ماہِ رمضان المبارک: محض عبادت یا سماجی بیداری کا مہینہ؟
قرآن کہتا ہے: "كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" (البقرة: 183)

ماہِ رمضان المبارک: محض عبادت یا سماجی بیداری کا مہینہ؟
تحریر: کلیم اللہ۔ بنوں
رمضان کا مقدس مہینہ ہے۔ ہر طرف ایک خاص روحانی فضا محسوس ہورہی ہے۔ ہر طرف اِنفرادی طور پر عبادات پر زور دیا جارہا ہے۔ کوئی تلاوت کی کثرت پر فخر کررہا ہے، تو کوئی تہجد میں نوافل کا ذکر کررہا ہے۔ کوئی اپنی مسجد میں تین راتوں میں ختمِ قرآن پر اپنے قاری صاحب کو داد دے رہا ہے۔ کوئی روزے کی بھوک اور پیاس کو بیان کر رہا ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے نیک امور زیربحث ہیں،لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ مہینہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ کیا رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام ہے؟ یا یہ ہمیں کچھ بڑا سکھانے اور جگانے آیا ہے؟
قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: "کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ۔ ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔" (سورۃ البقرہ: 183)
یعنی یہ مہینہ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے ہے۔ لیکن تقویٰ صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ حیات تک محیط ہے — جہاں اللہ کا خوف صرف ذاتی معاملات میں نہیں، بلکہ سماج کے ہر پہلو میں نظر آنا چاہیے۔
روزہ ہمیں بھوک کا تجربہ دیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ تجربہ ہمیں سماج کے اندر ناچتی بھوک کا احساس دِلاتا ہے یا نہیں؟ ہم سارا دن خالی پیٹ رہ کر غریب کی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ سارا سال کس حال میں جیتا ہے؟
ہماری افطاری پر بے شمار کھانے ہوتے ہیں، مگر مزدور کی سحری اور افطاری شاید صرف ایک سوکھی روٹی پر ہو۔ ہم اپنے لیے نئے کپڑے خریدتے ہیں، مگر سماج کے اندر یتیموں اور معاشی محروموں کے پاس عید کے دن پہننے کو کچھ ہوتا ہے؟ہمیں یہ احساس صرف چند لمحوں کے لیے ہوتا ہے، پھر ہم بھول جاتے ہیں۔ اگر رمضان ہمیں دوسروں کی تکلیف محسوس کرنا نہ سکھائے، تو روزے کی روح تو سماج میں قائم نہیں ہوئی؟ جس پر ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔
یہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، لیکن کیا ہم قرآن مجید سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں، یا صرف اس کی تلاوت کر کے ثواب کما رہے ہیں؟
قرآن مجید عدل کی بات کرتا ہے، مگر ہم اپنی زندگی میں انصاف سے کتنا کام لیتے ہیں؟ قرآن مجید غریبوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، مگر کیا ہم ان کے حقوق دینے کے لیے صالح سسٹم کے قیام کے لیے آواز اٹھاتے ہیں؟
قرآن مجید ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے، مگر ہم ظالم کے ظلم پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ قرآن مجید ہمیں دعوت دیتا ہے:"لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ" (الحدید: 25)
اللہ نے کتاب اور میزان (عدل) نازل کیے، تاکہ لوگ انصاف قائم کریں۔ مگر ہم نے قرآن مجید کو صرف طاق پر سجا دیا ہے اور اپنے اردگرد ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔
رمضان صرف ذاتی نجات کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ اجتماعی بیداری اور سماجی تبدیلی برپا کرنے کا مہینہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم خود سے اوپر اٹھ کر دوسروں کے بارے میں سوچیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ معاشرہ صرف ذاتی نیکیوں میں اضافے سے نہیں، بلکہ ناانصافی کے خاتمے سے بدلے گا۔ یہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ اصل کامیابی صرف ذاتی عبادات میں نہیں، بلکہ ایسے نظام کی تشکیل میں ہے جہاں ہر شخص کو اس کا حق ملے۔
ہم رات کو قیام کرتے ہیں، طویل دعائیں مانگتے ہیں، مگر دن میں ظالموں کے سامنے خاموش رہتے ہیں۔ یہ خاموشی ہمیں کہاں لے جا رہی ہے؟ اگر رمضان میں ہم ظالم کے خلاف نہیں بول سکتے، اگر ہم استحصالی نظام کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتے،اور کسی منظم جدوجہد کاحصہ نہیں بنتے تو پھر کس دن کے انتظار میں ہیں؟
اگر ہم اپنی زکوٰۃ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ نظام ایسا ہے کہ اس کی وَجہ سے ہر سال مزید لوگ غریب ہو رہے ہیں، تو کیا یہ کافی ہے؟
یہ مہینہ ہمیں چپ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ بیدار ہونے کے لیے آیا ہے۔ اصل کامیابی صرف زیادہ اِنفرادی عبادت میں نہیں، بلکہ انسانیت کے دکھ درد اور سماجی عدل اقتصادی کے لیے کام کرنے میں ہے۔
اگر ہم نے روزے رکھے، مگر غریب کی بھوک کا مستقل حل نہ سوچا، قرآن مجید پڑھا، مگر عدل کے قیام کے لیے نہ اُٹھے، ظالم کے ظلم کو برداشت کیا، مگر اس کے خاتمے کے لیے مزاحمتی نظریہ اور عمل نہ کیا، تو ہم ناکام ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا: رمضان کے بعد ہم میں کیا تبدیلی آئی؟ یہ مہینہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے آیا ہے۔ اگر ہم واقعی رمضان کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ بھوک کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔ اسلامی معیشت اور عدل و مساوات کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ مسجد کے ساتھ ساتھ بازار، دفتر اور سیاست میں بھی ایمانی اصولوں کو لے کر آنا ہوگا۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں صرف بھوکا پیاسا رہنا ہے یا رمضان کی روشنی کو اپنی زندگی میں اُتارنا ہے؟
ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ لاہور نوجوانوں کے لیے ایک ایسا تعلیم و تربیت کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، جہاں ان سوالات کے جوابات مل جاتے ہیں اور زندگی بامقصد امور میں صرف ہوجاتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ اس ادارے کے نظام تعلیم و تربیت کو جوائن کر کے اپنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں۔