انسان دوستی کا فلسفہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • انسان دوستی کا فلسفہ

    انسانیت ایک ایسا وصف اور فلسفہ ہے جو انسانوں کو ان کی بنیادی اقدار کی یاددہانی کراتا ہے۔ یہ تمام تر تعصبات، گروہی تفریقات اور معاشرتی حدود کو .....

    By Asghar Surani Published on Feb 25, 2025 Views 331
    انسان دوستی کا فلسفہ
    تحریر : محمد اصغر خان سورانی، بنوں

    انسانیت ایک ایسا وصف اور فلسفہ ہے جو انسانوں کو ان کی بنیادی اقدار کی یاددہانی کراتا ہے۔ یہ تمام تر تعصبات، گروہی تفریقات اور معاشرتی حدود کو پیچھے چھوڑ کر ایک ایسے نظریے کو فروغ دیتا ہے جو محبت، ہمدردی اور مساوات پر مبنی ہے۔ یہ فلسفہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور ہماری سب سے اہم شناخت ہماری انسانیت ہے۔
    اللہ تعالی ٰقرآن حکیم میں  فرماتا ہے:
    "یَا أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَیٰ وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ" (سورة الحجرات: 13) 
    "اے آدمیو! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمھاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کو بڑی جس کو ادب بڑا ۔اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار "۔ 
    اس آیت میں تمام انسانوں کی برابر حیثیت کو واضح کیا گیا ہے اور تقویٰ کو فضیلت کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: 
    وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيٓ ءَادَمَ وَحَمَلۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيلٗا٧٠(سورہ بنی اسرائیل)
    "اور ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھا دیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر"۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ تمام انسانوں کو عزت بخشی گئی ہے۔
    ابتدائی ادوار میں جب انسان نے اجتماعیت کے چھوٹے دائروں یعنی قبیلے اور خاندان کی شکل میں رہنا شروع کیا ۔ تو یہ شناخت انھیں تحفظ اور سکون فراہم کرتی تھی اور اَب بھی جن ممالک میں اِنفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تو وہاں پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور رواداری کا جذبہ رکھتے ہیں۔ یہ اجتماعیت معاشرتی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے اور انسانی ارتقا کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
    وقت کے ساتھ، یہ گروہی شناخت مزید تقسیم ہوتی گئی اور انسانوں نے اپنی وابستگیوں کی بنیاد زبان، مذہب، قومیت، نسل اور جنس پر رکھی۔ یہ وابستگیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب ان سے تعصب اور برتری کے احساس جنم لیتے ہیں تو یہ انسانیت کے لیے نقصان دہ بن جاتی ہیں، جس کے بارے میں قرآن مجید نے واضح طور پر فرما دیا کہ یہ چیزیں عزت اور تکریم کا ذریعہ نہیں ہے۔ بلکہ آدم کی اولاد ہونے کے ناطے سب برابر ہو۔ ہاں ایک معیار ہے وہ تقویٰ کا ہے۔ اللہ کے نزدیک وہ شخص ، گروہ  اورجماعت زیادہ مقرب ہے جو تقویٰ کے اصولوں پر کاربند ہو۔ تقویٰ کا ایک اہم ترین اصول یہ ہے کہ ہر معاملے میں عدل اختیار کیا جائے۔
    جب گروہی شناخت تعصب اور برتری کا روپ دھار لیتی ہے، تو معاشرے میں نفرت، تفریق اور تنازعات پروان چڑھتے ہیں۔ یہ تعصب مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے:
    1۔ لسانی تعصب: جب ایک زبان بولنے والے خود کو دوسری زبان بولنے والوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔
    2۔ مذہبی تعصب: مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کو کم تر سمجھتے ہیں، جس سے معاشرتی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔
    3۔قومی تعصب: جب ایک قوم دوسری قوم کو حقیر سمجھتی ہے، تو یہ بین الاقوامی سطح پر نفرت اور جنگوں کا سبب بنتی ہے۔
    3۔ صنفی امتیاز: مرد اور عورت کے حقوق میں فرق کرنے سے معاشرتی عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔
    ایسے رویے نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ انسانیت کے مشترکہ اصولوں کے خلاف ہیں۔ یہ رویے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے بجائے دور کر دیتے ہیں اور معاشرتی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
    رسول اکرم ﷺ نے ہمیشہ انسانیت کی قدر کی ہے اور مختلف مواقع پر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انسانیت کا درس دیا۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: "کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے"۔ یہ اعلان انسانیت کی برابری اور مساوات کی بہترین مثال ہے، پھر فرمایا کہ "تمھارے خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہیں"۔ اس میں انسانوں کے بنیادی حقوق کی حرمت کا واضح پیغام موجود ہے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ "جو زمین والوں پر رحم کرتا ہے، آسمان والا اس پر رحم فرماتا ہے"۔ (ترمذی، 1924) یہ احادیث نہ صرف اس دور کی راہ نمائی کرتی ہیں، بلکہ آج کے دور میں بھی انسانیت کے فروغ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہ تعلیمات ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنے کی دعوت دیتی ہیں جو امن، مساوات،رواداری اور محبت پر قائم ہو۔ 
    قرآن و حدیث کی روشنی میں انسان دوستی کا فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نہ کوئی قوم دوسری قوم سے بہتر ہے، نہ کوئی نسل دوسری نسل سے اعلیٰ ہے، زبان یا جنس کی بنیاد پر کسی کو برتری حاصل نہیں ہے۔ ہم سب انسان ہیں اور ہماری سب سے اہم شناخت یہی ہے۔ انسان دوستی کا نظریہ ہمیں یہ یاد دِلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی نوع انسانی سے تعلق رکھتے ہیں ، سب آدم کے اولاد ہیں۔ انسانیت کو اللہ تعالیٰ نے اپنےکنبے سے تعبیر کیا ہے۔ اگر ہم انسانیت کی شناخت کو مقدم رکھیں تو باقی تمام شناختیں ثانوی ہوجاتی ہیں۔ یہ فلسفہ ہمیں اپنے نظریات میں کشادگی پیدا کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ ہم تعصب، نفرت اور تفریق کے بندھنوں سے آزاد ہوسکیں۔
    انسان دوستی کی بنیاد پر ایک بہتر دنیا: 
    ایک انسان دوست معاشرے کے قیام کے لیے درج ذیل اصولوں کو اپنانا ضروری ہے:
    1۔ برابری اور مساوات: تمام افراد، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل، مذہب یا جنس سے ہو، برابر کے حقوق کے مستحق ہیں۔
    2۔ انصاف کا نظام: قانون کا اطلاق تمام شہریوں پر یکساں ہوتا ہے، تاکہ کوئی بھی شخص اپنی طاقت یا حیثیت کا غلط استعمال نہ کر سکے۔
    3۔ تعلیم اور شعور: بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی انسانیت، محبت، رواداری اور مساوات کے اصولوں سے روشناس کرانا ضروری ہے۔
    4۔ اقلیتوں کا تحفظ: اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے ساتھ مساوی سلوک معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔
    تعلیم انسانیت کے فلسفے کو عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اور تعلیمی ادارے وہ مراکز ہونے چاہییں، جہاں بچوں کو مختلف ثقافتوں، مذاہب اور قومیتوں کے احترام کا درس دیا جاتاہو۔ نصاب میں انسان دوستی اور مساوات پر مبنی مواد شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ بچے ابتدائی عمر سے ہی ان اقدار کو اپنائیں۔ معاشرتی راہ نما اور حکومتی عہدیدار بھی انسانیت کے فلسفے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیوں کہ حکومتوں کے فیصلوں میں انصاف، مساوات، رواداری اور برابری کو ترجیح دینے سے معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ تمام الہامی کتب اور مذاہب کا مرکزی موضوع انسانیت ہےاور اسلام نے بھی اپنے پیروکاروں پر جو عبادات فرض کی ہیں، ان کا مقصد انسانیت کا احساس اور مدد ہے۔ مثلاً، روزہ اور زکوٰۃ کا تجزیہ کریں تو ان کا مقصد یہی نظر آتا ہے۔ اسی لیے مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے فرمایا کہ خداپرستی کا لازمی نتیجہ انسان دوستی ہے،یعنی جو شخص خدا کی عبادت میں وقت گزارتا ہے، اس کے اَثرات معاشرتی سطح پر انسان دوستی کی صورت میں ظاہر ہونے چاہییں اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کی خداپرستی میں نقص ہے۔
     انسان دوستی کا فلسفہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی کرۂ ارض کے باسی اور ایک مشترکہ خاندان کا حصہ ہیں اور ہماری اصل طاقت ہماری مشترکہ اقدار میں ہے، نہ کہ تفریقات میں۔ یہ نظریہ ہمیں نہ صرف جنگوں اور تنازعات کے خاتمے کی راہ دِکھاتا ہے، بلکہ بین الاقوامی تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دے کر معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم محبت، امن،رواداری اور مساوات پر مبنی اصولوں کو اپنائیں اور انسان ہونے کی شناخت کو سب سے مقدم رکھیں اور انسانیت کو اللہ تعالیٰ کا کنبہ سمجھیں تو نفرت، تعصب اور تقسیم سے نکل کر ایک روشن اور خوش حال مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔غرض انسانیت کے فلسفے کو عملی طور پر اپنانا اور اس کے اصولوں کو معاشرتی سطح پر فروغ دینا، تب ہی ممکن ہے جب وہاں قرآنی اصولوں پر مبنی ایک عادلانہ نظام موجود ہو۔ 
    قرآن مجید نے انسانوں کے درمیان برابری، محبت اور مساوات کے اصول قائم کیے ہیں، جو ہر انسان کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتے ہیں۔ 
    ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور اس سلسلے میں نوجوانوں کی تربیت میں مصروف کار ہے۔ تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے، جہاں انسانیت کی سچی اقدار کو سر بلند کیا جاسکے۔
    Share via Whatsapp