آپ کی تعریف ؟ انسان! - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • آپ کی تعریف ؟ انسان!

    آج پوری دنیا میں موٹیویشنل سپیکرز کاپیشہ مقبول ہورہا ہے۔کارپوریٹ دنیا کے لیے مفید خدمت انجام دینے والے کئی موٹیویشنل سپیکرز نوجوانوں کو یہ مشورہ ۔۔۔۔۔

    By محمد علی Published on Jan 22, 2025 Views 471

    آپ کی تعریف ؟ انسان

    تحریر: محمد علی ڈیرہ اسماعیل خان

     

    آج پوری دنیا میں موٹیویشنل سپیکرز کاپیشہ مقبول ہورہا ہے۔کارپوریٹ دنیا کے لیے مفید خدمت انجام دینے والے کئی موٹیویشنل سپیکرز نوجوانوں کو یہ مشورہ دے رہے ہوتے ہیں کہ آپ سیاست و دنیا کے مسائل کو چھوڑو،بس اپنے کیرئیر پہ توجہ دو،یہ سب چیزیں فضول اور بے معنی ہیں،دنیا آپ کی قدر تب کرے گی جب آپ کی جیب میں پیسے ہوں گے۔

    موٹیویشنل سپیکرز کی یہ باتیں نوجوانوں کو اس لیے اپیل کرتی ہیں کہ یہ جذبات میں چپڑی ہوتی ہیں، دوم موٹیویشنل سپیکرز کو زبان و بیان پہ بھی قدرت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے شعلہ بیانی سے نوجوانوں کی آمادگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا یہ باتیں جدید سماجی تقاضوں کے مطابق ہیں یا خلاف؟کیا انسانی معاشرہ صرف خودغرضانہ سوچ کو ترقی دے کر آگے بڑھ سکتا ہے؟کیا انسان کی عظمت کا صرف معیار یہی ہے کہ وہ فقط نوکری کے حصول کے لیے تعلیم حاصل کرے؟افسر بنے،اپنی نسل بڑھائے اور دنیا و مافیہا سے لاتعلق رہے؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں انسانی معاشروں کی ساخت وشناخت پہ غور کرنا ہو گا۔

    انسان ساخت و جسمانی ضروریات کے اعتبار سے حیوان سے مشابہ ہے،دیگر حیوانات کی طرح اسے سردی گرمی بھی محسوس ہوتی ہے اور بھوک بھی،یہ اپنی بقا کے لیے کوشش کرتا ہے اور دیگر حیوانات کی طرح نسل بھی بڑھاتا ہے۔یہ ساری باتیں تو باقی حیوانات میں بھی ہیں پھر انسان کو کس بنا پہ اشرف المخلوقات کہا گیا؟قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ تین خصلتیں انسان کو دیگرحیوانات سےممتاز کرتی ہیں،جن کو برصغیر کے عظیم فلسفی امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ میں بیان فرمایا۔ان میں پہلی خصلت "حُبِ جمال"،دوسری "مادۂ ایجاد و تقلید" اور تیسری "رائے کُلی" ہے۔

    حُبِ جمال یا نفاست سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہتر سے بہترین کی تلاش ودیعت کردی ہے،اس جبلت کی بدولت ہی انسان نے اپنی خوراک،رہن سہن،لباس،تعمیرات کو بہتر سے بہترین بنایا اور ہر آنے والے دور سے ہم آہنگ رہا،زمانہ قدیم کے انسان کی خوراک کا مدار شکار پر تھا وہ غاروں میں رہا کرتا تھا، تن ڈھانپنے کے لیے کھال اور پتوں کا استعمال کرتا تھا،آج بدلتے ہوئے تقاضوں پر مبنی قوانین ہوں یا موسم کے مطابق خوراک، لباس ہو یا طرز رہائش، تک کا یہ سفر اسی حُبِ جمال یعنی بہتر سے بہتر کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ 

    دوسری خصلت "ایجاد و تقلید"ہے،اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ انسانوں میں سے کسی ایک یا چند نے اپنی عقل و دانش کو استعمال کرتے ہوئے کوئی فائدہ مند چیز ایجاد کی،تو دوسرے انسانوں نے اس کی تقلید کی۔اس کی مشہور ترین مثال "پہیہ"ہے،انسانوں میں کسی انسان نے پہیہ ایجاد کیا،جس سے بھاری چیزوں کو منتقل کرنے میں آسانی ہوئی،آج پوری دنیا اس ایجاد کی تقلید کرتے ہوئے اس سے مستفید ہو رہی ہے۔

    تیسری خصلت سب سے اہم ہے،جو اسے اشرف المخلوقات بناتی ہے،جسے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے "رائے کُلی"کہا ہے۔رائے کُلی کا مطلب یہ کہ دیگر حیوانات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے فقط انسان کو یہ خصلت عطا کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد رہنے والے انسانوں کا خیال رکھتا ہے، اور پہلی دو خوبیوں کو کام میں لا کران پہ آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں پہ اس کا دل دکھتا ہے،وہ اُن کو اِن مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچانا چاہتا ہے،وہ فقط اپنے آپ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ معاشرے کی اجتماعی ترقی چاہتا ہے۔

    اَب ان تین خصلتوں پہ غور کریں کہ کیا یہ خصلتیں دیگر حیوانات میں پائی جاتی ہیں؟کیا صدیوں سے حیوانات کی خوراک اور رہائش میں کسی طرح کی جدت آئی؟کیا کسی حیوان نے کوئی ایسی چیز یا طرزِ عمل ایجاد کیا جو دوسروں کے کام آیا ہو؟کیا دیگر حیوانات نے اپنی نسل کے علاوہ اپنے اردگرد رہنے والے حیوانات کا غم کیا؟

    غیرسماجی رویوں کے بارے میں قائم کیے گئے ہمارے سوالات کا جواب انھی تین خصلتوں کے اندر چھپا ہے۔ خاص کر "رائے کُلی" میں،اگر ایک انسان اِنفرادیت پسند بن جائے تو یہ اس کی فطرت کے خلاف ہے،کیوں کہ انسان اردگرد کے تمام لوگوں کی بہتری چاہتا ہے۔اگر وہ محض اس بات پہ مطمئن ہوجائے کہ اس کے پاس اچھی نوکری،اچھا گھر اور گاڑی ہے تو وہ حیوانی درجے پہ ہے،کھانا،سونا اور نسل بڑھانا تو دوسرے حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔اصل بات معاشرے کی اجتماعی ترقی کی ہے،جب پورا معاشرہ ترقی کرے گا تو اس میں رہنے والا ہر شہری ترقی کرے گا اور یہی فطرتِ انسانی کا مقصود ہے۔اگر آپ اِنفرادیت پسند بنے،دنیا و مافیہا سے آنکھیں بند کیے فقط اپنی ذات کا سوچ رہے ہیں تو آپ میں ایک بہت بڑی کمی ہے۔ یہ ہم خسارے کا سودا کر رہے ہیں۔ 

    لہذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان کو اِنفرادیت پسند بنانے کے بجائے انھیں اجتماعیت سے جوڑا جائے،ایسی اجتماعیت جو بلا تفریق رنگ،نسل مذہب ہو،جو معاشرے کی اجتماعی ترقی کی ضامن ہو،جس میں طبقاتیت نہ ہو،جو "رائے کُلی" کے اصول پہ مبنی ہو،ساتھ ہی ساتھ انھیں سیاست یعنی اجتماعی مسائل پر غور و فکرکی اہمیت اور اس کی معنویت بھی سمجھائی جائے کہ سیاست کا مطلب موجودہ پارٹیوں کو سپورٹ کرنا یا ان کا ایندھن بننا نہیں،بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا شعور حاصل کرنا، اور اپنے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئےاپنے مسائل کا حل تلاش کرنا، موجود نظام کا تجزیہ کرنا،اپنے حقوق کی پہچان کرنا،ان کے حصول کا طریقہ متعین کرنا ہے۔

    یوں زندگی یونہی تمام ہونے کے بجائے ایک مقصد زندگی طے پائے گی اور زندگی با مقصد اور مفید ہوجائے گی ۔

     

    Share via Whatsapp