آج کا دن، ان کے نام، جن کا کوئی عالمی دن نہیں! - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • آج کا دن، ان کے نام، جن کا کوئی عالمی دن نہیں!

    آج کا دن ان سب عظیم جوانوں کے نام جو شادی کے چند ہفتے بعد پردیس کی فلائٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا "ATM" بن جاتے ہیں۔۔۔۔

    By شکیل احمد ساجد Published on Feb 07, 2026 Views 206

    آج کا دن، ان کے نام، جن کا کوئی عالمی دن نہیں!

    تحریر: قاضی شکیل احمد ساجد۔ بہاولنگر 

     

    آج کا دن ان سب عظیم جوانوں کے نام جو شادی کے چند ہفتے بعد پردیس کی فلائٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا "ATM" بن جاتے ہیں۔ جنھیں اپنی بیوی کی جوانی اور اپنے بچوں کا بچپن دیکھنے کا زندگی موقع ہی نہیں دیتی۔

    آج کا دن ان معزز مگر معاشی طور پر مجبور افسران اور جسمانی مشقت کشوں کے نام جو اپنے بچوں کے رزقِ حلال کی کمائی کی خاطر اپنے سینئرز اور سیٹھ کى گالیاں کھا کر بھی مسکرا دیتے ہیں اور جواب میں بس اتنا کہتے ہیں کہ ” کام ٹھیک کروں گا سر! ابھی کا ابھی کروں گا سر“۔

    آج کا دن ان دیہاڑى داروں کے نام جو ہفتے میں ایک دفعہ اپنى بیٹى کا پسندیدہ انڈے والا بن کباب“ لاتے ہیں اور ساتھ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ ان کا پسندیده کھانا تو بس روٹى اور چٹنى ہى ہے۔

    اور آج کا دن میرے والد صاحب کے نام جنھوں نے مجھے زندگی بھر کى خوشیاں دیں اور پھر زندگی بنا بھی دی۔

    آج کا دن ان عظیم مردوں کے نام جو رات کو اپنے چھالے بھرے ہاتھوں کے ساتھ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے لیے گرما گرم مونگ پھلی لاتے ہیں، پھر ساتھ بیٹھ کر قہقہے لگا کر کہتے ہیں ”تم لوگ کھاؤ! میں تو راستے میں کھاتا آیا ہوں“۔

    آج کا دن ان سب مزدوروں، سپروائزروں اور فیلڈ افسروں کے نام جو دن بھر کى تھکان سے ٹوٹے بدن کے باوجود، اپنے بیوى بچوں کے مسکراتے چہرے دیکھنے کے لیے رات کو واٹس ایپ کال کرنا نہیں بھولتے۔

    آج کا دن ان سب دکان داروں اور سیلزمینوں کے نام جو سارا سارا دن اپنے وجود کے ساتھ لیڈیز سوٹ لگا لگا کر کہتے ہیں ”باجی دیکھیں کیسا نفیس پرنٹ اور رنگ ہے“۔

    آج کا دن ہم سب کی حفاظت کے لیے باڈر پہ سینہ تانے اپنی اولاد سے بڑھ کے ہماری خاطر جان کا نذرانہ دینے والے سپوتوں کے نام۔

    آج کا دن ان سب عظیم مردوں کے نام جو ملک کے کسى ایک کونے سے ڈرائیو شروع کرتے ہیں اور پورے پاکستان میں اشیائے تجارت ڈھو کر آ تے ہوئے بیٹی کے لیے کسی اجنبی علاقے کی سوغات لانا نہیں بھولتے۔

    آج کا دن ان عظیم کسانوں کے نام جو دسمبر کی برستی بارش میں سر پر تھیلا لیے پگڈنڈی پگڈنڈی پھر کر کسی کھیت سے پانی نکالتے ہیں اور کسی میں ڈالتے ہیں۔

    آج کا دن ہر نیک نفس، ایمان دار اور محبت کرنے والے باپ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے نام جو اپنے لیے سو نہیں سکتے، لیکن اپنے ”گھر والوں“ کے لیے کماتے ہیں،جن کا کوئى عالمى دن نہیں ہوتا، مگر ہر دن ان کے لیے عالمى دن ہى ہوتا ہے ۔کیوں کہ جن کے لیے وه محنت کرتے ہیں، وہى تو ان کا ” کُل عالم“ ہیں۔

    Share via Whatsapp