فرعونی نظام کے خاتمے کا قرآنی ماڈل ؛ فَكُّ کُلِّ نِظَام
قرآن ِحکیم ایسے مائنڈ سیٹ کو ”فرعونی نظام“ قرار دیتا ہے، جس میں بے گناہوں کا خون پانی کی طرح بہایا جاتا ہے (البقرہ، 49)، ہوش رُبا مہنگائی اور ۔۔۔۔۔
فرعونی نظام کے خاتمے کا قرآنی ماڈل ؛ فک کل نظام
تحریر: سفیان خان (بنوں)
قرآن ِحکیم ایسے مائنڈ سیٹ کو ”فرعونی نظام“ قرار دیتا ہے، جس میں بے گناہوں کا خون پانی کی طرح بہایا جاتا ہے (البقرہ، 49)، ہوش رُبا مہنگائی اور بھوک و افلاس کی آزمائش سے عام آدمی کی کمر توڑ دی جاتی ہے (النحل، 112)، پوری قوم کو عالمی طاقتوں کی غلامی میں جکڑ کر انھیں ذہنی طور پر مفلوج کردیا جاتا ہے۔ (الزخرف، 54)، ملکی اشرافیہ اپنی عیاشیوں کے لیے پسے ہوئے طبقے کا خون چوستی ہے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ (الاسراء، 16)بہ ظاہر یہ بکھرے ہوئے مسائل لگتے ہیں، مگر درحقیقت یہ سب ایک ہی زہریلے درخت (شجرۃ خبیثہ) کی شاخیں ہیں۔ (ابراہیم، 26)فرعونی نظام کا ماڈل ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تکبر کرتا ہے، انسانوں کو گروہوں (فرقوں) میں بانٹتا ہے اور کمزوروں کا معاشی و سماجی استحصال کرتا ہے۔ (القصص، 4)
اس ظلم کی چکی سے نکلنے کا حل محض چہرے بدلنا یا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے کسی مسیحا کا انتظار کرنا نہیں، کیوں کہ اللہ بھی کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے آپ کو بدلنے کی جدوجہد نہ کرے (الرعد، 11) تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاغوت غالب آیا، اللہ نے ہر دور میں انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجا اور انھوں نے ظلم کو گِرانے کے لیے ایک ”مشترکہ انقلابی ماڈل“ اپنایا (النحل، 36) ان تمام انبیاعلیہم السلام کی جدوجہد میں ”فک کل نظام“ (یعنی باطل کے مکمل خاتمے) کا نظریہ بالکل مشترک رہا ہے۔
اس باطل کے خاتمے کا ابراھیمی ماڈل یہ ہے کہ دعوت کا آغاز ہی ظالمانہ نظاموں (نمرود اینڈ پارٹی) سے مکمل بغاوت سے کیا جائے، اور مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر باطل کے تراشے ہوئے بتوں اور فرسودہ رسموں پر براہِ راست ضرب لگائی جائے (الانبیاء، 57-58)۔
ایسے ظالمانہ نظام کو گِرانے کا موسوی ماڈل یہ ہے کہ کبھی ظالم نظام کی چھتری تلے یا اس کی 'B-Team' بن کر کام نہ کیا جائے، بلکہ وقت کی سپر پاورز (فرعون اور اس کی قوت حاکمہ) کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انھیں للکارا جائے اور مظلوم انسانوں کی آزادی کا دو ٹوک مطالبہ کیا جائے (طہٰ، 43-47)۔ چوں کہ انقلاب تنہا فردِ واحد کا کام نہیں، اس لیے انبیاعلیہم السلام کا ایک مشترکہ طریقہ کارمنظم اجتماعیت کی تشکیل رہا ہے، جس میں نوجوانوں کو شعور دے کر ایک ایسی منظم جماعت تیار کی جاتی ہے جو خیر کی طرف بلائے اور ظلم کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جائے (آل عمران، 104/الصف، 4)۔
”فک کل نظام“ (باطل کے مکمل خاتمے) کا نبویؐ ماڈل یہ ہے کہ محض چند سطحی اصلاحات (Reforms) کا دھوکا نہ کھایا جائے، بلکہ پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑا جائے اور یہ فیصلہ کن مزاحمت (Resistance) اس وقت تک جاری رکھی جائے، جب تک سارا کا سارا نظامِ زندگی عدلِ الٰہی کے تابع نہ ہو جائے (الانفال، 39/الصف، 9)۔
یاد رکھیں!
اللہ کی اس سنت اور انبیاعلیہم السلام کے اس انقلابی پروگرام میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی ۔(الاحزاب، 62)۔ جب تک ہم شخصیات اور شارٹ کٹس کے سراب سے نکل کر، حق پرستوں کا ساتھ دیتے ہوئے (التوبہ، 119) ایک منظم جماعت کی صورت میں اس مزاحمتی راستے پر نہیں چلیں گے، یہ فرعونی نظام یونہی ہماری نسلوں کو نگلتا رہے گا۔ اَب ہم نے اپنا احتساب لینے کے لیے خود سے چند سوالات پوچھنے چاہییں:
1۔ کیا ہم بہ حیثیت قوم خود کو دینِ اسلام سے مکمل وابستہ کہ سکتے ہیں؟ قرآن کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ ”جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، وہی کافر، ظالم اور فاسق ہیں“۔ (المائدہ، 44, 45, 47)
2۔ کیا ہم آج کے فرعونوں اور استحصالی نظاموں کا کھلم کھلا انکار (کفر بالطاغوت) کرنے کو تیار ہیں؟ (البقرہ، 256) یا روزِ قیامت اللہ کے حضور یہی عذر پیش کریں گے کہ ”اے رب! ہم نے اپنے لیڈروں اور وڈیروں کی اندھی تقلید کی جنھوں نے ہمیں گمراہ کر دیا؟“ (الاحزاب، 67)
3۔ کیا ہم یونہی کسی غیبی مسیحا کے انتظار میں بنی اسرائیل کی طرح یہ کہہ کر بیٹھے رہیں گے کہ ”تم اور تمھارا رب جا کر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں؟“ (المائدہ، 24) یا انبیاعلیہم السلام کے طریقے پر اپنی حالت خود بدلنے کی عملی جدوجہد کا حصہ بنیں گے؟ (الرعد، 11)
4۔کیا ہم ”فک کل نظام“ کا ایجنڈا رکھنے والی حق پرست جماعت کو تلاش کر کے پورے کے پورے دین میں داخل ہوں گے؟ (البقرہ، 208) یا باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرکے محض سطحی اصلاحات پر ہی راضی ہو جائیں گے؟ (القلم، 9)
5۔کل روزِ محشر جب ہر انسان کو اس کے دنیاوی لیڈر (امام) کے ساتھ بلایا جائے گا (الاسراء، 71) تو کیا ہمارا شمار ظالموں کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ان خاموش تماشائیوں میں ہوگا جنھیں آگ چھوئے گی ۔(ھود، 113)، یا باطل کے خلاف سینہ سِپَر ہونے والے حق پرستوں میں؟
فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے!









