غلبۂ دین کا قرآنی تصور اور سماجی تبدیلی میں نوجوانوں کا کردار
دین محض مذہب نہیں، مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام میں دین کا مفہوم وہ نہیں جو آج کے غلام ذہن نے محدود کردیا ہے۔
غلبۂ دین کا قرآنی تصور اور سماجی تبدیلی میں نوجوانوں کا کردار
تحریر : ڈاکٹر افسر خان شہزاد۔ بنوں
آیتِ مبارکہ
﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾(سورۃ الصف: 9)
ترجمہ؛ ”وہی اللہ ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اس دین کو تمام نظاموں پر غالب کردے، خواہ یہ بات مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے“۔
یہ آیت محض ایک روحانی بشارت یا آخرت سے متعلق وعدہ ہی نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر انقلابی اور تاریخی اعلان ہے۔
قرآن کریم یہاں جس ”دین“ کا ذکر کررہا ہے، وہ محض چند عبادات، اِنفرادی اخلاقیات یا نجی مذہبی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ ایسا نظام جو انسان کے عقیدے کو عملی زندگی میں منظم کرتا ہے، جس سے اس کی معیشت و تجارت، سیاست و اقتدار اور معاشرت و تہذیب بہتر ہوتی ہے۔
لفظ ”لِيُظْهِرَهٗ“ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دینِ حق کا مقصد صرف موجود رہنا نہیں، بلکہ غالب آنا ہے، اور ”عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ“ اس امر کا اعلان ہے کہ یہ غلبہ تمام فکری، سیاسی، معاشی اور سماجی نظاموں پر ہونا ہے۔ چاہے وہ سرمایہ دارانہ ہوں، نوآبادیاتی ہوں یا کسی بھی عنوان سے قائم ظلم پر مبنی ڈھانچے ہوں۔
دین محض مذہب نہیں، مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام میں دین کا مفہوم وہ نہیں جو آج کے غلام ذہن نے محدود کردیا ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں دین دراصل معاشرے کے، سیاسی نظام، معاشی ڈھانچے، سماجی عدل، تہذیبی سمت اور اجتماعی اخلاق کو متعین کرتا ہے۔
اسی لیے نبی اکرم ﷺ محض مسجد کے امام یا چند عبادات کے مبلغ بن کر نہیں آئے، بلکہ آپﷺ کو ان عالمی ظالمانہ نظاموں کو توڑنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا جو قیصر و کسریٰ کی صورت میں انسانیت کا خون نچوڑ رہے تھے۔
آپ ﷺ کا مشن صرف مکہ یا مدینہ تک محدود نہ تھا، بلکہ عالمی سطح تک، عدل پر مبنی نظام کا قیام تھا ۔ ایسا نظام جہاں طاقت قانون کے تابع ہو، دولت چند ہاتھوں میں قید نہ رہے اور انسان انسان کا غلام نہ بنے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکری بصیرت
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اسی قرآنی حقیقت کو بیان کرتے ہوےکہتے ہیں کہ:
رسول اللہ ﷺ کا مشن کسی خاص قوم، نسل یا خطے تک محدود نہیں تھا۔
آپؒ کے نزدیک نبی ﷺ انسانیت کو ایسے معاشی و سیاسی نظام سے نجات دِلانے آئے تھے جو طاقت ور کو مزید طاقت ور اور کمزور کو مزید پامال کرتا ہے۔
شاہ صاحبؒ کے مطابق اصل خرابی افراد میں نہیں، بلکہ نظام میں ہوتی ہے،اور جب تک نظام تبدیل نہ ہو، فرد کی اِصلاح بھی دیرپا نہیں ہوسکتی۔
تربیت یافتہ جماعت اور عالمی عدل کا قیام
نبی اکرم ﷺ نے ایسی تربیت یافتہ جماعت تیار کی، جس نے اس مشن کو محض نعروں یا کتابوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس جماعت نے قیصر و کسریٰ کے نظاموں کو عملاً شکست دی اور ان کی جگہ ایسا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام قائم کیاجو عدل، مساوات اور جواب دہی کے تصور پر مبنی تھا۔
یہ کوئی وقتی یا جذباتی تجربہ نہ تھا، بلکہ تیرہ سو سال تک دنیا کے بڑے حصے پر یہ نظام نافذ رہا، جہاں معیشت سود سے پاک تھی،سیاست جواب دہی پر قائم تھی اور معاشرہ اخلاقی اقدار کا مظہر تھا۔
زوال کی ایک وَجہ
سترہویں صدی میں جب دنیا زرعی دور سے نکل کر صنعتی اور مشینی دور میں داخل ہوئی تو دینِ اسلام کے آفاقی نظریہ پر قائم بین الاقوامی نظام کو اجتہادی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت تھی، مگر بد قسمتی سے سیاسی قیادت جمود کا شکار ہوگئی۔اسی غفلت کا فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے کمپنی بہادر کا نظام مسلط کیااور سرمایہ دارانہ نظام رفتہ رفتہ پوری دنیا پر چھا گیا۔یہ وہ نظام ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں قید کر دیتا ہے اور اکثریت کو معاشی غلام بنا دیتا ہے۔
آج کا المیہ: دین کا دعویٰ مگر نظامِ اغیار
آج ہم اس تلخ حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے، ہماری معیشت ظالمانہ اور سودی ہے،ہماری سیاست استعماری مفادات کی اسیر ہے،ہماری سماجی ترجیحات مغربی اقدار سے اخذ کردہ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم مغرب کے دین یعنی اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام پر زندگی گزار رہے ہیں،اور پھر بھی خود کو اسلامی کہلوانا چاہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ کھلی منافقت نہیں؟
شاہ ولی اللہؒ کا نظریہ فک کل نظام
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسی تضاد کو محسوس کرکے”فک کل نظام“ یعنی ہر فرسودہ، ظالمانہ اور غیرفطری نظام کو بدلنے کا شعور دیا۔
آپؒ کی شہرۂ آفاق تصانیف حجۃ اللہ البالغہ، البدور البازغہ، ازالۃ الخفاء اور فیوض الحرمین محض علمی کتابیں نہیں، بلکہ سیاستِ ملیہ، معاشی و سماجی ارتفاقات، تہذیبِ نفس اور نظامِ عدل پر مبنی ایک مکمل جامع نقشہ فراہم کرتی ہیں۔
ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور آج کے عہد کی خصوصیات کے مطابق عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے یعنی وہ آج کے اس فکری انتشار اور غلامانہ ماحول میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکری ورثے کو زندہ کر رہا ہے۔یہ ادارہ محض ایک درسگاہ نہیں، بلکہ نظام ساز افراد کی تربیت گاہ ہے، قرآنی شعور کی بیداری کی تحریک اور عملی جدوجہد کا مرکز ہے۔ یہاں نوجوانوں کو قرآن کے تبدیلی نظام کا فہم، معاشی عدل، سیاستِ ملیہ اور سماجی توازن کا شعور دیا جاتا ہے، تاکہ وہ موجودہ سرمایہ دارانہ و استعماری نظام کامتبادل پیش کرسکیں اور اس کی جگہ ایک انسانی، عادلانہ اور دینی سماجی نظام کے قیام کے لیے تنظیم پر مبنی جدوجہد کر سکیں۔
نوجوانوں کے نام پیغام
اگر آج کا نوجوان واقعی آزادی چاہتا ہے،اگر وہ محض نعروں کے بجائے نظام کی تبدیلی کا خواہاں ہے،تو اسے چاہیے کہ ادارۂ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کے ساتھ جڑے ، شعور حاصل کرے، خود کو فکری و اخلاقی طور پر تیار کرے،کیوں کہ حقیقی آزادی نعروں سے نہیں،بلکہ اپنا معاشی، سیاسی اور سماجی نظام قائم کرنے سے ملتی ہے۔
جب تک ہم اسلام کو عبادت گاہوں سے نکال کرمعاشرے کے مرکز میں نہیں لاتے ، ہم غلام ہی رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ اس سفر میں ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین!









