ڈیجیٹل مشقت و فری لانسنگ کے پاکستانی سماج پر اَثرات - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • ڈیجیٹل مشقت و فری لانسنگ کے پاکستانی سماج پر اَثرات

    پاکستان میں فری لانسنگ جدید ڈیجیٹل غلامی کی وہ شکل ہے جہاں نوجوان ڈالر کمانے کی دوڑ میں اپنی ذہنی صحت، خاندانی جڑت اور سماجی وجود گنوا رہے ہیں۔

    By شاداب احمد Published on Feb 12, 2026 Views 199
    ڈیجیٹل مشقت و فری لانسنگ کے پاکستانی سماج پر اَثرات
    تحریر: شاداب احمد، ملتان

    سن2019ء میں کروونا وَبا نے ایک ایسی عالمی تبدیلی کو جنم دیا، جس کے اَثرات کسی بھی طبی بحران سے کہیں زیادہ گہرے ثابت ہوئے۔ اس نے پوری انسانیت کو ایک غیر ارادی ڈیجیٹل منتقلی میں دھکیل دیا۔ سماجی دوری کے نام پر معطل کی گئی اجتماعیت، درحقیقت ایک مستقل سماجی تبدیلی کا پیش خیمہ بن گئی۔ یہ منتقلی بہ ظاہر مجبوری تھی، لیکن اس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں نے تاریخی منافع کمائے۔ اے آئی اور آئی ٹی سیکٹر نے دہائیوں کا سفر چند مہینوں میں طے کر لیا۔ آن لائن شاپنگ، ڈیجیٹل ادائیگیاں اور ریموٹ ورک نئی عالمی حقیقت بن گئے۔
    لیکن اس ڈیجیٹل جنت کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی تھی۔ ان تمام پلیٹ فارمز کو چلانے کے لیے ایک وسیع، سستی اور قابلِ رسائی لیبر فورس کی ضرورت تھی۔ یہیں عالمی استعمار کی نئی شکل سامنے آئی۔ ترقی یافتہ ممالک نے غریب اور ترقی پذیر معیشتوں کی طرف دیکھا، جہاں بے روزگاری پھیلی ہوئی تھی اور نوجوان ہنرمند تھے، مگر مواقع نہیں تھے۔ ان ممالک کے نوجوانوں کو ”مہارتی ترقی“ کے نام پر مخصوص کورسز، تربیتی پروگراموں اور سرٹیفیکیشنز کی طرف راغب کیا گیا۔ یہ سب ایک واضح مقصد کے تحت تھا۔ ایک ایسی سستی ڈیجیٹل لیبر فورس تیار کرنا جو عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو چلا سکے، بغیر مہنگی ترقی یافتہ دنیا کی لیبر کے مسائل کے۔
    اور یہیں سے ہم پاکستانی نوجوان کی کہانی پر پہنچتے ہیں، جو اس عالمی ڈیجیٹل مشین کا سب سے قیمتی پرزہ بنا۔ اسی سستی لیبر کے تصور نے ہمارے نوجوان کو روزانہ 16 گھنٹے کی ڈیجیٹل غلامی، نفسیاتی تباہی، سماجی تنہائی اور معاشی عدمِ تحفظ کے دلدل میں دھکیل دیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسے عالمی معاشی ڈیزائن کا حصہ ہے، جس میں نوجوان کو شعوری طور پر ایک سستا، ہنرمند اور سیاسی طور پر غیر مؤثر ڈیجیٹل مزدور بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
    آن لائن مشقت کے نفسیاتی اَثرات
    پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں روایتی معاشی مواقع دانستہ طور پر ختم کیے گئے ہیں، نوجوان تیزی سے عالمی آن لائن ملازمتوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ بہت سوں کے لیے حقیقت زیادہ سے زیادہ کمائی کے پیچھے روزانہ 16 گھنٹے کی جان توڑ محنت ہے۔ یہ تبدیلی محض کام کا انداز نہیں بدل رہی، یہ ذہنی صحت کو کھوکھلا کررہی ہے۔ آن لائن ملازمتوں کے پلیٹ فارم گہری تنہائی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ نوجوان اکیلے کام کرتے ہیں اور کلائنٹس سے صرف لین دین پر مبنی رابطے میں رہتے ہیں۔ حقیقی سماجی رابطے کی یہ کمی سنگین نفسیاتی نتائج پیدا کر رہی ہے۔
    اس حوالے سے طبی اعداد و شمار نہایت تشویش ناک ہیں۔ PIMS اسلام آباد (شعبہ نفسیات 2025ء) کی رپورٹ کے مطابق آئی ٹی ہب سے تعلق رکھنے والے 72فی صد فری لانسرز سوشل اینگزائٹی اور شدید ذہنی دَباؤ کا شکار ہیں۔ مزید برآں، AKUH ذہنی صحت سروے (2024ء) انکشاف کرتا ہے کہ 12 سے 14 گھنٹے اسکرین پر گزارنے والے نوجوانوں کے خاندانی تعلقات میں بگاڑ کی شرح 45فی صد تک بڑھ چکی ہے، جب کہ ان میں خودکشی کے خیالات عام آبادی سے 15فی صد زیادہ پائے گئے۔ جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہے۔ JPMC (2025) کے مطابق کارپل ٹنل سنڈروم کے 60فی صد کیسز کا تعلق اسی شعبے سے ہے اور نوجوانوں میں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل 25 سال کی عمر میں ہی شروع ہو رہے ہیں۔
    فریسٹریشن کی دلدل اور خاندانی نظام کی شکست و ریخت
    اس ڈیجیٹل قید و تنہائی کی سب سے خطرناک نفسیاتی پیداوار فرسٹریشن کی وہ گہری دلدل ہے جو شخصیت کے بنیادی ڈھانچے کو بدل رہی ہے۔ جب ایک باپ یا نوجوان فرد صبح سے رات تک اسکرین کے سامنے مقید رہتا ہے تو وہ اپنی نسل کو وقت، توجہ اور اخلاقی اقدار دینے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ فریسٹریشن محض ایک کیفیت نہیں، بلکہ ایک وجودی بحران بن جاتی ہے۔
    آج ہمارے ہاں خاندانی محبتیں اسی فرسٹریشن کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ مالی عدمِ تحفظ کا مستقل احساس اور سماجی رابطوں کی کمی مل کر ایک ایسی منفی سوچ پیدا کرتے ہیں، جہاں انسان ہر رشتے کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ ہمدردی کا خاتمہ، بے صبری اور تلخ کلامی اس ڈیجیٹل غلامی کے منطقی نتائج ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ اخلاقی زوال آنے والی نسلوں میں ایک ایسا خلا پیدا کر دے گا، جہاں انسانیت کو محض کاروباری مفاد کی نظر سے دیکھا جائے گا۔
    معاشی مایوسی اور اشرافیہ کا کردار
    اس تباہ کن نظام الاوقات کی اصل وَجہ ملکی معیشت کی تباہی ہے۔ نوجوان خاندانوں کی واحد مالی امید بن کر اس دلدل میں اُترتے ہیں، لیکن ان کی اس مشقت کا اصل فائدہ پاکستان کی اشرافیہ اور حکمران طبقے کو ہو رہا ہے۔معاشی اعداد و شمار اس تضاد کو واضح کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک (SBP 2025) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جب کہ PAFLA (2024) کے مطابق فری لانسرز سالانہ 1 ارب ڈالر براہِ راست ملک لا رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان اکنامک سروے (2024-25) ظاہر کرتا ہے کہ ریاست نے انٹرنیٹ کی بندش اور فائر وال کے تجربات سے ان نوجوانوں کو 500 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ المیہ یہ ہے کہ UNDP کے مطابق ریاست اپنی اشرافیہ کو سالانہ 17.4 ارب ڈالر کی مراعات دیتی ہے، جب کہ ورلڈانیکوالٹی رپورٹ (2026ء) کے مطابق ملک کی 59فی صد دولت صرف 10 فی صد امیر ترین افراد کے پاس ہے۔ یہ صورتِ حال نوجوانوں میں احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی محنت کا فائدہ ان کے بجائے وہ طبقہ اٹھا رہا ہے جو ان کے حقوق کا قاتل ہے۔
    اجتماعیت کی موت اور سیاسی فائدہ
    آن لائن ملازمتوں کی سب سے خطرناک قیمت ”اجتماعیت کی موت“ ہے۔ کسی بھی ظالمانہ نظام کی تبدیلی کے لیے متحد ہونا پہلی شرط ہے، مگر ڈیجیٹل غلامی نے نوجوان کو ایک ”ایٹم“ بنا دیا ہے جو صرف اپنی اسکرین اور ٹارگٹ تک محدود ہے۔ یہ ایک ڈیزائن کیا ہوا سیاسی نتیجہ ہے۔ اشرافیہ جانتی ہے کہ جب تک نوجوان اکیلے کمروں میں قید ہیں، نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ”ہر شخص اپنا خدا“ والی ذہنیت اِنفرادیت کو اس حد تک فروغ دیتی ہے کہ ہر ساتھی ایک حریف نظر آنے لگتا ہے۔ وقت کی قلت اجتماعیت کا قاتل ہے۔ 16 گھنٹے کام کرنے والا نوجوان کبھی نظام کے خلاف آواز بلند کرنے یا متبادل کا خواب دیکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔
    ٹائم زون کی غلامی: سماجی موت
    ٹائم زون کی غلامی نے پوری نسل کا سماجی وجود تباہ کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی حیاتیاتی گھڑی مغربی سرمائے کے وقت کے مطابق ڈھالنی پڑتی ہے۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال (2025ء) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ رات بھر جاگنے والے ان ورکرز میں میٹابولک سنڈروم اور جگر کے امراض دوگنا ہو چکے ہیں۔ یہ صرف طبی مسئلہ نہیں، بلکہ سماجی بائیکاٹ ہے؛ نوجوان گھر میں ہو کر بھی غائب ہے، وہ مذہبی و ثقافتی رسومات سے کٹ چکا ہے۔ یہ تنہائی نظام کی ایک چال ہے تاکہ اجتماعی مزاحمت کو ختم کر کے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو معاشی طور پر پیداواری ہو مگر سماجی و سیاسی طور پر مردہ۔
    شعوری بیداری: نظام کی تبدیلی ہی واحد راستہ
    اگرچہ یورپی یونین جیسے خطوں میں ڈیجیٹل ورکرز کے لیے قوانین بن رہے ہیں، لیکن پاکستان میں ایسی اصلاحات اس لیے ناممکن ہیں، کیوں کہ یہاں کا پورا ڈھانچہ سستی لیبر کے استحصال پر کھڑا ہے۔ پاکستانی نوجوان کے سامنے اس مشقت سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ صرف روزی کمانے والا مزدور نہ بنے، بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کے لیے شعوری جدوجہد کا حصہ بنے۔
    حقیقی حل اِنفرادی کامیابی میں نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر اس استحصالی ڈھانچے کو بدلنے میں ہے۔ جو نوجوانوں کی ذہنی صحت کی قیمت پر اشرافیہ کی عیاشیاں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سماجی اخلاقیات اور خاندانی نظام کی بحالی بھی اسی صورت ممکن ہے، جب ہم انصاف پر مبنی معیشت کی تشکیل کریں۔ ہمیں آج ہی اس نظام کو بدلنے کے شعوری عمل کا حصہ بننا ہوگا، کیوں کہ یہ محض موجودہ نسل کا نہیں، بلکہ آنے والی تمام نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔
    Share via Whatsapp