وادی تیہ: زوال یافتہ سماج میں نرسری تیار کرنے کا تربیتی میدان - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • وادی تیہ: زوال یافتہ سماج میں نرسری تیار کرنے کا تربیتی میدان

    دور حاضر زوال یافتہ سماج کو غلامی ،بدامنی ،دہشتگردی ،بھوک و افلاس ،غربت ، بے روزگاری وغیرہ عذاب سے نجات دلانے کا واحد حل قرآن کریم و اسوہ رسول صہ

    By صادق اللہ Published on May 26, 2026 Views 185

    وادی تیہ: زوال یافتہ سماج میں نرسری تیار کرنے کا تربیتی میدان

    (وطن عزیز کے حالات کے تناظر میں)

    تحریر : صادق اللہ، پشاور

     

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے،ترجمہ: ”اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب پیدا کئے اس نے تم میں نبی اور کردیا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں“۔(المائدہ:20)

    پھر آگے چل کر ارشاد ہوا

    ‌ترجمہ:”فرمایا تحقیق وہ زمین حرام کی گئی ہے ان پر چالیس برس،  سر مارتے پھریں گے ملک میں، سو تو افسوس نہ کر نافرمان لوگوں پر “۔(المائدہ:26)

    اسی طرح ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

    تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے، بالشت بہ بالشت، ہاتھ بہ ہاتھ، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے“۔ 

    ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہود و نصاریٰ؟  

    آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اور کون؟“(صحیح بخاری حدیث نمبر: 7320)

    حضرت موسیٰ علیہ السلام  اپنی قوم پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے انھیں شکر ادا کرنے کا کہتے ہیں، سب سے بڑا انعام فرعونی نظام سے آزادی تھی۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے، جس کے بعد انسان سیاسی، معاشی اور معاشرتی  ترقی کی منازل کامیابی کے ساتھ طے کرتاہے۔  

    اَب ہم قرآن کریم کے اس رکوع و حدیث مبارکہ کی روشنی میں اُمت مسلمہ کے گزشتہ تقریباً 300 سال کا موازنہ  کرتے ہیں۔

    بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِحکومت میں مصر آئے تھے اور وہاں پر مستقل رہائش اختیار کی، حضرت یوسف علیہ السلام چوں کہ عزیزمصر اور وزیر معاشی امور تھے تو بنی اسرائیل کو مصر میں اعلیٰ مقام حاصل ہوگیا تھا۔

    فرعونی نظام نے بنی اسرائیل سے اقتدار چھیننے کے بعد انھیں غلام بنایا، فرقوں میں تقسیم کیا آپس میں نفرت و عداوت کے بیچ بو کر لڑایا، اپنی خدمات گزاری اور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور کیا، یہاں تک کہ ان کو خوب مصروف رکھا تاکہ ان کی سوچ و فکر ہماری طرف نہ ہو۔ جب ظلم حد سے بڑھا تو چاپلوس طبقہ نے حکمران کو متوجہ کیا کہ ظلم و بربریت زبردستی زیادہ دیر قائم نہیں رکھی جاسکتی۔ بوڑھی نسل تو اپنی زندگی کے کشمکش میں ہے، لیکن نئی نسل میں آزادی کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا اس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔   

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سب سے پہلے بنی اسرائیل کو فرعونی نظام سے آزادی دِلانے کے لیے آواز بلند کی۔ غلامی میں زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد ان کی آزادی و حریت کی سوچ مسخ ہوچکی تھی۔ بنی اسرائیلیوں کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قسم قسم کی تکالیف، اذیتیں اور پریشانیاں دی گئیں کہ آپ کی وَجہ سے ہماری بچی کھچی سہولیات و مراعات بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ لہٰذا آپ ہماری آزادی کا مطالبہ نہ کریں۔ 

    عرصہ دراز کی غلامی کی وَجہ سے ان میں وہ ہمت و شجاعت مفقود ہوچکی تھی کہ فرعونی نظام کی مزاحمت کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مصر سے ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

    آزادی تو ہجرت کے باعث ملی، جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن فرعون اپنے لاؤ  لشکر کے ساتھ ان کی نظروں کے سامنے بحیرہ احمر میں غرق ہوا، لیکن بنی اسرائیل عرصہ دراز کی غلامانہ ذہنیت و سوچ کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایسے مطالبے کرتے، جس سے ان کو مزید تکلیف و اذیت پہنچتی، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو وادی تیہ کی آزاد فضاؤں میں قید کردیا، تاکہ غلامانہ ذہنیت کے حامل بوڑھے کھوسٹ مرکھپ جائیں اور بنی اسرائیل نئی نوجوان نسل ان آزاد فضاؤں میں پلی بڑھی تو انھوں نے یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں ظالم قوم عمالقہ سے اپنے وطن فلسطین کو آزاد کرایا۔

    یورپ کے سرمایہ پرست اور لالچ پرستوں نے ہمارے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی کچھ روا رکھا۔ ان یورپی فرعونی بھیڑیوں نے ہندوستان کا 800 سالہ مسلمانوں کا اقتدار چھینا۔ انگریز درندوں کا مسلمانوں کے ساتھ زیادہ بغض و عداوت اس بنا پر تھی کہ وہ دنیا کی حکمران قوت تھی، جس نے پرتھوی راج پر مبنی ظالمانہ حکومت کو ختم کرکے عام رعایا کے لیے عدل و مساوات کا نظام قائم کررکھا تھا۔

    انگریز نے اسی طرح ہندوستان کو200 سال غلام بنا کے رکھا، اس کے وسائل لوٹے، ہر طرح کی فرقہ واریت اور ہر قسم کی قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا، خانہ جنگی اور اقتدار کی ہوس میں لوگوں کو لڑوایا، قیادت کو شہید کروایا گیا یا قیدوبند میں ڈالا گیا۔ یوں سر زمین ہند پر برٹش ایمپائر کے ظلم کی سیاہ رات گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔

    دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر خلافت کو کمزور کرنے کے لئے آلہ کار ایجنٹس پیدا کیے گئے اور آخرکار 1920ء میں مسلمانوں کی بین الاقوامی دور خلافت کی بندربانٹ کر کے عظیم سلطنت عثمانیہ کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں اپنے مفاد کے لیے تقسیم کرکے اپنے زرخرید غلاموں اور ایجنٹوں کو حکمران بنایا۔

    علمائے حق نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد شروع کی تو انہیں بہت سی تکالیف اور اذیتیں دی گئیں، قدم قدم پر روکاوٹیں کھڑی کی گئیں، آزادی کے ہیروز شہید کروائے گئے، اس طرح غلامی کی زنجیروں کا سلسلہ طول پکڑتا چلا گیا۔

    جب تحریکات نے زور  پکڑا تو انگریز مجبور ہوگئے کہ اَب مزید ہندوستان میں حکمرانی قائم نہیں کرسکتے تو دام تزویر بدل کر جدیدنوآبادیاتی نظام لاگو کر کے آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا، اور اس طرح ہندوستان کو اپنے مطلوب و مقصود ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے اپنے سہولت کاروں کو حکمران بنایا، تاکہ آنے والے وقتوں میں وہ اپنے آقاؤں کے احکامات کی غلامی میں سر خم کیے رہیں۔ 

    تقسیم کے وقت لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی ، لاکھوں کی تعداد میں بغض و عداوت کی بھینٹ چڑھ کر قتل ہوئے، ہندوستان کا پورا خطہ مختلف حصوں میں تقسیم ہوکر آج ہر ایک کے لیے وادی تیہ بنا ہوا ہے۔ 

    تقریباً 25 کروڑ عوام پچھلے 79 سالوں سے وادی تیہ کی  مثال بنے ہوے ہیں۔ ہر پانچ سال بعد اس سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جہاں سے چلتے ہیں اسی جگہ واپس آکر ٹھہر جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ہجوم میں عقل و شعور کہاں ہوتی ہے۔  

    25 کروڑ ابادی کا اگر تناسب ٪0.001 نکالا جائے تو تقریباً 2500 افراد سرمایہ دار ، جاگیر دار، افسر شاہی وغیرہ بنتے ہیں جو کہ سب کے سب اس غلامانہ نظام کے قیام و دوام پر متفق و متحد ہیں۔ اگر چہ بہ ظاہر ایک دوسرے کو گالیاں ہی کیوں نہ دیتے ہوں۔ یہی اشرافیہ روزِ اول سے ہی وطن عزیز کے حکمران چلے آرہے رہے ہیں، اور اس عرصے میں زر و زمین اور تاج و تخت کے مالک بن بیٹھے ہیں۔

    اس تعداد کو نکال کر باقی 25 کروڑ عوام وادئ تیہ کے بنی اسرائیل کے ہجوم کی طرح سرگرداں مارے مارے پھر رہے ہیں اور دن بدن بد سے بدحال مسائل کی چکی میں مزید پستے جارہے ہیں۔

    نئی نسل کے لیے پہلے سے فرعونی نظام نے نئے نئے دجل و فریب کے خوش نما جال بن رکھے ہیں، تاکہ ان کو اس میں مشغول و مصروف رکھے۔ جو نوجوان نسل کچھ کرنا چاہتی ہے تو ان کے لیے مختلف خوش نما ناموں و نعروں کے جمگھٹے تیار کیے گئے ہیں، جن میں ہمارے نوجوان اپنی زندگی کے 20 ،30 قیمتی ترین سال ضائع کردیتے ہیں۔ 

    بے روزگاری سے تنگ نوجوان دوسرے ممالک میں روزی کمانے کے لیے ہجرت پر مجبور ہیں ۔اِنفرادیت کی سوچ پیدا کر کے نئی نسل کے لئے مختلف نشہ آور ادویات و اشیا بنائی گئی ہیں۔تعلیمی نظام کے ذریعے سے ان کی صلاحیت و قابلیت کو محدود کر دیا گیاہے۔جوا سٹہ بازی اور دوسرے بے مقصد کاموں میں مصروف کیا گیا ہے۔

    سماج میں موجود فرعونی نظام کو سمجھنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمیں قرآن کریم و اُسوہ حسنہ ﷺ کی طرف رجوع کرنا ہوگا، ورنہ بنی اسرائیل کی 40 سال کی وادی تیہ کا گردشی دورانیہ ہم پر مزید 39 سال بڑھا دیا گیا، اس میں اور بھی اضافہ ہوسکتا ہےاگر ہم نے غور و خوض کرکے ان حالات کو بدلنے کی سنجیدہ اور پائیدار جدوجہد نہیں کی۔ہمارے تمام مسائل (دنیاوی ہوں یا اخروی، انفرادی ہوں یا اجتماعی۔ قومی ہوں یا بین الاقوامی) کا واحد حل دین اسلام (قرآن کریم ، اسوہ حسنہ ﷺ اور اسوہ جماعت صحابہ کرامؓ)میں کامل و مکمل طور پر موجود ہے، جس کا عملی نظام قائم کر کے ہم آج بھی سرخرو ہوسکتے ہیں ۔

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔

    ترجمہ:”اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا ؟

    کوئی ہے اس ظلم و بربریت کے نظام کو جڑ سے اکھاڑنے اور اس کی جگہ متبادل عدل و مساوات کا نظام قائم کرنے والا؟

    Share via Whatsapp