معاشرتی تشکیل میں حقائق کی اہمیت
باشعور معاشرہ نعروں سے نہیں بنتا شور سے نہیں پنتا اور الزام تراشی کبھی پروان نہیں چڑھتا۔
معاشرتی تشکیل میں حقائق کی اہمیت
تحریر: ڈاکٹر افسر خان شہزاد۔بنوں
باشعور معاشرہ نعروں سے نہیں بنتا، شور سے نہیں پنپتا اور الزام تراشی سے کبھی پروان نہیں چڑھتا۔ باشعور معاشرہ ایک فکری تربیت سے وجود میں آتاہے، یہ ایک اخلاقی سفر ہے، جو تحقیق دلیل سےمزین ہوتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے، جس پر چلنے والے لوگ جذبات کے اندھے گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے، بلکہ عقل، انصاف اور اخلاق کی لگام تھامے آگے بڑھتے ہیں۔
ہم ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں، جہاں بات کرنے والے زیادہ اور سمجھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ رائے دینا آسان ہوگیا ہے، مگر رائے بنانے کی محنت سے لوگ بھاگنے لگے ہیں۔ سنی سنائی بات کو سچ مان لینا، ادھوری خبر کو مکمل فیصلہ بنا دینا اور قیاس کو یقین کے درجے پر فائز کر دینا۔یہ سب ایک بےشعور ذہن کی نشانیاں ہیں۔ باشعور انسان اس بھیڑ کا حصہ نہیں بنتا، وہ رک کر سوچتا ہے، ٹھنڈے دل سے پرکھتا ہے اور پھر زبان کھولتا ہے۔
تحقیق دراصل سوچ کی تطہیر ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو انسان کو تعصب، جلدبازی اور سطحیت سے نجات دِلاتا ہے۔ تحقیق انسان کو سکھاتی ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر بلند آواز سچ نہیں ہوتی۔ جو معاشرہ تحقیق کو نظرانداز کر دیتا ہے، وہ افواہوں کے رحم و کرم پر آجاتا ہے اور جہاں افواہ حاکم بن جائے، وہاں سچ قیدی بن جاتا ہے۔
تنقید اگر تحقیق کے بغیر کی جائے تو وہ اِصلاح نہیں، بلکہ تذلیل بن جاتی ہے۔ ایسی تنقید دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑ دیتی ہے، اور ذہنوں کو جگانے کے بجائے زخمی کر دیتی ہے۔ باشعور معاشرے میں تنقید سے پہلے سوال اُٹھایا جاتا ہے، ثبوت تلاش کیے جاتے ہیں اور معاملے کے ہر پہلو کو دیکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ باوقار انسان جانتا ہے کہ ایک غلط تنقید بھی کسی کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
اسی طرح الزام ایک ایسا لفظ ہے جس کے پیچھے ثبوت نہ ہوں تو وہ تیر بن جاتا ہے۔ الزام لگانا آسان ہے، مگر اس کے اَثرات سہنا بہت مشکل۔ ایک بے بنیاد الزام کسی کی عزت، اعتماد اور برسوں کی محنت کو لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔ باشعور معاشرہ الزام سے پہلے ثبوت مانگتا ہے، شور نہیں دلیل چاہتا ہے، اور قیاس نہیں حقیقت پر یقین رکھتا ہے۔
ثبوت انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جہاں ثبوت کمزور ہوں، وہاں انصاف لڑکھڑا جاتا ہے۔ اسی لیے مہذب معاشروں میں الزام نہیں اچھالا جاتا، بلکہ دلیل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ باشعور انسان یہ سمجھتا ہے کہ زبان کا ایک بے احتیاط جملہ بھی تلوار سے زیادہ گہرا زخم دے سکتا ہے، اس لیے وہ بولنے سے پہلے اپنے ضمیر سے اجازت لیتا ہے۔
اختلاف زندگی کا حسن ہے، اگر اختلاف نہ ہو تو فکر جمود کا شکار ہو جائے۔ مگر اختلاف کی خوب صورتی دلیل میں ہے، بدتمیزی میں نہیں۔ دلیل کے بغیر اختلاف ضد بن جاتا ہے اور ضد انسان کو سچ دیکھنے سے محروم کر دیتی ہے۔ باشعور انسان اختلاف کرتے وقت آواز بلند نہیں کرتا، بلکہ دلیل ذکر کرتا ہے۔ وہ گالی نہیں دیتا، گردوپیش کے حقائق سے سمجھاتا ہے، وہ نفرت نہیں پھیلاتا، شعور بانٹتا ہے۔
دلیل دراصل مکالمے کی روح ہے۔ جہاں دلیل ہوتی ہے وہاں دروازے بند نہیں ہوتے، بلکہ سوچ کے نئے دریچے کھلتے ہیں۔ باشعور معاشرہ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا، بلکہ سیکھنے کا موقع مانتا ہے۔ وہاں سوال جرم نہیں ہوتے اور اختلاف غداری نہیں کہلاتا۔ وہاں دلیل عزت پاتی ہے اور دلیل دینے والا محفوظ رہتا ہے۔
تحقیق، ثبوت اور دلیل
یہ تینوں مل کر ایک ایسا فکری نظام بناتے ہیں جو معاشرے کو انتشار سے بچاتا ہے۔ یہی اوصاف فرد کو بلند کرتے ہیں اور قوموں کو زندہ رکھتے ہیں،جن معاشروں نے ان اصولوں کو اپنایا، وہ تاریخ میں سرخرو ہوئےاور جنھوں نے انھیں چھوڑ دیا، وہ صرف ہجوم بن کر رہ گئے۔
باشعور معاشرے میں زبان ذمہ دار ہوتی ہے، قلم دیانت دار ہوتا ہے اور اختلاف مہذب ہوتا ہے۔ وہاں بات جیتنے کے لیے نہیں، حق سمجھنے کے لیے کی جاتی ہے۔ وہاں انسان انسان کو نیچا دکھانے کے بجائے بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی شعور کی معراج ہے اور یہی کردار کی اصل پہچان۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب معاشرہ تحقیق کو اپنی آنکھ، ثبوت کو اپنا وزن اور دلیل کو اپنی زبان بنا لیتا ہے تو وہ صرف باشعور ہی نہیں، بلکہ باوقار بھی بن جاتا ہے۔ کیوں کہ تحقیق سوچ کو گہرائی دیتی ہے، ثبوت انصاف کو مضبوط کرتے ہیں اور دلیل اختلاف کو تہذیب سکھاتی ہےاور یہی ایک زندہ، مہذب اور باشعور معاشرے کی بنیاد ہے۔
ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ٹرسٹ لاہور ایسے ہی سماجی اقدار کے فروغ کے لیے ہمہ تن مستعد ہے۔اور نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں۔ نوجوان اس موقع سے بھر پور فائدہ اُٹھائیں۔









