وطن عزیز میں تقدیس کی کشمکش - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • وطن عزیز میں تقدیس کی کشمکش

    ہزاروں سال قبل شکاری دور میں انسان کا دوسرے انسانوں سے کوئی خاص رابطہ نہ تھا۔ وہ محض اپنی ذات، بیوی اور بچوں کی فکر میں مصروف رہتے تھے،لیکن .....

    By محمد علی Published on Jan 01, 2026 Views 181

    وطن عزیز میں تقدیس کی کشمکش 

    تحریر: محمد علی، ڈیرہ اسماعیل خان

     

    ہزاروں سال قبل شکاری دور میں انسان کا دوسرے انسانوں سے کوئی خاص رابطہ نہ تھا۔ وہ محض اپنی ذات، بیوی اور بچوں کی فکر میں مصروف رہتے تھے،لیکن جوں جوں تمدنی ترقی ہوئی، انسان کے دائرہ ہمدردی اور ذمہ داری میں بھی توسیع آئی۔ خاندان سے شروع ہوکر یہ رشتہ محلے تک پھیلا، پھر شہروں تک۔ اسی عمل میں انسان نے نئے ”تمدنی اوزار“ ایجاد کیے جو محلے اور شہری سطح کے مسائل حل کرنے کے لیے ضروری تھے۔

    اَب بجائے اس کے کہ ایک محلے یا شہر کے لوگ کسی چیز کے حصول کے لیے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہیں،انھوں نے ایسے اصول اور قانون مرتب کیے جو ہر فرد تک یکساں انصاف اور وسائل کی رسائی یقینی بناتے تھے۔ یہی فکر ”ریاست“ کے تصور کی بنیاد بنی۔ اس نئے نظام میں انسانوں نے کچھ منتخب افراد کو حکومت کے اختیارات سپرد کیے، لیکن بدلے میں انھیں معاہدہ کی شکل میں یہ ضمانت دی کہ یہ حکمران ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں گے۔ یہ معاہدہ ہی ”سماجی معاہدہ“ کہلایا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ انسانی معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ مختلف حالات، ضروریات اور سیاسی تاویلات کی بنیاد پر وہ طبقہ جسے انسانی سماج نے اپنے اختیارات سپرد کیے تھے، بتدریج تبدیل ہوتا رہا۔ کبھی ریاستی نظام پر مذہبی قوتیں قابض ہوئیں، کبھی عسکری قوتیں تو کبھی جاگیردار و سرمایہ دار۔ کہا جاتا ہے کہ جب انسان نے دریاؤں کے قریب بستیاں آباد کیں، تو ان میں سب سے اہم مقام عبادت گاہ کا ہوتا تھا۔ اس سے مذہبی پروہت طاقت ور ہوتے چلے گئے اور خود کو زمین پر خدا کے نمائندے کے طور پر قائم کر لیا۔ یہی پروہت رفتہ رفتہ ریاستی نظام کے حکمران بن بیٹھے۔ یہاں سے تھیوکریسی (مذہبی حکومت) کی بنیاد پڑی۔ اسی طرح، ریاست کی توسیع اور دفاع کے لیے فوج کی ضرورت برابر رہی۔ ہنگامی حالات میں اختیارات سپہ سالار کے ہاتھ میں چلے جاتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ان عسکری قوتوں میں بھی حکمرانی کی خواہش پیدا ہوئی۔ اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے انھوں نے ہنگامی حالات کو مستقل رکھنا شروع کردیا۔ اسی طریقے سے عسکری استبداد یا عسکری راج کا دور شروع ہوا۔

     

    مذہبی طبقہ جب خدا کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا تو وہ لوگوں کا استحصال کرتا، لیکن لوگ اس کے خلاف آواز اُٹھانے سے ڈرتے تھے۔  کیوں کہ انھیں سکھایا گیا تھا کہ بادشاہ کو خدا نے خود بنایا ہے۔ اگر وہ حکمران کی نافرمانی کریں تو خدا کا یہ نمائندہ انھیں جہنم میں ڈال دے گا۔ یہ ایک طاقت ور نفسیاتی حربہ تھا،لیکن یہ سوچ بنیادی طور پر غلط تھی۔ لوگ یہ بھول گئے تھے کہ ریاستی نظام اور اس کا حکمران محض انتظامی ٹول ہیں—کوئی مقدس شے نہیں۔ حکمران کی تقدیس نہیں، بلکہ ذمہ داریاں ہیں جو اسے جواز دیتی ہیں۔ اس کا واحد مقصد لوگوں کی فلاح و بہبودی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ہی اس کی شرعی اور اخلاقی بنیاد ہے،لیکن افسوس !  اور عام لوگوں کے مذہبی لگاؤ اور فہم کو غلط طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مذہبی طبقے نے دہائیوں، بلکہ صدیوں تک لوگوں کا استحصال  جاری رکھا۔ وہ مذہب کے نام پر اقتدار برقرار رکھتے رہے اور ہر دور میں انبیاء کرام انہی فرسودہ مذہبی اور مالی گروہوں کے خلاف انسانی شعور بیدار کرنے کے لئے مبعوث ہوتے رہے۔لیکن ان انبیاء کرام کی تعلیمات سے وابستگی اختیار کرنے والوں میں ہی اگلے دور میں ایسے عناصر نمودار ہو جاتے جو نبوی تعلیمات کو محرف اور مسخ کر دیتے تو ان کی کارستانیوں کو آشکار کرنے کے لئے نئی بعثت ہوتی یہاں تک کہ یہ سلسلہ رسول اللہ ﷺ پر مکمل ہوا، آپ نے اس تحریفی روش سے اپنی امت کو باخبر کیا ، چنانچہ ہر دور میں علمائے سوء ، علمائے حق کی راہ میں حائل ہوتے رہے۔

    اس تناظر میں پاکستان میں چند دن پہلے علما و مشائخ کی دو نمایاں کانفرنسوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ سرکاری کانفرنس میں یہ بیان سننے میں آیا: ”اگر فلاں فلاں مخصوص مدارس کی طرح کے مدارس بنانے پیش نظر ہیں تو ہزاروں بنا دیں، بلکہ مدارستان بنادیں" ۔ یقیناً ایسے مدارس سے مقتدر نظام کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ، جو اس کے گرد تقدیس کا ہالہ بناتے رہتے ہیں۔ جو ہائپر نیشنل اِزم پیدا کرکے لوگوں کی توجہ استحصال اور ظلم سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ جب ان سے ظلم، ناانصافی اور طبقاتی نظام کی شکایت کی جائے تو وہ مقتدر نظام کی تقدیس کے گن گانے لگتے ہیں، حتی کہ وہ ظالم طبقے کو آسمانی بشارتوں کا مصداق بھی قرار دے دیتے ہیں۔ ان حلقوں نے کبھی ظالم نظام کے خلاف آواز نہیں اُٹھائی،بلکہ اس کے برعکس، انھوں نے لوگوں کو منفعل اور فرماں بردار رکھنے کے لیے اس نظام اور اس کے ظالم کارندوں کو مذہبی چولے پہنائے۔ انھوں نے مسلسل یہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہے کہ "مقتدر نظام پر تنقید کرنا حرام ہے۔ ریاستی نظام عدل کے فقدان کی وجہ سے ناکام نہیں ہوا بلکہ خارجی دشمنوں کی سازشیں کام نہیں کرنے دیتیں اور یہ ”خدا داد“ ریاستی نظام انھی دشمنوں سے لڑنے میں مصروف ہے"۔ اس لیے انھوں نے ایک نتیجہ نکالا: ”بچانے والی قوت“ کی تنقید کرنا گناہ ہے۔

    دوسری طرف ایک پرائیویٹ کانفرنس میں یہ بیان سننے میں آیا: ”ہمیں اعتماد میں لیے بغیر کوئی ریاستی نظام آگے نہیں بڑھ سکتا۔“ گویا ایک طرف ریاستی نظام کی تقدیس کا چرچا تھا تو دوسری طرف مذہبی اشرافیہ کا اصرار تھا کہ اس کے منشا کو پس پشت نہ ڈالا جائے۔ یہ دونوں رویے درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیںریاستی نظام کو یا تو مقدس قرار دے کر ناقابل تنقید بنا دیا جائے، یا پھر اس پر مذہبی اشرافیہ کی مرضی مسلط کر دی جائے۔ دونوں صورتوں میں نظام کی اصل ذمہ داری — عوام کی فلاح و بہبود — پس منظر میں چلی گئی ۔ یاد رہے کہ ریاستی نظام یا حکمران فی نفسہٖ محض انتظامی ٹول ہیں—یعنی ایک وسیع پھیلے ہوئے انسانی معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، تنازعات کے حل اور حقوق کی فراہمی کے لیے ایک ذریعہ -- جس کو انسانی سماج نے باہمی رضامندی سے  قبول کیا۔ لیکن یہ خود مطلوب نہیں—مطلوب معاشرے کی بھلائی ہے۔ اگر ریاستی نظام اس مقصد میں ناکام ہو جائے تو اس کی کوئی تقدیس باقی نہیں رہتی۔

    اسی موضوع سے جڑا ہوا ایک اور اہم پہلو ہے: ”ڈر“ یہی وہ حربہ ہے، جسے یہ طبقات ہمیشہ ہمارے ذہن میں ڈالتے آئے ہیں۔ ”بھارت آپ کو یوں کر دے گا، اسرائیل آپ کو یہ کر دے گا“۔ یہ فقط رائے اور انتقاد کو ایک چھت تلے رکھنے کا طریقہ ہے۔ جب تک یہ ڈر برقرار ہے، تب تک لوگ خاموش رہیں گے۔ اگر یہ ڈر ختم ہو جائے تو پھر ”ان“ کی ضرورت ہی کیا رہے گی؟ علی شریعتی نے درست کہا ہے: “میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسرائیل ہمارا وہ حشر کر ہی نہیں سکتا جو ہم خود اپنے لیے کر سکتے ہیں“۔ ہمارے اصل دشمن اندرونی نظام کی ناانصافی ہے، خارجی دشمن وہ نقصان نہیں کرسکتا جو داخلی نظام ظلم و استحصال کرتا ہے۔ لہٰذا نظام کی تقدیس کے بجائے اس کے کردار کے بارے میں بات ہونی چاہیئے۔ کیوں کہ افادیت اور ذمہ داریاں ہی کسی نظام کے احترام کی بنیاد ہیں کہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود پر عملی طور پر کام کرے۔

    ان دونوں کانفرنسوں کے بیانات درحقیقت وہی پرانا نفسیاتی ہتھیار ہیں جس کے ذریعے مقتدر طبقات اپنی پوزیشن مستحکم کرتے ہیں۔ "تقدیس" کا نعرہ نظام کو تنقید سے بالا رکھنے کا آلہ ہے، جبکہ "اعتماد میں لینے" کا مطالبہ درحقیقت نظام پر اپنے اثر و رسوخ کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں عوام کی اصل ضروریات اور حقوق ثانوی ہو جاتے ہیں۔ حقیقی جمہوری اور انصاف پر مبنی نظام وہی ہے جہاں نہ تو ریاستی ڈھانچہ مقدس ہے اور نہ ہی کسی مخصوص مذہبی اشرافیہ کا اس پر اجارہ، بلکہ جہاں نظام کی بنیاد شہریوں کے حقوق، انصاف اور مساوات پر ہو۔

    Share via Whatsapp