سماجی تبدیلی کے لیے قرآن حکیم کے چند رہنما سنہرے اصول
منظم آرگنائزیشن جب تربیت اور تشکیل کے مرحلے سے گزرتی ہے تو اس کے بانی اور مشیران، آنے والے کٹھن راستوں کے پیشِ نظر، کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے
سماجی تبدیلی کے لیے قرآن حکیم کے چند رہنما سنہرے اصول
تحریر؛ محمد اصغر خان سورانی۔ بنوں
ہر منظم آرگنائزیشن جب تربیت اور تشکیل کے مرحلے سے گزرتی ہے تو اس کے بانی اور مشیران، آنے والے کٹھن راستوں کے پیشِ نظر، کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے انھیں بار بار نصیحت کرتے ہیں۔ یہ نصیحتیں محض جذباتی کلمات نہیں ہوتیں، بلکہ ماضی کے تجربات، آزمائشوں اور قربانیوں کا نچوڑ ہوتی ہیں، جو جماعت کو وقتی دَباؤ سے نکال کر اپنے نصب العین سے جوڑے رکھتی ہیں۔
جب نبی اکرمﷺ مکہ مکرمہ میں ابو جہل کے فرعونی سماج کے خلاف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مشتمل ایک صالح جماعت کی تیاری فرما رہے تھے تو آپﷺ کے انقلابی تعلیم کا جامع ترین نصاب ”قرآن حکیم“ نے ایسے ”آفاقی اصول“ عطا کیے جو رہتی دنیا تک ہر دور کی تحریکی جدوجہد کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انھی اصولوں میں سے ایک نہایت بنیادی اور حوصلہ افزا اصول یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ ہی آسانی وابستہ ہوتی ہے۔ یہی وہ انقلابی یقین ہے، جسے سورۃ الم نشرح کی آیت نمبر ۵ میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے: ”فان مع العسریسرا“
”بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے“۔
سورۃ الم نشرح مکی دور میں نازل ہوئی، جب نبی کریم ﷺ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی شدید ابتلاء، سماجی بائیکاٹ، فکری تمسخر اور جسمانی اذیتوں سے گزر رہے تھے۔ مفسرین کے مطابق اس آیت کا کوئی محدود یاجزوی سببِ نزول نہیں، بلکہ یہ مکی دور کے سخت ابتلا کے مجموعی پس منظر میں نازل ہوئی، جس میں:
کفارِ مکہ کی مسلسل مخالفت
دعوتِ توحید پر طنز و استہزا
وسائل کی کمی اور افرادی قلت
اور نبی کریم ﷺ پر نبوت کی عظیم ذمہ داری کا بوجھ وغیرہ مکی دور کی تمام مشکلات و مصائب اور آلام و شدائد شامل ہیں ۔
امام ابنِ کثیرؒ اور امام قرطبیؒ کے مطابق یہ آیات رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک کو تسلی دینے اور یہ یقین دِلانے کے لیے نازل ہوئیں کہ دعوتِ حق کی موجودہ سختیاں دائمی نہیں۔ شعبِ ابی طالب کا محاصرہ، سفر وادئ طائف کی جسمانی اذیت اور مکہ کا گھٹن زدہ ماحول—یہ سب ”عُسر“ (مشکلاتِ راہ)کے عملی مظاہر تھے، مگر انھی دِنوں میں مستقبل کے ”یُسر“ کی بنیادیں رکھی جارہی تھیں۔ اس طرح شانِ نزول کے اعتبار سے یہ آیت کسی ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ نبوی جدوجہد کے پورے مکی مرحلے کی ترجمان ہے، اور اسی بنا پر یہ ہر اُس جماعت اور ہر اُس دور کے لیے ہے جو حق کی راہ میں آزمائشوں سے گزر رہا ہو۔
آیت بہ طور منشورِ انقلاب
اس آیت کریمہ میں ایک انقلابی اعلان ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی حق کی جماعت دَباؤ، قلت، مخالفت اور آزمائشوں میں گھِر جاتی ہے تو (بعد میں نہیں، بلکہ) ساتھ ہی ساتھ قرآن یہاں ان مردان حق کو یہ باور کراتا ہے کہ مشکلات کوئی حادثہ نہیں، بلکہ تحریکِ حق کے فطری مراحل ہیں، اور انھی مراحل کے اندر فتح کے بیج رکھ دیے جاتے ہیں۔
مایوسی کے فلسفے کی جڑ کاٹ دینا
یہ آیت سب سے پہلے مایوسی کے نظریے کو منہدم کرتی ہے۔ قرآن مردِ مؤمن کو قطعاً یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ حالات کے بپھرے رخ کو دیکھ کر ہتھیار ڈال دے، بلکہ گِرنے کے بعد بھرپور ہمت اور نئے ولولے و جذبے کے ساتھ دوبارہ اُٹھے اور آگے بڑھنے کی کوشش جاری رکھے۔
”عُسر“ (مشکلات راہ) کو مستقل انجام مان لینا، درحقیقت اللہ کی سنت سے ناواقفیت ہے۔ یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ مایوسی کفرانِ نعمت ہے اور امید ایمان کا لازمی تقاضا۔ کیوں کہ جہاں ”عُسر“ ہے، وہیں اس کے پہلو بہ پہلو غیرمحسوس انداز میں ”یُسر“ بھی کام کررہا ہے جو اگر نظر آئے تو بصیرت وگرنہ یقین تو ہے ہی۔
مفسرین کی متفقہ شہادت
آئمۂ تفسیر اس آیت کو محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک قطعی، ہمہ گیر اور غیر متبدل قانونِ الٰہی قرار دیتے ہیں۔ امام طبریؒ کے نزدیک یہ آیت نبی کریم ﷺ اور اہلِ ایمان کو یہ شعور دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشکلات کو بے مقصد نہیں چھوڑا، بلکہ ان کے ساتھ ہی کشادگی، مدد اور نصرت کو وابستہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ”یُسر “ کوئی بعد کی چیز نہیں، بلکہ آزمائش کے ساتھ ساتھ کارفرما ہوتا ہے، اگرچہ ابتدا میں وہ پردۂ غیب میں ہوتا ہے۔
امام ابنِ کثیرؒ اس آیت کی تشریح میں نہایت اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ”العُسر“ معرفہ کے ساتھ آیا ہے، جو ایک متعین اور محدود مشکل کی طرف اشارہ ہے، جب کہ ”یُسرًا“ نکرہ آیا ہے، جو کثرت اور وُسعت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی بنا پر وہ مشہور اصول نقل کرتے ہیں: ”لن یغلب عسرٌ یسرین“ — ”ایک عسر کبھی دو یسروں پر غالب نہیں آسکتا“ یہ تشریح تحریکی جدوجہد کے لیے غیرمعمولی معنویت رکھتی ہے، کیوں کہ یہ وقتی دَباؤ کو حتمی انجام سمجھنے کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔
امام فخرالدین رازیؒ اس آیت کو عقلی اور فکری سطح پر کھولتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آسانی مشکل کے بعد آتی تو قرآن ”بعد العسر“ کہتا، مگر ”مع العسر“ (مشکل کے ساتھ) کہہ کر یہ اصول طے کر دیا گیا کہ حل، مزاحمت کے بطن میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ آیت انسان کو مایوسی کے فلسفے سے نکال کر امید، تدبیر اور شعوری جدوجہد کی طرف منتقل کرتی ہے۔
امام قرطبیؒ اس آیت کو سنتِ الٰہیہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اہلِ ایمان کے لیے آسانی کبھی ظاہری غلبے کی صورت میں آتی ہے، کبھی قلبی سکون، اور کبھی آخرت کے عظیم اجر کی شکل میں۔ اس اعتبار سے یہ آیت ہر اس جماعت کے لیے پیغام ہے جو حق پر قائم ہو اور وقت کی فرعونیت، جبر اور فتنوں کا سامنا کر رہی ہو۔
یوں مفسرین کے اجماعی فہم کے مطابق ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ (بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے) محض تسلی نہیں، بلکہ تحریکی قانون، فکری بنیاد اور عملی رہنمائی ہے، جو اہلِ حق کو یہ یقین عطا کرتی ہے کہ تاریخ کی ہر سخت گھڑی اپنے اندر آسانی اور فتح کے اِمکانات سموئے ہوئے ہے۔
نبوی منہج اور سماجی تبدیلی کے مراحل
نبی کریم ﷺ کی سیرت اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔ مکہ کی کمزوری، شعبِ ابی طالب کی محصوری، طائف کی تکلیفیں—یہ سب ”عُسر“ (مشکلاتِ راہ) کی مختلف شکلیں تھیں، مگر انھیں کے ساتھ ہجرت حبشہ ، معراج کی رفعتیں، بیعتِ عقبہ، مدینہ کی بنیاد اور عالمی انقلاب کا ”یُسر“ بھی پروان چڑھ رہا تھا۔ نبوی منہج ہمیں سکھاتا ہے کہ تحریکیں نعروں سے نہیں، صبر اور حکمت سے کامیاب ہوتی ہیں۔
آیت مذکورہ سے ایک سماجی تبدیلی کی کوشش کرنے والی جماعت کے لیے جو رہنما اصول کار معلوم ہوتے ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔
1۔ صبرِ منظم
یہ آیت جماعت کو غیرجذباتی، منظم اور مستقل رہنے کا حکم دیتی ہے۔ وقتی ناکامی، وسائل کی کمی اور مخالفت، تحریک کے خاتمے کی دلیل نہیں، بلکہ تحریک کے زندہ ہونے کی علامت ہیں۔ انقلابی جماعت کو یہ شعوری یقین ہونا چاہیے کہ ”عُسر“ کا مرحلہ دراصل ”یُسر“ کی تیاری ہے۔
2۔ اخلاقی بلندی
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ آسانی کے حصول کے لیے اصول قربان کر دیے جائیں۔
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:
ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جسے عیش میں خوف خدا نہ رہا
اس لیے نبوی انقلاب کی خاص پہچان یہی تھی کہ مشکلات میں بھی اخلاق، دیانت اور عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا۔ حرام راستے سے آنے والی آسانی، قرآنی ”یُسر“ نہیں ہوتی۔
3۔ امید افزا بیانیہ
تحریکی جماعت کا بیانیہ خوف، شکوہ یا شکست خوردگی پر نہیں، بلکہ یقین، امید اور قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ یہ آیت کارکن کے دل میں یہ یقین راسخ کرتی ہے کہ وہ تاریخ کے غلط رخ پر نہیں، بلکہ الٰہی سنت کے درست بہاؤ میں کھڑا ہے۔ یہی یقین جماعت کو نہ صرف یہ کہ ٹوٹنے سے بچاتا ہے، بلکہ اسے نئے حوصلے و بلند ہمت سے بھی روشناس کرواتا ہے ۔
دورِ حاضر کی مشکلاتِ راہ اور قرآنی حکمتِ عملی
آج کا ”عُسر“ (مشکلاتِ راہ) ریاستی جبر، فکری انتشار، میڈیا کی یلغار اور اخلاقی زوال کی صورت میں ہے۔ قرآن کی رہنمائی یہ ہے کہ ان حالات میں جلدبازی کے بجائے فکری تیاری، تنظیمی استحکام اور اخلاقی برتری کو مضبوط کیا جائے۔ یہی وہ ”یُسر“ ہے جو بہ ظاہر کمزور مگر حقیقت میں فیصلہ کن ہوتا ہے۔
کارکن کی نفسیات کی تشکیل
یہ آیت کارکن کو بتاتی ہے کہ وہ حالات کا قیدی نہیں، بلکہ اللہ کی سنت کا امین ہے۔ شکست کا احساس دراصل نظر کی کمزوری ہے، حقیقت کی نہیں۔ جب کارکن یہ سمجھ لیتا ہے کہ ”یُسر“، ”عُسر“ کے ساتھ ہے، تو وہ دَباؤ میں بھی متوازن، پرعزم اور متحرک رہتا ہے۔
چناں چہ یہ آیت تحریکِ حق کا حلف نامہ ہے۔ یہ اعلان ہے کہ تاریخ کا پہیہ طاقت سے نہیں، بلکہ حق، صبر اور یقین سے گھومتا ہے۔ جو جماعت نبوی منہج پر ثابت قدم رہے، اس کے لیے آسانی محض امکان نہیں، بلکہ اللہ کا قطعی وعدہ ہے۔









