ناکام مذہبی سماج ؛ اخلاقیات کا زوال اور حقیقی اقدار کی گمشدگی
سوسائٹی کو مذہب کے حقیقی اصولوں سے دور رکھ کر باثرافراد یعنی مذہبی اجارہ دار طبقہ اس مذہب کو اپنے مفادات بٹورنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ناکام مذہبی سماج ؛ اخلاقیات کا زوال اور حقیقی اقدار کی گمشدگی
اعتدال حسین شاہ ؛ چھتر پلین، مانسہرہ
کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جس کا دعویٰ ہے کہ اس کی بنیاد مذہبی اصولوں پر ہے، وہ کیسے ناکام ہوسکتا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایسے سماج پر لاگو ہوتا ہے، جہاں مذہبی نعرے اور رسومات تو بہت نظر آتے ہوں، لیکن دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور حقیقی اخلاقیات کا فقدان ہو۔
ناکام مذہبی سماج
ناکام مذہبی سماج وہ سماج ہے، جہاں مذہب صرف دکھاوے کی حد تک رہ جاتا ہے اور معاشرتی اَقدار رسم و رواج میں رہ جاتی ہیں۔ یہ ایسا سماج ہوتا ہے جہاں مذہب کے اصل مقصد کو پس پشت رکھ دیا جاتا ہے پھر اس کی جگہ شدت پسندی اور فرقہ واریت لے لیتی ہے۔ اس طرح کے سماج میں مذہب کو خدمت اور اخلاق کے بجائے طاقت کے حصول، ذاتی مفاد، اور عوام پر محض رسمی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرتی زوال اور افراد کی مایوسی بڑھتی ہے اور سماج میں انتشار کی فضا جنم لیتی ہے۔
ناکام مذہبی سماج کے نقصانات
اکثر ناکام مذہبی سماج میں مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو ان کےعقائد کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے اور اس سے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر طاقت حاصل کی جاتی ہے۔ ایسے سماج میں مذہب کے نام پر لڑائیاں، فرقہ واریت، اور انتہاپسندی عام ہو جاتی ہے۔ یہاں مذہبی پیشوا اور راہ نما اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مذہب کو ایک آلے (tool) کےطورپر استعمال کرتے ہیں اور اس کی اصل تعلیمات کو نظرانداز کر دیتے ہیں، چند غیرضروری رسوم کی پابندی ضروری خیال کرلی جاتی ہیں۔ سوسائٹی کو مذہب کی حقیقی تعلیمات سے دور رکھ کر باثرافراد یعنی مذہبی اجارہ دار طبقہ اور ظالم حکمران مذہب کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے سماج میں لوگ مذہب کی چند رسومات میں تو بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہوتے ہیں، جب کہ اصل تعلیمات سے ناواقف ہونے کی بنیاد پر دوسروں کا حق سلب کرنا، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور دیگر سماجی برائیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ دیانت داری، انصاف، امن اور عدل جیسی بنیادی اَقدار سماج سے غائب ہوتی ہیں۔
ناکام مذہبی سماج میں اجارہ دار طبقے کے اثرات
ناکام مذہبی سماج میں چند افراد یعنی ایک مخصوص ٹولہ اپنی اجارہ داری قائم کرلیتا ہے اور اپنی رائےسماج پر مسلط کرتا ہے۔ ایسے میں اس کی رائے سوسائٹی کے عام انسانوں کے لیے حرف آخر ہوتی ہے، جس کی بدولت سماج اتحاد و اتفاق سے محروم ہوجاتا ہے اور سوسائٹی میں مختلف گروہ وجود میں آ جاتے ہیں، جس کا نتیجہ انتشار اور افتراق کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
ایسے سماج میں جب مذہب کو صرف ظاہری رسم و رواج تک محدود کر دیا جاتا ہے تو روحانیت ختم ہو جاتی ہے۔ عبادات اور مذہبی اعمال کی ادائیگی تو جاری رہتی ہے، مگر ان میں خشوع وخضوع اور تربیت کے اثرات کا فقدان ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں میں لوگ اپنے اعمال کے بجائے دوسروں کے اعتقادات اور عبادات کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں، پھر دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے معاشرے کے افراد کا اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب کو زندگی کا حصہ بنانے کے بجائے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
حاصلِ تحریر
ایسی صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہب کے حقیقی اصولوں کی طرف رجوع کریں، دین کی اصل تعلیمات سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ محبت، برداشت، عدل وانصاف اور علم کی روشنی کو فروغ دیں۔ جب تک ہم اپنے دین کی اصل بنیادوں کی طرف نہیں رخ کریں گے، اس وقت تک ہمارے معاشرے میں حقیقی امن اور خوش حالی ممکن نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنےکی توفیق ارزاں کرے۔
آمین یا رب العالمین