سوشل میڈیا کے انسانی نفسیات پر اَثرات
سوشل میڈیا کا استعمال آج کل انسانی ذہن اور نفسیات کیلئے ایک معمے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے سوسائٹی نے نظرانداز کیا ہے، اس کے مثبت استعمال پر تحریر
سوشل میڈیا کے انسانی نفسیات پر اَثرات
تحریر: جاوید حسین آفریدی۔ پشاور
پاکستانی معاشرے میں موبائل فون اور سوشل میڈیا ایپس کا بڑھتا ہوا استعمال ہر عمر کے لوگوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس سے نہ صرف زندگی کے تمام تعمیری شعبوں میں کارگردگی متاثر ہورہی ہے، بلکہ صارفین کی جسمانی اور نفسیاتی صحت بھی روبہ زوال ہورہی ہے۔ آج پوری دنیا میں موبائل اور سوشل میڈیا اڈکشن کو ایک نشے اور بیماری کے طور پرلیا جا رہا ہے، جس کے تدارک کے لیےنئی نئی راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔
ریلز اور ٹک ٹاک جیسی کم وقت کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ (focus)کو بری طرح ڈسٹرب کیا ہے۔ کسی پیچیدہ، مرحلہ وار اور طویل مدتی عمل کو سمجھ لینے کی صلاحیت اَب تقریباً مفقود ہوچکی ہے۔ انسانی توجہ اس قدر سکڑ چکی ہے کہ کچھ گھنٹے پہلے ہونے والے واقعات کا بھول جانا عمومی رویہ بن چکا ہے ۔ دوسری جانب اس صورتِ حال نے انسانوں کو انسانوں سے جدا کر کے مشین اور گیجٹس کا عادی بنا دیا ہے۔ اَب دو انسان بالمشافہ بیٹھ کر بھی ذہنی طور پر ایک دوسرے کےپاس موجود نہیں ہوتے۔ اس طرزِعمل نے کئی طرح کے سماجی و نفسیاتی عارضوں کو جنم دیا ہے۔ آپ نے اکثر محسوس کیا ہوگا کہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد آپ کو ایک طرح کی ندامت ، بیزاری اور مایوسی کا احساس ہو نے لگتاہے ۔
موبائل اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال نے انسانی ذہن کو مشینی بنا دیا ہے، جس طرح ایک مشین کی کارکردگی مسلسل اور حد سے زیاہ کام کرنے سے متاثر ہوتی ہے، اسی طرح انسانی ذہن اَب کچھ نہ کرنے کے باوجود مصروف عمل رہتا ہے، کیوں کہ بہ ظاہر تو انسان کچھ نہیں کررہا ہوتا ، مگر حقیقت میں موبائل کے استعمال سے انسانی سی پی یو مسلسل چل رہا ہوتاہے۔ بسا اوقات تو انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا اور گھنٹوں گزر چکے ہوتے ہیں۔
موبائل اور سوشل میڈیا کے نشے سے کیسے جان چھڑائی جا سکتی ہے یا اس کے اَثرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے مندرجہ ذیل چھوٹی چھوٹی عادات کو اپنانے سے یہ اَثرات کم ہوسکتے ہیں ۔
غارمیں دن گزارنا یعنی Cave Days کا تجربہ انتہائی مفید عمل ہے۔ انسان روزانہ کی معمول کی زندگی کو چھوڑ کر کسی ایسی جگہ جائے، جہاں محض فطرت سے بالمشافہ تعلق پیدا ہو۔ یعنی جہاں موبائل، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی جیسی چیزیں ارادتاً استعمال نہ کی جاتی ہوں۔ یہ دورانیہ چند گھنٹوں پر بھی مبنی ہوسکتا ہے اور چند دِنوں پرمبنی بھی۔ مثلاً کسی صحت افزا مقام کی طرف جانا جہاں پہاڑ ہوں، پیڑ ہوں، انسان وہاں کچھ گھنٹے رہے اور نیچر کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرنے کی کوشش کرے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ انسان اپنی اصل فطرت کی جانب تھوڑا متوجہ ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے اس نشے کا ایسا متبادل ڈھونڈنا بھی ضروری ہے جو مثبت اور تعمیری ہو ۔ وہ متبادل آپ کو اپنی زندگی میں فائدہ بھی دے اور کسی قدر اطمینان بھی۔ مثلا کسی کتاب کا پڑھنا مگر کتاب ہارڈ شکل میں ہو۔ کتاب کی سافٹ کاپی یعنی پی ڈی ایف وغیرہ میں ہو تو پھر لیپ ٹاپ کا استعمال درست ہوگا۔ مگر زیادہ بہتر استعمال ہارڈ کتاب کا ہی ہے۔ کتاب پڑھنے کے لیے بھی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً کسی لائبریری میں جا کر توجہ سے مطالعہ کرنا۔ اس کے علاوہ گھر میں اگر ایک الگ کمرہ ہو جو مطالعے کے لیے مختص کیا جاسکے، تو یہ زیادہ بہتر بندوبست ہوسکتا ہے۔
موبائل میں Minimalist کے نام سے ایک ایپ ہے اسے موبائل میں انسٹال کرلیاجائے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جتنا ممکن ہوسکے، موبائل استعمال کرنے سے گریزکیا جائے ۔ لفظ minimalist کا مطلب بھی یہی ہے کہ آپ کم سے کم چیزوں میں خود کو مصروف رکھیں، تاکہ آپ کے ضروری اور اہم کام متاثر نہ ہوسکیں۔ اس ایپ کے کچھ فوائد یہ ہیں کہ اس سے کسی بھی ایپ کو سرچ کر کے ڈھونڈنا پڑتا ہے، ناکہ اس کے لوگو (Logo)کو دیکھ کر اس پر کلک کرلیا جائے۔ اس کی وَجہ سے ڈسپلے سکرین مکمل طور پر بلیک ہوتی ہے۔ محض ٹائم، تاریخ اور کلینڈر سکرین پر نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مخصوص وقت کے بعد کوئی بھی ایپ خودبہ خود بندہوجاتی ہے، تاکہ آپ کو احساس ہو کہ اس ایپ پر آپ نے مخصوص وقت سے زیادہ وقت گزار لیا ہے وغیرہ۔
کال پک کرنے کے بجائے کال بیک کی عادت ڈالنے سے آپ اپنے فارغ اوقات میں یہ کام کرسکیں گے، ضروری کال ہو تو الگ بات ہے۔ وٹس ایپ پر بھی کالز کی بجائے وائس نوٹس بھیجنے سے وقت کی بچت ممکن ہے ۔
موبائل ٹچ نہ کرنے یا سکرین کو نہ دیکھنے کا دورانیہ جتنا زیادہ ممکن ہوسکے، اتنا بہتر ہے۔ البتہ شروعات اگر ایک گھنٹہ سے کرلی جائے تو یہ قابل عمل بھی ہے اور اسے رفتہ رفتہ بڑھایا بھی جاسکتا ہے ۔
تمام غیرضروری ایپس ان انسٹال(uninstall) کرنے کا حوصلہ کرنا چاہیے اور محض وہ ایپس موبائل میں رکھی جائیں، جن کی آپ کو روزمرہ بنیادوں پر ضرورت ہے۔
ویسے یہ عادت اپنانا تو کافی مشکل ہے، مگر سوشل میڈیا ایپس کو اگر مسلسل اور بدستور کم وقت دیا جا سکے تو آہستہ آہستہ یہ نشہ بڑی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اَب رمضان کی آمد آمدہے ، اس لیے برکتوں کے اس ماحول میں ایک بہتر روٹین بنانے کا ایک اچھا موقع بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ٹیکنالوجی کا تعمیری اور انسان دوست استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔









