بنیادی انسانی حقوق کا تصور (مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکار کی روشنی میں) - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • بنیادی انسانی حقوق کا تصور (مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکار کی روشنی میں)

    معاشروں میں انسانوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سوسائٹی کے تمام افراد کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں ۔۔۔۔

    By ابرہیم خان Published on Jan 30, 2025 Views 407

    بنیادی انسانی حقوق کا تصور 

    (مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکار کی روشنی میں)

     تحریر : محمد ابراہیم خان ، مانسہرہ 

     

     معاشروں میں انسانوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سوسائٹی کے تمام افراد کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں ۔ انسانیت کیٰ ترقی کی راہ میں معاشی حالات و اسباب اَثر انداز ہوتے ہیں، جب تمدن و تہذیب کو گھن لگ جاتا ہے تو پورا معاشرہ تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے اور انسانیت اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوجاتی ہے۔ اور انسان کی اعلیٰ صلاحیتیں جو بحقِ قوم استعمال ہونا تھی وہ ذات سے اوپر نہیں اٹھتیں، انھی رویوں کا اِظہار سرمایہ داری نظام کی موجودگی میں ہوتا ہے۔ یہ حالت سوسائٹی کے لیے انتہائی تباہ کن ہوتی ہے، اسی کو مالی سرمایہ داری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ایسے ہی بعض اوقات علمی طبقہ معاشرے کے افراد کو درست علم سے محروم رکھتا ہے اور خود علم کا اجارہ دار بن کر بیٹھ جاتا ہے اس علمی اجارہ داری کے طفیل یہ طبقہ سوسائٹی کے افراد کے لیےناخدا بن جاتا ہے اور حیلہ سازی سے عوام کو لوٹتا ہے اور سرمایہ داروں کی صف میں اپنا وزن ڈالتا ہے۔ یوں عوام جہالت میں مبتلا ہوکر دنیاوی و اخروی ترقی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ 

          مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ انسانی معاشروں کے ارتقا کا دار و مدار معاشیات پر ہے ۔ وہ معاشیات و اخلاقیات کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں ۔ امام سندھیؒ کے نزدیک انسانوں کی اجتماعی زندگی کے لیے اقتصادی توازن ایک ضروری امر ہے اور ہر انسانی جماعت کو ایسے اقتصادی نظام کی ضرورت ہے جو اس کی ضروریاتِ زندگی کا کفیل ہو ۔ جب لوگوں کو اپنی معاشی ضروریات سے اطمینان نصیب ہوتا ہے، تو پھر وہ زندگی کے ان شعبوں کی ترقی اور تہذیب کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں جو انسانیت کے اصل جوہر ہیں ۔اقتصادی نظام کے درست اور متوازن ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی معاشروں کے اخلاق تکمیل پذیر ہوجاتے ہیں۔ حضرت سندھیؒ فرماتے ہیں ۔ 

    " حضرت محمد ﷺ کو شاہد ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں خدا کی محبت ہے انہیں ایک استاد کی ضرورت ہے جو انہیں بتائے کہ محبت کیسے کی جاتی ہے اور خدا کی محبت کے دعوے سے انسانوں کی خدمت کس طرح ہونی چاہیے ۔" (قرآنی شعور انقلاب صفحہ نمبر 280 ، رحیمیہ مطبوعات، جلد اول، سن اشاعت 2019ء)

    مولانا عبید اللہ سندھیؒ انسانی معاشروں کی ترقی کا یہ راز بتاتے ہیں: " اجتماع میں افراد کی ضرورت کے مطابق مالی اشتراک ہو اور ضروری علم عام ہو ، کوئی شخص نہ بھوکا ننگا رہے اور نہ جاہل اور بے خبر" ( ایضاً،صفحہ نمبر 333 ، جلد دوم)

    یعنی جب سوسائٹی میں مالی نظام اشتراک اور عدل پر قائم ہو گا، تمام افراد کی بدنی و عقلی ضروریات پوری ہوں گی۔ افرادِمعاشرہ تہذیب اور اخلاق کی طرف متوجہ ہوسکیں گے۔ لہٰذا اسی تصور مساوات کو سامنے رکھ کر مولانا سندھیؒ معاشرے کے محنت کش طبقات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں  اور آپ کی رائے کے مطابق فوائد عامہ کے تمام ذرائع قومی ملکیت میں ہونے چاہییں۔ زرعی زمینوں کے متعلق مولانا کی رائے یہ ہے کہ "کاشت کار کے پاس اتنی زمین ہونی چاہیے جس پر وہ خود کاشت کر سکے۔وہ معاشی استحصال کی ہر شکل کے مخالف تھے ۔ قومی ملکیت میں لیے گئے کارخانوں کو مزدوروں کی انجمنوں کے ذریعے چلانے کے حامی تھے۔ تجارتی تعلقات کو کوآپریٹو سوسائٹیوں (Cooperative Societies ) کے ہاتھ میں دینے کے حامی تھے اور اگر کاروباری لوگ چاہیں تو ان سوسائٹیوں کے رکن بن سکتے ہیں ۔جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے تو یہ حکومت کے ہاتھ میں رہیں گی"۔ (مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات ، ندوۃ المصنفین، لاہور، صفحہ 8 )

     امام سندھیؒ فرماتے ہیں معاشرے میں معاشی جبر اور طبقاتی نظام انسانیت کو اُس کی اعلیٰ منزل سے گرا کر جانوروں کی زندگی گزرانے پر مجبور کر دیتی ہے ان کی فطری صلاحیتیں برباد ہوجاتی ہیں۔ سوسائٹی کو اگر بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جائے تو سوسائٹی کے اجتماعی اخلاق فاسد ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا تہذیب نفس اور اعلیٰ اخلاق کے لیے ضروری ہے کہ ہرکسی کو بنیادی انسانی حقوق میسر ہوں۔ 

    " اجتماع کی اندرونی پختگی اور مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ ذرائع پیداوار کی تقسیم اس طرح ہو کہ ساری سوسائٹی کی طبعی ضروریات یعنی خوارک ، لباس ، مکان ، تعلیم ، صحت وغیرہ پوری ہوتی رہیں اگر ایسا نہ ہو تو نادار انسان ان ضروریات کو پورا کرنے میں اتنے پھنس جاتے ہیں کہ اپنے ایمان کی تکمیل سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ " (قرآنی شعور انقلاب صفحہ نمبر 332،331 ، جلد دوم، سن اشاعت 2019ء)

    مولانا سندھی کے افکار کی روشنی میں محنت کش طبقات سوسائٹی میں ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہیں۔ قومی وقار کے لیے ضروری ہے کہ محنت کش طبقات کو وقار دیا جائے ۔ عصرحاضر کی تمام تر ترقیات انسانی محنت کی بدولت ہیں، جن اقوام نے محنت کشوں کی قدر کی وہی آج ترقی کے عروج کو چھو رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ امامِ سندھی ترقی و فلاح کے لیے انسانی عقل و شعور کو ناگزیر قرار دیتے ہیں ۔ عقل و شعور کے بغیر عصری تقاضوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ لہٰذا عقلی و علمی ترقی ہی نئی تہذیبوں سے آشنا کرتی ہیں۔ 

    انسان کی تعریف کے حوالے سے مولانا فرماتے ہیں:" انسان کی انسانیت میں اعلیٰ جوہر یہ ہے کہ وہ ایک بات سمجھ لے پھر اس کو عملی جامہ پہنائے ۔ وہ اینٹ پتھر نہیں کہ ہلایا تو ہل گیا نہیں تو ساکن پڑا رہا ۔ ہم اپنی روزانہ زندگی میں نوکر اور غلام کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ نوکر اور غلام خود سوچ کر اپنی ذمہ داری پر کوئی کام نہیں کر سکتے اس لیے ان پر انسان کا لفظ پوری طرح صادق نہیں آتا ۔ اصل میں انسان کا ترجمہ حر ( آزاد ) ہے کہ وہ خود سوچ کر اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ " (ایضاً،صفحہ نمبر 134 )

    مولانا سندھیؒ انسان کے فطری تقاضوں کی تکمیل کے لیے علوم کے حصول کو ہر فرد کا لازمی حق قرار دیتے ہیں ۔ افرادِ معاشرہ کے بنیادی علوم کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ حکمت اور جدید علوم کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں کہ سیاسیات ، اقتصادیات اور جدید علوم کے درمیان تطبیق پیدا کی جائے اور اسے عام کیا جائے۔ 

    انسانی معاشرے کی بقائے باہمی اشتراک اور یکجہتی میں ہے قومی ترقی کا راز اس میں مضمر ہے کہ سوسائٹی کے تمام طبقات کے درمیان اتحاد ہو اور محنت کو شعار بنائیں ۔مولاناسندھی ان لوگوں کےبارےمیں جو انسانیت کی ترقی کے لیےکام نہیں کرتے، فرماتے ہیں: " ہم انسانیت کی خدمت کرنے کے بجائے فلسفیانہ موشگافیوں اور دورازکار بحثوں میں پڑ گئے۔ اور کمزوروں کو کمزور رکھ کر ان کا خون چوسنے کے فلسفے کے جواز میں بڑی بڑی بحثیں کرنے لگ گئے۔ حال آں کہ چاہیے یہ تھا کہ بیکاروں  (The Unemployed) کو کام پر لگانے کے ذرائع پر غور کرتے، اور جو لوگ خدا سے تعلق جوڑنا بھول گئے ہیں ان کو اس طرف متوجہ کرتے، اور انھیں علم دیتے"۔ (ایضاً، صفحہ نمبر 296)

    امام سندھی انسانی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق کو لازمی قرار دیتے ہیں  اور ایک ایسے نظام کی بات کرتے ہیں، جہاں حقوق کا تحفظ ہو ، انسانوں کی کفالت ہو ، محنت کا استحصال نہ ہو ، تمام انسانوں کو روٹی ، کپڑا ، مکان  ، تعلیم اور عزت نفس کا تحفظ حاصل ہو ۔ ان کے فطری تقاضوں کی تکمیل کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہ ہو اور ان کو سیاسی شعور حاصل ہو انھیں رائے کی آزادی میسر ہو اور ایک ایسا سماج وجود میں آئے جو ارتقا کا مظہر ہو۔ مولاناسندھی کہتے ہیں کہ اجتماعیت اور وحدت کو قائم کیا جائے ، اَنفرادیت کے بجائے مجموعی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ وہ محنت کش طبقات کے لیے عملی طور پر اقدامات کرنے کے قائل تھے۔ امام سندھیؒ جدید علوم ، عصری علوم اور عقلی علوم کو عام کرنے کی بات کرتے ہیں۔

     مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکار آج کے دور میں ناگزیر ہیں۔ آپ نے ایسی فکر اور پروگرام پیش کیا، جس کو عمل میں لا کر مجموعی معاشرے کی ترقی و فلاح یقینی بن جاسکتی ہے۔ آپؒ اپنے نصب العین کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " قرآن حکیم انسانیت کی ترقی کے لیے صالح فکر پیش کرتا ہے،جس میں انسانیت کے سب پہلو آ جاتے ہیں ۔ اس کے ذریعے انسانی سوسائٹی کی معاشی اصلاح بھی ہوجاتی ہے اور آخرت کی تیاری بھی ۔ اس فکر کو ماننے والی جماعت دنیا میں سربلند ہو کر انسانی سوسائٹی میں عدل کے نظام کو قائم کرتی ہے۔ وہ غربیوں اور بے کسوں کی ہر قسم کی ضرورت پوری کرنے کا ذمہ لیتی ہے۔ انھیں تمام معاشی مصیبتوں سے بچاتی ہے، تاکہ انسان کا خدا تک پہنچنے کا راستہ آسان ہو۔ اس انصاف اور خدا پرستی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی میں اس کا راستہ صاف ہوجاتا ہے اور اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی " (ایضاً،صفحہ نمبر 180 ، جلد اول)

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ باشعور نوجوان  مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے افکار و نظریات کی بنیاد پر سوسائٹی میں عادلانہ نظام کی جد وجہد میں اپنا کردار ادا کرے، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو سکے۔

     

    Share via Whatsapp