ایوان کے اندراور باہر
درالحکومت کے وسط میں ایک عمارت تھی جسے لوگ ایوان کہتے تھے اسکے دروازے پر نہ کوئی مذہبی علامت تھی نہ قومی۔ فیصلے یہاں ہوتے ہیں اعلان کہیں اور۔
ایوان کے اندراور باہر
تحریر؛ ڈاکٹر افسر خان شہزاد۔ بنوں
دارالحکومت کے وسط میں ایک عمارت تھی، جسے لوگ محض ایوان کہتے تھے۔اس کے دروازے پر نہ کوئی مذہبی علامت تھی، نہ قومی۔ صرف ایک جملہ کندہ تھا۔
”فیصلے یہاں ہوتے ہیں، اعلان کہیں اَور“۔
میں پہلی بار اس ایوان میں داخل ہوا تو مجھے کسی نے نہیں روکا۔یہی اس عمارت کا پہلا فریب تھا۔یہ دروازے بند نہیں کرتی،یہ انسان کو آہستہ آہستہ اندر لے لیتی ہے۔
سرمایہ کا کمرہ
سب سے پہلے مجھے جس کمرے میں بٹھایا گیا،وہ کسی وزارت یا اسمبلی کا نہیں تھا،وہ سرمایہ کا کمرہ تھا۔دیواروں پر نقشے تھے،مگر وہ نقشے ممالک کے نہیں،منڈیوں کے تھے۔ایک آدمی نے، جس کا نام کسی فہرست میں نہیں تھا، مگرجس کے فیصلے ہر فہرست میں شامل تھے،
کہا:
”ہم حکومتیں نہیں بناتے،ہم حالات بناتے ہیں۔حکومتیں خود بہ خود آ جاتی ہیں“۔
میں نے پوچھا:
”اور عوام؟“
وہ مسکرایا:
”وہ اعداد و شمار ہیں“۔
میں سمجھ گیا۔
یہ سرمایہ دارانہ نظام تھا،جسے نہ ووٹ کی ضرورت تھی، نہ دلیل کی؛صرف خاموش رضامندی کافی تھی۔
عالمی سامراج کی راہداری
اگلا راستہ ایک لمبی راہداری تھی۔یہاں جھنڈے لگے تھے،مگر کسی ایک ملک کے نہیں۔ہر جھنڈا ایک معاہدہ تھا،ہر معاہدہ ایک شرط۔ایک آواز آئی۔
”یہ آزادی کی راہداری ہے۔جو یہاں سے گزرتا ہے،اپنی خودمختاری دروازے پر رکھ آتا ہے“۔
میں نے دیکھا۔
چھوٹے ممالک کے نمائندے، بڑے ممالک کے ہاتھوں میں فائلیں تھما رہے تھے،اور بدلے میں سلامتی لے رہے تھے۔
سلامتی؟
نہیں!
اطاعت!
یہ عالمی سامراج تھا،جو ٹینکوں سے کم، قرضوں سے زیادہ لڑتا ہے۔
میڈیا کا شیشہ خانہ
پھر میں ایک شیشے کے کمرے میں داخل ہوا۔چاروں طرف کیمرے تھے،مگر کوئی تصویر صاف نہیں تھی۔یہ میڈیا تھا۔یہاں سچ بولنے کی اجازت تھی،بشرطیکہ وہ سچ خطرناک نہ ہو۔
ایک اینکر نے مجھ سے کہا!
آپ جو چاہیں بولیں،ہم وہی دکھائیں گےجو لوگوں کو برداشت ہو۔
میں نے پوچھا:
اور جو برداشت کے قابل نہ ہو؟
وہ ہنسا!
اسے ہم بریکنگ نیوز میں دفن کر دیتے ہیں۔
میں نے دیکھا
سرمایہ یہاں اشتہار بن چکا تھا،سامراج یہاں تجزیہ،اور ظلم یہاں بحث۔
مذہبی سیاست کا کمرہ
سب سے آخر میں ایک پُرسکون کمرہ تھا۔قالین نرم، آوازیں دھیمی، اور دیوار پر آیات کے فریم۔یہاں ایک عالمِ دین بیٹھا تھا۔چہرے پر نور تھا،لباس پر وقار۔
اس نے مجھے دیکھ کر کہا:
بیٹا! سیاست گندی چیز ہے،مگر اگر نیک لوگ اس سے دور رہیں تو اسے گندہ ہی رہنا ہے۔
میں چونکا نہیں
یہ جملہ میں پہلے بھی سن چکا تھا۔
میں نے پوچھا:
اور ظلم؟
وہ بولے:
حکمت سے کام لینا چاہیے۔
میں نے پوچھا:
اور سرمایہ کا استحصال؟
کہا:
یہ پیچیدہ معاملات ہیں۔
میں نے پوچھا:
اور سامراج؟
انھوں نے کہا:
اُمت ابھی کمزور ہے۔
میں خاموش ہو گیا۔
یہ مذہبی سیاست تھی۔جو ہر ظالم کے لیے ایک مناسب آیت ، اور ہر خاموشی کے لیے ایک معقول تاویل رکھتی ہے۔
ربط
تب مجھے سمجھ آیا۔
یہ سب الگ الگ کمرے نہیں تھے۔سرمایہ قانون لکھ رہا تھا ،سامراج سمت دے رہا تھا،میڈیا زبان بنا رہا تھا،اور مذہبی سیاست، اس سب کو جائز بنا رہی تھی۔اور درمیان میں ایک خالی کرسی تھی، جسے وزارت کہتے تھے۔میں نے اس کرسی کی طرف دیکھا اور پھر عالمِ دین کی طرف۔
میں نے کہا۔
اگر حق اس کرسی پر بیٹھ کر بھی خاموش رہے،تو پھر وہ حق نہیں،حصہ دار ہے۔
انھوں نے نظریں چرا لیں۔
میں ایوان سے باہر آ گیا۔
باہر عوام تھے۔
ان میں زیادہ تر نوجوان ،بغیر کیمروں کے،بغیر فتووں کے،بغیر معاہدوں کے۔
میں نے سوچا:
اصل سیاست یہاں ہے،جہاں نہ سرمایہ کی لابی ہے، نہ سامراج کا دَباؤ، نہ میڈیا کی تراش، اور نہ دین کی تجارت۔
اس دھرتی پر جو نظام ظلم رائج ہے، اس کے خلاف ایک سماجی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ اور عادلانہ سماجی تبدیلی کایہ کام آج ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ لاہور کے بانیان اور اس کے ریجنل کیمپسز میں موجود اساتذہ کرام بہ خوبی سرانجام دے رہے ہیں اور نوجوانوں کے لیے تربیت کا ایک پلیٹ فارم بھی مہیا کرتے ہیں نوجوانوں کو چاہیے کہ اس پلیٹ فارم سے کما حقہ استفادہ کریں اور ان سے جڑے رہیں۔









