"سوال" کیا ہے؟
انسان اپنی ذات میں غور و فکر کے داؤ پیچ رکھتا ہے۔ اس کی ذات میں اِدراک کی صلاحیت اور مشاہدے کا نظام موجود ہے۔ ۔۔۔۔

"سوال" کیا ہے؟
تحریر: یاسر عرفات۔ ملتان
انسان اپنی ذات میں غور و فکر کے داؤ پیچ رکھتا ہے۔ اس کی ذات میں اِدراک کی صلاحیت اور مشاہدے کا نظام موجود ہے۔ نظامِ فکر رکھنے کی وَجہ سے مسائل کے حل کرنے میں انسان کو امتیازی شرف حاصل ہے۔ کرّہ ارض کے تخلیقی میدان میں انسان کو اشرف المخلوقات پایا گیا۔ اس کے استفسار نے مادے کے رازوں سے پردہ ہٹانے کا ایسا سلسلہ قائم کیا، جسے عصرِحاضر میں سائنس و فلسفے کا نام دیا گیا۔ انسانی اجتماع کی اس پیداوار نے زمان و مکاں پر اشرف المخلوقات کی گرفت مزید بڑھا دی۔ غور و فکر کے جس عمل نے انسانیت کو سائنسی ایجادات تک پہنچایا، اس کی اکائیوں میں سے ابتدائی اکائی "سوال" ہے۔
گویا "سوال" ابتدائی درجے کا عمل ہے اور یہ انسانیت سے اجنبی نہیں ہے۔ فردِ واحد میں اس کی پہچان ایسے موجود ہے، جیسے انسانیت کے باقی مشترکہ اعمال۔ مثلاً کھانا، پینا، سونا، خوف، تحفظ، خوشی، غمی وغیرہ۔ اس کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کوئی "سوال" کسی "مسئلے" سے اخذ ہوتا ہے۔ مثلاً مسئلہ ناکارہ تعلیم کا ہے تو سوال نظامِ تعلیم پر ہوگا، مسئلہ غربت کا ہے تو سوال نظامِ معیشت پر، مسئلہ انتشار کا ہےتو سوال نظامِ سیاست پر ہوگا۔
یعنی سوال ایک مسئلے کے حل کا مبدا(ابتدائی قدم) ہوتا ہے، جیسے ایک عمارت کی بنیاد درست ہونی چاہیے، ویسے ہی ایک عمل کی ابتدا راست ہونی چاہیے۔ گویا کہ جو انسان معاملے کو اچھی طرح سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ انسان مسئلے کے حل کے لیے اچھے سوالات قائم کرسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ ایک اچھا سوال تب بنا سکتے ہیں، جب آپ مسئلے کو اچھے طریقے سے جانتے ہوں۔ اسی لیے سوال کو آدھا علم قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مسئلے کی تفہیم کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ باقی کا آدھا علم تشخیص و معالجے کا ہے۔ اسی لیے سوال برائےسوال بے وُقعت سمجھا جاتا ہے کہ اس میں معاملہ فہمی نہیں ہوتی۔
سوال اور معاملہ فہمی میں ربط:
ایک اچھا سوال معاملہ فہمی پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر سوال کی ادائیگی میں جامعیت ہو تو سونے پہ سہاگہ ہے،جیسے ایک نایاب ہیرا کسی قابل جوہری کے ہاتھ میں آجائے تو وہ اس کے ساتھ انصاف کرتا ہے، ایسے ہی اچھا سوال انسانی غور و فکر کا ایک پروڈکٹ ہے جو وصول کنندہ کے رحم و کرم پہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا وصول کنندہ وہ ہوتا ہے جو سوال کی ادائیگی میں اُلجھنے سے بچ جائے اور سوال کی تاثیر میں اضافہ (value addition) کر دے۔ یہ صلاحیت تعلیم و تربیت سے پیدا ہوتی ہے۔ عام طور پر تعلیم، علم حاصل کرنے یعنی معلومات کا ذخیرہ کرنے کو سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تھوڑا گہرائی سے دیکھا جائےتو "علم" نام ہے معلومات کو ترتیب دینے کا۔ ترتیب سے مراد ہے معلومات کو ان کی اہمیت، جامعیت، قسم اور ماخذ وغیرہ کے اعتبار سے درجہ بندی کر دینا۔ ایک اچھے طالبِ علم میں معلومات کی ضرورت کا احساس بھی اچھا ہوتا ہے، جس سے وہ انفارمیشن کی اہمیت کا اندازہ لگاتا ہے۔ مثلاً آپ کو خبر ملی کہ کوئی مقام (place) ہے، جہاں پہ آپ کا مطلوبہ تعلیمی و تربیتی نظام میسر ہے، تو ایک اچھا طالب علم ہونے کی وَجہ سے آپ کو اس مقام سے جڑی ہر قسم کی معلومات کی اہمیت کا احساس ہوگا۔ اگر اہمیت کا احساس کسی خواہش سے متاثر ہوکر بگاڑ کا شکار ہوجائے تو آپ اچھے طالب علم نہیں بن سکتے۔ مثلاً تعلیم و تربیت کے اس مقام (place) سے جُڑی سہولتوں (facilities) کی انفارمیشن کی اہمیت کا احساس ہو اور اس جگہ سے جڑی ذمہ داریوں (responsibilities) کی انفارمیشن کا احساس نہ ہو، وہ نظرانداز ہوتی رہے تو اس سے طالب علم کبھی بھی جامع علم تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ اس کا علم بھی جُزوی رہے گا اور جُزوی علم کے نتیجے میں عمل بھی جُزوی رہے گا۔ اسی لیے نیم حکیم کو خطرۂ جان تصور کیا جاتا ہے کہ اس کا علم جُزوی ہونے کے نتیجے میں علاج کا عمل بھی جُزوی (partial) ہوتا ہے۔
گویا جو طالبِ علم خود میں یہ صلاحیت پیدا کر لے کہ وہ خواہشات (Advertisement Media) سے غیرمتاثر ہوکر حقیقی اور جامع انفارمیشن کی طلب خود میں صحیح سالم پانے لگے تو وہ اچھے سوالات پیدا کرنے اور ان کو با آسانی ادا کرنے کا اہل ہو جائے گا۔ گویا معلومات کی اہمیت اور اقسام کے مطابق ترتیب دینے،ان کی جامعیت اور ماخذ تک رسائی حاصل کرنے کا نظام بن جائےگا۔ اور یہ وہم دور ہو جائےگا کہ اس کو علم حاصل کرنے کے لیے بہت ہی غیرمعمولی قسم کا حافظہ درکار ہے۔
علم اور حافظہ کا تعلق:
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تعلیم اور حافظے (Memory) کو ایک دوسرے کے لیت لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ حقیقت میں "علم" اور "حافظہ" کا تعلق بہت گہرا ہے۔ عام نظر سے دیکھیں تو یہ تعلق ایسے نظر آتا ہے، جیسے پاکستان میں اپریل 2024ء میں پاسکو سے جاری ہونے والے باردانے (wheat bags) اور گندم کا تھا۔ جیسے باردانہ صرف غیرمعمولی افراد کو میسر تھا اور باقی تمام خود کو خسارے میں سمجھ رہے تھے۔ اس مثال میں باردانے کی جگہ حافظے کو رکھ لیں اور گندم کی جگہ معلومات کو رکھ لیں،جیسے ہر کوئی خسارے سے بچنے کے لیے اپنی اپنی گندم اس پاسکو سے جاری کردہ بوری میں بھرنا چاہ رہا تھا، ویسے ہی ہر کوئی اپنی رسائی میں موجود معلومات کو ایک غیرمعمولی حافظہ حاصل کرکے اس میں بھرنا چاہتا ہے۔سمجھا یہ جاتا ہے کہ اس سے مسئلہ حل ہو جائےگا۔ لیکن حقیقت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسے گندم کی مارکیٹ کی خرابی کا مسئلہ ویسے کا ویسے کھڑا ہے۔ جو کل insecure تھے وہ آج بھی insecure ہی کھڑے ہیں۔ جنھیں کل کوئی مسئلہ نہیں تھا، انھیں آج بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، چاہے مارکیٹ میں جیسی مرضی خرابی آئے۔ لہٰذا "علم" کے دائمی حصول کےلئے "حافظہ" "میموری" یا "بوری" صرف ایک accessory ہے۔ اصل چیز تجزیاتی صلاحیت ہے جو اچھا سوال پیدا کرنے سے آتی ہے۔ تجزیاتی صلاحیت انسان کو خسارے سے بچاتی ہے۔ خطرے کی جڑ تک لے جاتی ہے اور خطرے کو جڑ سے اُکھاڑنے کا لائحہ عمل بنانا بھی تجزیاتی صلاحیت کا کام ہے۔ حافظے (memory) کا کردار ثانوی ہے۔ تجزیاتی صلاحیت بتائےگی کہ گندم کی مارکیٹ کے مسائل کا کیا حل ہے۔ گندم کی مارکیٹ میں خرابی پیدا کرنے والے عناصر کون سے ہیں اور ان کا سدِ باب کیسے ہوگا۔ "تجزیاتی صلاحیت" ایک تراشے ہوئے ہیرے کی مانند ہوتی ہے۔ جتنا قابل جوہری ہوگا وہ اتنا ہی بہترین ہیرے کو تراشے گا۔
زوال پزیر معاشروں میں "سوال" کوئلے کی کان میں دبے ہوئےہیروں کی مانند پڑے رہتے ہیں۔عروج پذیر معاشروں میں "سوال" قابل جوہری کے ہاتھ لگے ہیروں کی طرح تراشے جاتے ہیں۔ جمود یافتہ معاشروں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں "سوال" کی حقیقی قدر گِر جاتی ہے۔ "سوال" صرف منافع خوروں کی جاگیر ہوتے ہیں، جس سے علمی سرمایہ داری فروغ پاتی ہے اور معاشرہ تجزیاتی صلاحیت پیدا کرنے سے بانجھ ہو جاتا ہے۔
زیرِ نظر بحث کے نتیجے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ "سوال" انسان کا نوعی وصف ہے، جس کی تاثیر معاملہ فہمی پر منحصر ہے۔ اس کی ادائیگی موقع محل اور وصول کنندہ کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ "سوال" کو روکنا یا انسانی ترقی کو روکنا ایک ہی بات ہے،جس بھی نظامِ فکر نے "سوال" کی گنجائش رکھنا چھوڑ دی وہ تجزیاتی صلاحیت پیدا کرنے سے بانجھ اور مسائل کے حل کرنے کے امتیازی شرف سے محروم ہو گیا۔