شعورِ کلیمی کی ضرب اور فرعونی نظام
تاثرات رمضان المبارک

شعورِ کلیمی کی ضرب اور فرعونی نظام
(تاثرات رمضان المبارک)
تحریر؛ محمدعباس شاد ۔ لاہور
رمضان المبارک کا مہینہ قرآن حکیم میں تدبر اور غور و فکر کی اپنی ایک خاص شان رکھتا ہے۔ رمضان کے گزشتہ مہینے میں ہمیں قرآن پاک میں غور و خوض کے لیے باہم مواقع میسر رہے۔ قرآن مجید میں ذکر کردہ گزشتہ اقوام کے بعض واقعات اور سابقہ اُمتوں کے کچھ معاشرتی کردار ایسے ہیں، جو آج ہمارے دور کے حالات پر چسپاں ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک و معاشرے کے آج کے حالات کو قرآن پاک کے بیان کردہ حالات و واقعات کے تناظر میں پیدا شدہ مسائل کے علاج کی غرض سے دیکھیں تو قرآنی فکر و بصیرت یقینا تیر بہ ہدف نسخہ ثابت ہوگی ۔
قرآنی قصص میں حضرت موسیٰؑ کی فرعون اور اس کے غلامی کے بدترین نظام کے خلاف جدوجہد کا قصہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ہر دور کی ظالم و جابر حکومتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے زیرِ تسلط معاشروں میں تقسیم و تفریق کے طریقوں کو بڑی ہنر مندی سے استعمال کرتی رہی ہیں، تاکہ لوگ گروہوں اور جتھوں میں تقسیم ہوکر باہم دست و گریبان رہیں اور ایک دوسرے کو فنا کرنے کی فکر میں رہیں۔ فرعون نے بھی اپنے ہاں کچھ ایسا ہی ماحول پیدا کر رکھا تھا، جسے قرآن نے یوں بیان فرمایا ہے:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(4:28)
(فرعون چڑھ رہا تھا ملک میں اور کر رکھا تھا وہاں کے لوگوں کو کئی فرقے۔ کمزور کر رکھا تھا ایک فرقے کو اُن میں۔ ذبح کرتا تھا اُن کے بیٹوں کو اور زندہ رکھتا تھا اُن کی عورتوں کو۔ بے شک وہ تھا خرابی ڈالنے والا۔)
فرعون نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا، جس کی تعبیر درباری کاہنوں اور اس کے دانش وروں نے یہ بتائی تھی کہ تیری حکومت کا خاتمہ ایک اسرائیلی لڑکے کے ہاتھوں ہوگا، جس کے بعد فرعون کے حکم سے نومولود اسرائیلی لڑکوں کا قتلِ عام شروع ہوا تھا۔ اس نے پوری قوم میں نگران مقرر کررکھے تھے کہ جہاں خبر ہو کہ بچہ پیدا ہوا ہے، اسے ذبح کردیا جائے، تاکہ نہ لڑکے زندہ رہیں اور نہ ہی بنی اسرائیل کو نوجوانوں کی قوت میسر آئے۔ کیونکہ کسی بھی قوم کی متحرک قوت اس قوم کے نوجوان ہوتے ہیں اور آزادی و حریت کی تحریکات نوجوانوں کے بَل پر ہی پروان چڑھتی ہیں۔ لیکن ریاست کے بااختیار طبقے فرعون کی طرح کبھی بھی یہ نہیں چاہتے کہ اُن کی قلم رَو میں کوئی ایسی تحریک پیدا ہو، جس کی روحِ رواں نوجوان قوت ہو، جو ان کے ظلم وجور کے نظام کو چیلنج کرسکے۔ حضرت موسیٰؑ نے فرعون کو ایک خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی اور شرک وظلم سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر فرعون نے ظالم اور عیار حکمرانوں کی روایت کے مطابق قوم کے لیڈروں کو ذاتی احسانات و نوازشات کا زیر بار کرکے اُن سے قوم کی آزادی کا سودا کرنے کی کوشش کی۔ چناںچہ فرعون نے حضرت موسیٰؑ پر بچپن کے احسان جتلائے اور ایک مصری کے نادانستہ قتل کا معاملہ یاد دلاکر خوف زدہ کرنے کی کوشش کی، لیکن حضرت موسیٰؑ نے کسی ذاتی احسان پر پوری قوم کی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ فرعون نے اپنی حیثیت منوانے کے لیے حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی پر ہر طرح کا دباو ڈالا اور حضرت موسیٰؑ کو قید میں ڈالنے کی دھمکی دی۔ فرعون کے درباریوں نے حضرت موسیٰؑ کو ایک جادوگر قرار دے کر اُن کی دعوتِ حق اور پروگرام کومحض اقتدار پر قبضے کی کوشش قرار دیا۔ فرعون نے حکمرانوں کی حسبِ روایت حق و باطل کی پہچان کے بجائے محض اپنے اقتدار کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے حضرت موسیٰؑ سے کہا کہ تم اس حربے سے مجھے اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہو۔ظالم حکومتوں کا یہ دستور رہا ہے کہ انھوں نے ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو ہمیشہ جنونی اور جادوگر کہا ہے۔ یہ وار ہمیشہ مصلحین کو اپنے سینوں پر سہنے پڑے، لیکن ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔
اب فرعون حضرت موسیٰؑ کی جان کے درپے ہوا اور وہی روایتی ہتھکنڈا کہ حضرت موسیٰؑ سے قوم کے مذہب کو خطرہ ہے اور اس دعوت سے ملک میں بدامنی اور فساد پھیل سکتا ہے۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُ ۖ إِنِّي أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (26:40)
(اور فرعون نے کہا: مجھے موسیٰ کو قتل ہی کرلینے دو اور اس کو چاہیے کہ یہ اپنے ربّ کو پکارے، میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمھارے دین کو بدل ڈالے یا زمین میں فساد برپا کردے۔)
فرعون جب قتلِ موسیٰؑ کے بارے میں اپنے سرداروں سے محو ِگفتگو تھا تو اس مجلس میں ایک مردِ مومن نے جراتِ اظہار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکمت آموز گفتگو سے فرعون کو اپنے ارادے سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ اس پر یہ لوگ حضرت موسیٰؑ کے بجائے اس کے درپے آزار ہوگئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک ارادوں کو پورا نہ ہونے دیا۔
حضرت موسیٰؑ کے عہد میں مصری تمدن میں مصری علوم و فنون میں سحر (جادو) کو مستقل ایک فن کی حیثیت حاصل تھی۔ یوں ساحرین (جادوگر) فرعون کے دربار میں اونچا مرتبہ رکھتے تھے۔ ریاستی معاملات جیسے جنگ و صلح اور فرعون کے اقتدار کو لاحق خطرات کے سدِ باب میں ان کی بہت وقعت تھی۔ چناںچہ حضرت موسیٰؑ کی دعوتِ حق کے مقابلے کی فرعونی حکمتِ عملی یہ ٹھہری کہ اپنے قلم رَو کے ماہر ساحرین ( جادوگروں) کو جمع کرکے حضرت موسیٰؑ کو شکست دے دی جائے۔ ان کرائے کے کارپردازوں کے سحر کی حقیقت شعورِ کلیمی کے مقابلے میں محض شعبدہ بازی اور فریب خیالی تھی۔ چناںچہ یہاں سُنّةُ اللہ کے مطابق اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت جو مشکلات کے باوجود حق پرقائم رہتی ہے، اسے کیسے پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ حقیقت جسے اب تک فرعون اور اس کے درباریوں نے قوم سے پوشیدہ رکھا تھا، اسے ساحرین کی اس جماعت نے برسرِ مجلس تسلیم کرلیا کہ حضرت موسیٰؑ کا یہ عمل جادو سے بالا تر خدا کا برحق معجزہ ہے اور وہ سجدے میں گرپڑے اور اعلان کردیا کہ ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کے ربّ پر ایمان لاتے ہیں اور وہی تمام جہانوں کا ربّ ہے۔