِ تحفظ جیسے عوامل شامل ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے باوجود باعزت روزگار سے محروم رہتی ہے۔ یہ احساسِ محرومی وقت کے ساتھ ساتھ مایوسی، بے یقینی اور ذہنی دَباؤ میں بدل جاتا ہے۔

    2۔  نفسیاتی اسباب: 

    دوم نفسیاتی اسباب ہیں۔ مسلسل ناکامی، فوری کامیابی کی خواہش اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگیوں سے غیرحقیقی موازنہ انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 30 سے 35 فی صد آبادی کسی نہ کسی درجے کے ڈیپریشن یا شدید ذہنی دَباؤ کا شکار ہے۔یہی ڈیپریشن آگے چل کر دل کی بیماریوں، ہائی بلڈپریشر، نیند کی خرابی، منشیات کے استعمال اور بعض صورتوں میں خودکشی جیسے انتہائی خطرناک رجحانات کو جنم دیتا ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں خودکشی کی شرح تقریباً چھ سے سات افراد فی ایک لاکھ آبادی کے قریب بتائی جاتی ہے، اور ان واقعات کی ایک بڑی تعداد کا تعلق ڈیپریشن، شدید ذہنی دَباؤ، معاشی مشکلات اور مایوسی سے جوڑا جاتا ہے۔

    اگرچہ سماجی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں خودکشی کے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ حقیقت مایوسی کے مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔

    3۔ سماجی اسباب :

    سماجی اسباب میں میرٹ پر عدمِ اعتماد، طبقاتیت، طاقت ور اور کمزور کے لیے الگ معیار اور اجتماعی ناانصافی شامل ہیں۔ جب معاشرہ فرد کو یہ پیغام دے کہ اس کی قابلیت نہیں، بلکہ تعلقات اہم ہیں، تو امید بتدریج دم توڑنے لگتی ہے۔

    4۔فکری اسباب: 

    جدید دور میں زندگی کو صرف نتائج (Results) کے زاویے سے دیکھا جانے لگا ہے، جب کہ جدوجہد (Process) کی قدر کم ہوگئی ہے۔ ناکامی کو سیکھنے کے مرحلے کے بجائے حتمی انجام سمجھ لیا جاتا ہے۔ حال آں کہ تاریخ اور انسانی تجربہ اس کے برعکس گواہی دیتے ہیں۔

    قرآن کا تصورِ اُمید: مشکل کے ساتھ آسانی

    قرآن مجید انسانی نفسیات اور زندگی کے نشیب و فراز کو نہایت گہرائی سے سمجھاتا ہے۔ سورۃ الانشراح میں ارشاد ہوتا ہے:

    فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

    (پس بے شک تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے) (آیات5–6)

    یہاں قرآن یہ نہیں کہتا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود ہوتی ہے۔ گویا مشکل اور آسانی ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔ انسان اکثر تنگی کو تو فوری طور پر محسوس کر لیتا ہے، مگر اسی لمحے موجود امکانات اور راستوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مایوسی اور امید کے درمیان بنیادی فرق پیدا کرتا ہے۔

    مولانا رومؒ نے اسی حقیقت کو علامتی انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ بہ ظاہر جو لمحہ تباہی یا شکست کا لگتا ہے، وہی دراصل کسی نئی بصیرت، طاقت یا امکانات کے ظاہر ہونے کا نقطۂ آغاز بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی بحران محض خاتمہ نہیں، بلکہ تبدیلی کی تمہید بھی ہوتا ہے۔

    سیرتِ نبوی ﷺ: مایوسی کے مقابل صبرِ فعال

    نبی اکرم ﷺ کی زندگی مایوسی کے مقابل ایک مکمل اور عملی نمونہ ہے۔ مکی دور میں آپ ﷺ کو سماجی بائیکاٹ، آپ ؐ اور آپ کی جماعتؓ کے ساتھیوں کے ساتھ سردارانِ قریش کا بہیمانہ سلوک، کردار کشی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپ ﷺ نے نہ فرار اختیار کیا اور نہ مایوسی۔ آپ ﷺ کا صبر محض خاموش برداشت نہیں تھا، بلکہ ایک صبرِفعال تھا ۔ایسا صبر جو شعور، حکمت اور اخلاقی استقامت کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

    مکی دور میں آپ ﷺ نے فوری نتائج کے بجائے فرد سازی، فکری تربیت اور اخلاقی بنیادوں پر کام کیا۔ یہی وہ مزاحمتی حکمتِ عملی تھی، جس نے بعد میں ایک منظم، باوقار اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھی۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ فوری کامیابی نہ ملنا ناکامی نہیں، بلکہ تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔

    تاریخ کا سبق: بحران میں ہی قومیں بنتی ہیں 

    انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ بحرانوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں مغلیہ زوال کے بعد جب سیاسی اور سماجی انتشار بڑھا تو امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اُمت کی اجتماعی اصلاح کا بیڑا اُٹھایا، جس کو ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے تناظر میں علمائے حق نے آگے بڑھایا۔

    مایوسی سے نکلنے کا شعوری راستہ

    مایوسی کا حل کسی ایک فوری نسخے میں نہیں، بلکہ ایک جامع فکری اور عملی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔

    سب سے پہلا قدم فکری اِصلاح ہے۔ انسان کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ناکامی انجام نہیں، بلکہ ایک مرحلہ ہے اور اپنی قدر کو صرف نتائج سے وابستہ کرنا خود مایوسی کو دعوت دینا ہے۔ اسی تناظر میں زندگی میں ایک اعلیٰ اور بامعنی مقصد کا ہونا نہایت ضروری ہے جو انسان کو مشکل حالات میں بھی سمت اور حوصلہ فراہم کرے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ غبارِ خاطر میں رقم طراز ہیں:

    ” زندگی بغیر کسی مقصد کے بسر نہیں کی جا سکتی۔ کوئی اٹکاؤ، کوئی لگاؤ، کوئی بندھن ہونا چاہیے، جس کی خاطر زندگی کے دن کاٹے جا سکیں“۔

    یعنی مقصد انسان کو نہ صرف جینے کی وَجہ دیتا ہے، بلکہ اسے مایوسی کے مقابل ڈٹ جانے کی طاقت بھی فراہم کرتا ہے۔

    دوسرا قدم عملی جدوجہد ہے: چھوٹے اہداف مقرر کرنا، اپنی مہارتوں کو بہتر بنانا، اور محدود وسائل کے باوجود مستقل کوشش جاری رکھنا۔

    تیسرا قدم اجتماعی شعور ہے۔ فرد جب اپنی ذات سے نکل کر خاندان، معاشرے اور قوم کے لیے سوچتا ہے تو اس کی جدوجہد محض ذاتی فائدہ نہیں، بلکہ اجتماعی بہتری کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

    چوتھا قدم روحانی و اخلاقی استحکام ہے۔ یقین، صبر اور مقصد کا احساس۔ یہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر مزاحمت کی روشنی تک لے جاتے ہیں۔

    نتیجہ: 

    مایوسی کوئی فطری انجام نہیں، بلکہ ایک عارضی کیفیت ہے۔ یہ اس وقت خطرناک بن جاتی ہے جب انسان اسے قبول کر لیتا ہے۔ قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، تاریخ اور انسانی تجربہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ مشکل کے لمحے ہی انسان اور قوم کے اصل امکانات کو آشکار کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مشکلات کیوں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان کا سامنا شعور، یقین اور مزاحمت کے ساتھ کرتے ہیں یا فرار کے ساتھ۔

    مایوسی کے اندھیروں سے نکلنے کا راستہ موجود ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم اسے دیکھنے، سمجھنے اور اختیار کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

    Share via Whatsapp