کرپشن ایک عمومی رویہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • کرپشن ایک عمومی رویہ

    ہمارے معاشرے میں جب بھی ”کرپشن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، تو اس سے صرف پیسے کی ہیراپھیری مراد لی جاتی ہے۔ حال آں کہ مالی اعدادوشمار تو صرف اس بیماری کی۔۔۔۔

    By سلیمان علی Published on Feb 07, 2026 Views 265

    کرپشن ایک عمومی رویہ

    تحریر: سلیمان علی، پشاور

     

    ہمارے معاشرے میں جب بھی ”کرپشن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، تو اس سے صرف پیسے کی ہیراپھیری مراد لی جاتی ہے۔ حال آں کہ مالی اعدادوشمار تو صرف اس بیماری کی علامات ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ(IMF)کے مطابق عالمی سطح پر کرپشن کی مقدار 1.5 سے 2 ٹریلین(پندرہ سو سے دوہزار ارب) ڈالر ہے۔گلوبل کرپشن بیرومیٹر (2017ء) کے مطابق پاکستان ایشیا پیسفک ریجن میں چوتھا سب سے کرپٹ ملک قرار دیا گیا تھا۔ لیکن کیا مسئلہ صرف اعدادوشمار کا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پیسے کی کرپشن اس بیماری کی ایک علامت ہے۔ اس بیماری کی جڑ اپنے مقصدِتخلیق سے غفلت اور قومی نظام کے بگاڑ میں پیوست ہیں۔امرواقعہ یہ ہے کہ ہم نے تو اس بنیادی ذمہ داری میں کرپشن کی ہے جو بہ حیثیت انسان اور مسلمان ہم پر عائد ہوتی ہے۔

    1۔ عالمی اداروں کی رپورٹس اور کرپشن: ایک تنقیدی جائزہ

    عالمی اداروں کی رپورٹس اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کرپشن محض ایک انتظامی یا مالی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا سماجی رویہ بن چکی ہے۔ IMF اور گلوبل کرپشن بیرومیٹر جیسے ادارے صرف اعدادوشمار فراہم نہیں کرتے، بلکہ اس اجتماعی طرزِفکر کو بے نقاب کرتے ہیں، جس میں کرپشن کو معمول، مجبوری یا نظام کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ جب ریاستی ادارے، پالیسیاں اور نگرانی کا نظام کمزور ہوجائے تو کرپشن ایک مستقل رویے کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

    2۔ مالیاتی کرپشن کے پس منظر میں فکری اور نفسیاتی عوامل

    مالیاتی کرپشن کے پیچھے صرف معاشی دَباؤ یا قانونی کمزوری نہیں، بلکہ انسانی نفسیات، فکری انحراف اور اجتماعی ذہنی ساخت بھی کارفرما ہوتی ہے۔ جب ذاتی مفاد اجتماعی بھلائی پر غالب آجائے، جب مقصدِتخلیق دھندلا جائے اور جب ذمہ داری کا احساس کمزور پڑجائے تو کرپشن ایک شعوری عمل کے بجائے ایک عادت بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر کرپشن صرف پیسے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ سوچ، رویے اور فیصلوں میں سرایت کرجاتی ہے۔

    3۔ منصبِ خلافت اور اس کی ذمہ داریوں سے فرار

    کرپشن کی سب سے بڑی شکل یہ ہے کہ انسان اُس مقصد کو بھول جائے، جس کے لیے اُسے تخلیق کیا گیا ہے۔ قرآنِ حکیم کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا ”نائب“ (یعنی خلیفہ) بنا کر بھیجا ہے۔ خلافت کا مطلب صرف تسبیح پڑھنا نہیں، بلکہ زمین پر عدل کا نظام قائم کرنا ہے۔ مولانا قاری محمد طیب قاسمی (رسالہ: عبادت و خلافت، عزم سیریز، شمارہ ۸۶) میں اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    ایک شخص چوبیس گھنٹے مسجد میں ہے، مخلوق چاہے جئیے یا مرے، اسے کوئی پروا نہیں، اس کا آدھا ایمان ہے۔ اور ایک شخص رات دن مخلوق کی خدمت میں لگا ہوا ہے، مگر مسجد جانے کا نام نہیں لیتا، اس کا آدھے سے بھی کم ایمان ہے۔ انسان مکمل تب ہوگا، جب ایک طرف عابد و زاہد ہو اور ایک طرف خلیفہ خداوندی ہو (یعنی اللہ کی زمین پر عدل قائم کرے)۔

    جب ہم معاشرے میں بگاڑ دیکھتے ہیں اور یہ کہہ کر سائیڈ پر ہوجاتے ہیں کہ میرا کام تو صرف نماز پڑھنا ہے، سسٹم ٹھیک کرنا میرا کام نہیں“ تو درحقیقت ہم اپنی ذمہ داری میں ڈنڈی مار رہے ہوتے ہیں۔ یہ ’غفلت کی کرپشن‘ ہے اور یہی رویہ اجتماعی سطح پر ظلم کو پنپنے کا موقع دیتا ہے۔

    4۔ عبادت کا وسیع مفہوم اور اجتماعی ذمہ داری

    ہم نے عبادت کو چند رسومات تک محدود کر کے خود کو بری الذمہ سمجھ لیا ہے، حال آں کہ نظام کی خرابی کے خلاف مزاحمت کرنا بھی عبادت ہے۔ 

    بندگی کا مفہوم محدود نہیں ہے۔ جب اعلیٰ مقصد کے لیے کام کیا جائے تو وہ بندگی بن جاتا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے کبھی بھی لوگوں کا ساتھ چھوڑ کر محض اپنی ذاتی عبادت کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ معاشرے سے ظلم مٹانے اور عدل قائم کرنے کے لیے جدوجہد کی“۔ (عزم سیریز 302: انسان کا مقصدِ تخلیق، از؛ ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن)

    لہٰذا جب ہم ’سسٹم کی خرابی‘ کی بات تو کرتے ہیں، لیکن اسے درست کرنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کرتے، تو بے عملی کے ذریعے خود اسی خرابی میں حصہ دار بن جاتے ہیں، کیوں کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

    5۔ نظام کی خرابی اور ہماری مجرمانہ خاموشی

    یہ نظام خراب ہے، لیکن یہ نظام کس نے بنایا؟ ہم میں سے چند مفادپرست انسانوں نے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ ’مراعات یافتہ طبقہ‘ (Privileged Entities) اور ریاستی اداروں میں شفافیت کی کمی، ملکی معیشت کو تباہ کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس نظام کو سہارا کون دے رہا ہے؟ جب ہم ظالم کے خلاف آواز اُٹھانے کے بجائے مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں، تو ہم بہ حیثیت قوم کرپشن کر رہے ہوتے ہیں۔

    اس صورتِ حال کا ممکنہ حل یہی ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی اِنفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی پہچان حاصل کریں۔ بدعنوانی اور کرپشن کے اس کینسر کا علاج اپنے مقصدِتخلیق کی طرف لوٹنے میں ہے۔ اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

    1۔ ذمہ داری کا احساس 

    ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بہ حیثیت مسلمان اور انسان ہماری ذمہ داری صرف اِنفرادی عبادت تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کو ہر طرح کی خرابی (ظلم، جبر، ناانصافی) سے پاک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ 

    2۔ مزاحمت اور شفافیت

    موقع محل کا لحاظ اور حکمت کا استعمال اپنی جگہ، لیکن کرپشن کے خلاف بولنا فساد‘ نہیں بلکہ ’جہاد‘کی ایک صورت ہے۔ تمام اجتماعی امور میں شفافیت کا مطالبہ کرنا ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔

    مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپشن صرف چند روپوں کےناجائز لین دین کا نام نہیں۔ یہ انسان کا اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے مقام سے گر جانے کا نام ہے۔ جب ہم اپنی تخلیق کا مقصد بھول کر صرف ذاتی مفادات کے غلام بن جاتے ہیں اور صحیح / غلط کی تمیز چھوڑ دیتے ہیں تو معاشرہ تباہ ہوجاتاہے۔ تبدیلی تب آئے گی، جب ہم یہ سمجھ لیں گے کہ نظام کو ٹھیک کرنا بہ حیثیت خلیفہ ہماری دینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ سمجھ بوجھ، صلاحیت، ہمت اور مواقع کےباوجود جو اس ذمہ داری سے بھاگے گا، وہی اصل کرپٹ ہے۔

    Share via Whatsapp