"اَسْمَاءُ الْحُسْنٰی" کی سماجی اہمیت اورہماری شعوری ذمہ داریاں
اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں، سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے انحراف کرتے ہیں۔

"اَسْمَاءُ الْحُسْنٰی" کی سماجی اہمیت اورہماری شعوری ذمہ داریاں
تحریر: محمد اصغر خان سورانی۔ بنوں
اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام جو قرآن مجید میں "اَسْمَاءُ الْحُسْنٰی" کے نام سے معروف ہیں۔ ان صفاتی ناموں میں ذاتِ الٰہی کی عظمت، حکمت، رحمت اور قدرت کے اسرار چھپے ہوئے ہیں۔ اگر انسان ان اسما کے پیچھے چھپے ہوئے اسرار پر غور و فکر کرے، تو وہ اللہ کی عظمت کے نئے زاویوں کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔
یہ اسماء صرف ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دنیاوی اور اُخروی زندگی دونوں میں راہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن مجید اور حدیث میں اسماء الحسنی کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
قرآن مجید اور احادیث میں میں اسماء الحسنی کی اہمیت:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں کی اہمیت پر خصوصی روشنی ڈالی ہے۔ اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالیٰ کے خوب صورت نام قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان ہوئے ہیں، جن کی عظمت اور شان کا اندازہ ان آیات سے ہوتا ہے، جن میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ناموں کو بیان فرمایا ہے۔
ارشاد الہی ہے: "وَ ِلله الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْ اَسْمَآئِهِ"(الاعراف،180 )اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں، سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے انحراف کرتے ہیں۔ یہ آیت اسماء الحسنی کے ذریعے اللہ کو پکارنے کی اہمیت اور فضیلت کو واضح کرتی ہے۔
سورۃ الاسراء کی آیت 110 میں ہے: "قُلِ ادْعُوا اللهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ط اَیامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی۔ " فرما دیجیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں"۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ تمام اسماء الحسنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ان میں سے کسی بھی نام سے اللہ کو پکار سکتے ہے، کیوں کہ یہ سب اسی کی ذات پر دلالت کرتے ہیں۔
سورۃ الحشر کی آیت 22 میں اللہ تعالیٰ کی شان میں ارشاد ہوتا ہے: "هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَج عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ج هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ۔ " وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے"۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ ناموں کی عظمت بیان فرمائی ہے، جو اس کی ذات کی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسی سورت کی آیت 24 میں مزید ارشاد ہوتا ہے: "هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِء الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی۔ " یعنی وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے، عدم سے وجود میں لانے والا (یعنی ایجاد فرمانے والا) ہے، صورت عطا فرمانے والا ہے۔ الغرض! سب اچھے نام اسی کے ہیں"۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے خالق، باری اور مصور جیسے ناموں کو بیان کرتی ہے، جو تخلیق کاری کے مختلف مراحل کو ظاہر کرتے ہیں۔
احادیث میں بھی اسماء الحسنی کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ بخاری اور مسلم کی روایت کے مطابق: "إِنَّ ِللهِ تِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ اسْمًا: مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ اَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ۔"یعنی اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) اسماء مبارکہ ہیں یعنی سو سے ایک کم۔ جس نے ان سب کو یاد رکھا وہ جنت میں داخل ہوا"
ایک اور روایت میں آتا ہے: "ِللهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا، لَا يَحْفَظُهَا اَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ۔ " اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء مبارکہ ہیں، یعنی سو سے ایک کم۔ جس نے اُنھیں یاد رکھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (یہ اسمائے مبارکہ جفت کے بجائے طاق اس لیے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ وتر (یکتا) ہے اور وتر (یکتائی) کو پسند فرماتا ہے" یہاں اسماء الحسنی کی وتر (طاق) تعداد کی حکمت بھی بیان کی گئی ہے۔
ابو نعیم کی روایت میں اسماء الحسنی کے ساتھ خلوص کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے: "ِللهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ اسْمًا مَنْ اَحْصَاهَا وَاَخْلَصَ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جس نے اِنھیں یاد کیا اور ان اسماء کے ذریعے اللہ سے خالص محبت کی وہ جنت میں داخل ہوگا"۔ یہ نشان دہی کرتا ہے کہ صرف ناموں کا یاد کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ خلوص کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ خلو ص کیا ہے؟ کیا یہ ذمہ داری کا دوسرا نام نہیں ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں۔
1۔ بہ طور خلیفہ ارضی انسان کی ذمہ داری:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب کا درجہ دیا ہے۔ اس ذمہ داری کے تحت انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے قوانین کو اپنائے، اللہ کی صفات کو اپنی زندگی میں لاگو کرے اور ایسا نظام قائم کرے، جس سے تمام مخلوقات مستفید ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام انسان کے کردار کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ ہیں اور ان کی روشنی میں انسان اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے۔
2۔ عادلانہ سماجی نظام کے قیام کی ذمہ داری:
اللہ تعالیٰ کا نام "حفیظ" اس کی حفاظت کرنے والی صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ نام ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرتا ہے۔ اس صفت کی روشنی میں انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمین پر ایسا عادلانہ نظام قائم کرے، جس میں ہر فرد کی جان محفوظ ہو اور ظلم و ستم سے بچایا جائے، لوگوں کے مال اور حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ہر شخص کی عزت و وقار کو محفوظ رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک مضبوط قانونی اور عدالتی نظام قائم کرنا، امن و امان کی بحالی اور ہر قسم کے جرائم کی روک تھام ضروری ہے۔
3۔ خوش حال معاشی نظام قائم کرنے کی ذمہ داری:
اسی طرح، اللہ تعالیٰ کا نام "رزاق" اس کی رزق دینے والی صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ ہر انسان کو اس کی ضرورت کے مطابق رزق عطا کرتا ہے اور زمین کے تمام وسائل انسانیت کے فائدے کے لیے مہیا کیے گئے ہیں۔ اس صفت کی روشنی میں انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قدرتی وسائل کا عادلانہ استعمال کرے، ان وسائل کو بربادی سے بچائے اور تمام لوگوں کے لیے ان کی مساوی تقسیم یقینی بنائے۔ اس میں خاص طور پر یہ شامل ہے کہ حکومت ان وسائل کو عام لوگوں کے لیے قابل رسائی بنائے، اقتصادی انصاف قائم کرے اور غریبوں کے لیے ایسے پروگرام ترتیب دے، جن سے وہ روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں۔
پرامن سیاسی نظام کے قیام کی ذمہ داری:
عملی طور پر انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زمین پر انصاف اور امن کا نظام قائم کرے۔ اس کے لیے مضبوط قانونی اور عدالتی نظام کی ضرورت ہے جو ہر قسم کے جرائم کو روک سکے۔ اس کے علاوہ تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں کو اخلاقی اور معنوی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے، تاکہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کریں۔ قدرتی وسائل کی تقسیم میں انصاف، غریبوں کو معاشی مواقع فراہم کرنا، اور جدید معاشی نظام قائم کرنا بھی انسان کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔
"اَسْمَاءُ الْحُسْنٰی" کی نورانیت
اسماء الحسنی کی روحانیت کا ایک نمایاں مظہر سورۃ النور میں بیان ہوا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "الله نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔" اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ یہ نام اللہ کی روشنی کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ کائنات میں جتنی بھی روشنیاں ہیں، ان کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ اسم مبارک روحانی زندگی میں ایک گہرا اَثر رکھتا ہے، کیوں کہ یہ انسان کے دل و دماغ کو روشن کرکے اسے تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسماء الحسنیٰ اور نماز
اسماء الحسنی کا عملی استعمال ہماری عبادات اور روزمرہ زندگی میں نمایاں ہے۔ نماز میں، جو اسلام کا دوسرا بنیادی رکن ہے، ہم تشہد میں کہتے ہیں: "اَلتَّحِيَاتُ للهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُهَا النَّبِيُّ، وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ۔" اس میں ہم اللہ کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ نماز کے ہر رکن ، قیام ، رکوع ، سجدہ اور تشہدمیں، ہم اللہ کے ناموں کا ذکر کرتے ہیں۔
اسماءالحسنیٰ اور ہماری روزمرہ زندگی
روزمرہ زندگی میں ذکر کی اہمیت کا تذکرہ سورۃ الدھر آیت 25 میں ہے: "وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًا۔" یعنی اپنے رب کے نام کا ذکر صبح و شام کرو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ہر وقت، خاص طور پر صبح اور شام، اللہ کے نام کا ذکر کرنا چاہیے۔ یہ ذکر انسان کو ہر وقت اللہ کی یاد میں مبتلا رکھتا ہے، اور اس سے انسان کے دل میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
مشکلات اور پریشانیوں کے وقت اسماء الحسنی سے مدد طلب کرنا بھی ایک مؤثر طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر، "یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ" کا ورد ہمیں یاد دِلاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ یہ نام اللہ کی حیات اور قیام کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں، جو انسان کو اطمینان دِلاتے ہیں کہ وہ ہر وقت ہماری مدد کرنے کے قابل ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی مشکل میں ہوتے تو یہی دعا کرتے۔
اسماء الحسنی کے عملی تقاضے:
خلاصہ کلام: اسماء الحسنی انسان کے لیے نہ صرف معرفتِ الٰہی کا ذریعہ ہیں، بلکہ یہ اس کی عملی زندگی میں بھی راہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں کے ذریعے انسان اپنے کردار کو سنوار سکتا ہے، عدل، رحم، عفو، احسان اور دیگر اعلیٰ صفات کو اپنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ان ناموں کی فضیلت اور تاثیر کو بارہا اُجاگر کیا گیا ہے، تاکہ انسان ان کے ذریعے اپنی روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کر سکے۔ اگر انسان اسماء الحسنی کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر عمل کرے تو نہ صرف وہ اللہ کی قربت حاصل کر سکتا ہے بلکہ ایک متوازن، منصفانہ اور پرامن معاشرہ بھی قائم کر سکتا ہے۔