حقیقت کی جستجو:ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ ؒ کا مکالمہ
یہ مکالمہ سرمایہ داریت، اشتراکیت اور اسلامی نظامِ حیات کے درمیان ایک فکری ٹکراؤ ہے، جہاں شاہ ولی اللہ انسانی فطرت پر مبنی ایک متبادل حل پیش کرتے ہیں ۔
یہ مکالمہ سرمایہ داریت، اشتراکیت اور اسلامی نظامِ حیات کے درمیان ایک فکری ٹکراؤ ہے، جہاں شاہ ولی اللہ انسانی فطرت پر مبنی ایک متبادل حل پیش کرتے ہیں ۔
دنیا میں قائم سرمایہ دارانہ نظام کس قدر بھیانک ہے اور انسانیت کا استحصال کررہا ہے کہ۔۔۔۔۔
افیون (opium) میں موجود اجزا جیسے مورفین (morphine)، کوڈین (codeine) اور تھیبائن (thebaine) دماغ اور جسم میں موجود ۔۔۔۔۔
عبادات کا ایک اہم مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرناہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے کہ ......
پاکستان برائے فروخت؛ ۔۔سیل سیل سیل : میگا آف ۔۔۔!
اور آخر کار پرنسپل صاحب نے تنگ آکر اسے سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہاتھ میں تھما دیا،جس میں لکھا تھا:
پاکستان 1947 کو وجود میں آیا ، جس کی منظوری برطانوی پارلیمنٹ نے دی، انڈیا ایکٹ 1935 کو بطور آئین پاکستان کے تسلیم کیاگیا۔ آٹھ سال بعد یعنی 1956 ......
ایک چھوٹے سے پرامن گاؤں میں ایک دولت مند آدمی رہتا تھا۔ وہ اپنی سخاوت، انسان دوستی اور رحم دلی کے لیے کافی مشہور تھا۔ اس نے ایک شام پورے گاؤں کو ۔۔۔۔۔
اس مضمون میں شاہ ولی اللہ ؒ کے نظریہ” فک کل نظام“ کی روشنی میں حب الوطنی اور اجتماعی کوششوں سے برین ڈرین اور دیگر قومی مسائل کا حل پوشیدہ ہے ۔