معاشرتی فلاح میں روزہ کا کردار اور اس کے تقاضے
یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ
معاشرتی فلاح میں روزہ کا کردار اور اس کے تقاضے
تحریر ؛ سلمان نواز، بہاولپور
یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ
’’ اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گیے، جیسے کہ تم سے پہلی اُمتوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی ہو جاؤ‘‘۔
روزے کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ انسان کو بلاوَجہ فاقہ کرایا جائے۔ اس کو ذہنی و جسمانی اذیت دی جائے، بلکہ انسان کے نفس کی پاکیزگی، تقویٰ کا حصول اور اللہ کی خوشنودی ہے۔ روزہ رکھنے سے انسان میں پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے اور خواہشات پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ روزہ انسانی جسم اور روح پر اپنے اَثرات مرتب کرتا ہے، جس سے اس کے اخلاق و عادات اور رویوں میں اچھے اَثرات پیدا ہوتے ہیں۔
روزہ کا مفہوم
روزہ کو عربی زبان میں، صوم سے کہتے ہیں، جس کے لغوی معنیٰ روکنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں روزہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، روزہ کی نیت سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک، اپنے آپ کو کھانے، پینے اورنفسانی خواہشات سے روکنے کا نام ہے۔ جیسے نماز اجتماعی و معاشرتی مساوات کا درس دیتی ہے، اسی طرح روزہ اقتصادی مساوات کے قیام کے لیے تربیت کا ذریعہ ہے۔
روزہ ؛ تبدیلی نظام کی کوشش
روزہ دار کو چا ہیے کہ جب وہ معاشرے کا تجزیہ کرے اور اسے محسوس ہو کہ یہاں طاغوتی نظام قائم ہے تو اسے قبول نہ کرے، بلکہ اسے ختم کرنے کی جدوجہد کرے۔ سورۃ العلق میں ہے۔
’’ كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَانَ لَيَطۡغَىٰٓ‘‘
جو انسان سرکش، ظالم اور انسان دشمن ہو اس کی ہر گز اطاعت نہ کریں۔
سن 2 ہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوئے۔ 10 ہجری آپ ﷺ کی زندگی کا آخری رمضان تھا۔ 2 ہجری سے 10 ہجری تک کل 9 رمضان آپ ﷺ کی زندگی میں گزرے۔ ان میں سے 6 رمضان ایسے ہیں، جن کا تعلق براہِ راست غزوات سے ہے۔ آپ ﷺ کا طاغوتی نظام کے خلاف پہلا معرکہ غزوہ بدر رمضان المبارک میں، روزے کی حالت میں ہوتا ہے، جس میں 70 بڑے بڑے سرداروں کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے اور 70 ہی سرداروں کو گرفتار کیا جاتاہے۔ فتحِ بدر قومی انقلاب کی تکمیل کا اہم مرحلہ ہے۔ یہ انسانی آزادی کی تحریک کا اہم مرحلہ ہے، جس نے آپ ﷺ کی جماعت کو دشمن پر فتح دی اور اس جماعت نے سیاسی طاقت کا لوہا منوایا۔ اسی طرح غزوہ احد کی تیاریاں ہوں یا غزوہ احزاب سے پہلے اور بعد کے مراحل ہوں یا فتح مکہ جس دن قومی انقلاب کی تکمیل ہوئی، آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ روزے کی حالت میں تھے۔
روزہ دار کی ذمہ داری
روزہ دار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ظلم ہوتا دیکھے تو اس کے خلاف آواز اُٹھائے اور اس وقت تک جدوجہد کرتا رہے، جب تک ظالم اپنے ظلم سے منع نہ ہوجائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛
’’عدل کرو کہ یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے“۔
روزے کا مقصد انسانی سوسائٹی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے اور تقویٰ قیامِ عدل کے بغیر نا ممکن ہے۔
مقاصد روزہ اور امام شاہ ولی اللہ کا نقطہ نظر
شاہ صاحب فرماتے ہیں؛
”روزہ کی کامل حالت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات کو اُبھارنے والے اقوال و افعال سے پرہیز کیا جائے، ظلم و درندگی پیدا کرنے والی حیوانی عادات کو ترک کر دیا جائے، نفسانی خواہشات سے اجتناب اور طاغوتی فکر و عمل سے نفرت رکھی جائے“۔
خواہشات پر کنٹرول
آج دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے زیادہ ہے۔ سامراجی سوچ کی مالک اقوام اور سرمایہ پرست افراد کی یہ خواہش ہے کہ وہ دنیا کے وسائل اور آبادی پر قبضہ کر لیں اور تمام انسانی وسائل کے مالک بن جائیں۔ ان کی زندگیاں اسی تمنا کے گرد گھومیں۔ روزہ انسانی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت پیدا کرتاہے، جیسا کہ آپ ﷺ کی حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزہ شہوانی جذبات کو توڑنے کا سبب بنتا ہے۔
رویوں کی درستگی میں روزہ کا اَثر
روزہ صرف بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس انسانی کی تربیت، دلوں کے زنگ کو دور کرنے اور عقل وشعور کو بیدار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص روزے میں جھوٹ اور غلط باتیں نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘ ۔
روزہ انسانی رویوں میں بہتری سے معاشرے پر اچھے اَثرات قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے؛
’’جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ کسی سے گالم گلوچ (نازیبا گفتگو) نہ کرے اور اگر کوئی اس سے لڑنا چاہے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں“۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’ روزہ محض کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزہ تو جھوٹ، فضول اور لغو باتوں سے بچنا ہے“۔
تزکیہ نفس
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَٰہَا
’’بے شک وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا“۔
تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو برائیوں اور منفی خیالات سے بچائے۔
اچھا ذہن رکھنے والے انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ Social Change سیکھے، سمجھے اور اس کی دعوت دے۔ روزہ تزکیہ نفس اور کمالات کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے انسان میں صبرواستقامت آتا ہے، جھوٹ، غیبت اور بد اخلاقی سے بچاؤ ہوتا ہے۔
روزہ انسان دوستی اور خیر خواہی کا سبب
روزہ انسان دوستی اور خیرخواہی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ معاشرے میں موجود بھوک اور اِفلاس کو ختم کر کے عدل کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد پر لاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انسانیت کے ہمدرد اور خیرخواہ ہوں۔ جب انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے تو اسے بھوک اور پیاس کی تلخی کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص جس نے کبھی بھوک محسوس ہی نہیں کی تو اسے کیسے پتہ ہوگا کہ بھوکا انسان کس کیفیت سے گزرتا ہے؟ جب وہ اس کیفیت کو خود پر سوار کرتا ہے تو وہ معاشرے کے پس ماندہ اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل حل کرنے کے لیے فکرمند ہوتا ہے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جدوجہد کرتا ہے جو انسان دوستی اور خیرخواہی پر مبنی ہو۔
روزہ کا اَثر؛ نظم و ضبط اور مساوات
جس طرح نماز ہمارے اندر ڈسپلن اور مساوات پیدا کرتی ہے، اسی طرح روزہ ہمیں نظم وضبط سکھاتا ہے۔ سحری و افطاری کا مخصوص وقت ہے، جس میں روزہ رکھا اور افطار کیا جاتا ہے۔ بھوک اور پیاس ہمیں یہ درد محسوس کراتے ہیں کہ انسانیت کی بنیاد پر ہم سب برابر ہیں۔ جیسے ایک غریب کو وسائل نہ ہونے کی وَجہ سے بھوک ستاتی ہے، اسی طرح ایک امیر کو بھی جب بھوک لگی ہو اور کھانے کو کچھ میسر نہ ہو تو وہ بھی اسی تکلیف سے گزرتا ہے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے، تاکہ بھوک کے مسائل کو حل کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!









