سماجی تبدیلی کے طریقہ ہائے کار کا جائزہ
زوال کے دور میں یہ ایک عمومی ذہنیت بن جاتی ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان طبقہ ہر ایک کام جلدبازی میں۔۔۔۔۔

سماجی تبدیلی کے طریقہ ہائے کار کا جائزہ
تحریر: حلیم خان ۔پشاور
زوال کے دور میں یہ ایک عمومی ذہنیت بن جاتی ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان طبقہ ہر ایک کام جلدبازی میں، تیزی سے اور شارٹ کٹ طریقے سے کرنا چاہتاہے،لیکن اگر طریقہ کار درست نہ ہو تو صرف جُزوی یا وقتی لحاظ سے کچھ فائدہ ہو جاتا ہے،لیکن دیرپا نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب نظام کی تبدیلی بذریعہ انقلاب پر مکالمہ کیا جائے تو عموماً ذہن میں یہ سوچ اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو بہت طویل، سست اور آہستہ عمل ہے۔
تو چلیے آج ہم مکمل سماجی تبدیلی اور دیگر طریقہائے کار کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں کہ ان میں سے زمینی حقائق کے مطابق درست اور تیز ترین طریقہ کار کون سا ہے۔
سوسائٹی میں تبدیلی کے حوالے مختلف قسم کے نظریات اور طریقہائے کار پائے جاتےہیں۔
1۔ تبدیلی نظام کی کوئی ضرورت نہیں۔
2۔ تبدیلی نظام بذریعہ اِصلاح۔
3۔ تبدیلی نظام بذریعہ الیکشن۔
4۔ تبدیلی نظام بذریعہ تشدد
5۔ مکمل سماجی تبدیلی کا نظریہ۔
1۔ جیسا ہے ویسے چلنے دو:
اس طبقے کی سوچ یہ ہے کہ تبدیلی نظام کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جو کچھ جیسے چل رہا ہے چلنے دو۔ ہمارا کسی بھی چیز سے لینا دینا نہیں۔ دنیا میں نیکی اور بدی دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ نیکی آہستہ آہستہ ارتقا کرتے ہوئے بدی کو کم سے کم یا ختم کر دے گی اور پورا سماج اس طرح خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔
اگر اس نظریے میں تھوڑی سی بھی معروضی سچائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا علیہم السلام دنیا میں لوگوں کی تہذیبِ نفس اور سیاست مدن کے لیے نہ بھیجتا اور نہ ہی کوئی نبی یا رسول اچھائی کو غالب اور برائی کو کم سے کم کرنے کے لیے عملی جدوجہد کرتا،بلکہ وہ اس انتظار میں بیٹھا رہتا کہ بھلائی خود بہ خود غالب ہوجائے گی۔ معلوم انسانی تاریخ میں ایسی کوئی بھی مثال نہیں ملتی کہ دنیا میں بغیر کسی جماعت یا نظام کے اچھائی خود بہ خود غالب آئی ہو۔
پھر سماجی تبدیلی کے اس خودساختہ اور فرضی طریقہ کار سے معاشرے میں بے عملی کو فروغ ملتا ہے اور ہر کوئی محدود دائرے میں سوچ کر اپنے آپ کو ہر قسم کی سماجی ذمہ داری سے مبرا سمجھتا ہے۔
2۔ تبدیلی بذریعہ اِنفرادی اِصلاح:
اس نظریے کے مطابق اگر ہر کوئی اپنی اِنفرادی اِصلاح کر لے تو نظام خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ بات تو بہ ظاہر بڑی خوش نما معلوم ہوتی ہے، لیکن تاریخ میں اس طرح کی کوئی ایک مثال بھی موجود نہیں ہے کہ اِنفرادی اِصلاح سے سسٹم ٹھیک ہوگیا ہو۔
اس نظریے کا ایک ادھورا رُخ یہ بھی ہے کہ تعلیم، پولیس یا ان جیسے دیگر اداروں میں سے کسی ایک یا دو کو ٹھیک کیا جائے اور ان میں اصلاحات کی جائیں تو نظام خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔
لیکن "اِصلاح" یا "اصطلاحات" کی افادیت تب ظاہر ہوتی ہے،جب کسی ملک کا مکمل نظام یعنی بنیادی ادارے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کا ڈھانچہ عدل کی بنیاد پر کام کررہا ہو، ایسے میں اگر اس عادلانہ معاشرے میں کسی ادارے، بستی یا علاقے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے تو اسے پھر اِصلاح کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ پورا نظام ہی فرسودہ اور ظالمانہ بنیادوں پر کھڑا ہو تو ایسے نظام کی تبدیلی بذریعہ اِنفرادی یا ادارہ جاتی اِصلاح کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟
3۔ تبدیلی بذریعہ الیکشن:
کسی بھی ملک کے اندر الیکشن کے ذریعے عوام کو اپنی رائے کے اِظہار کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اُمنگوں کے ترجمان جماعت کو ووٹ کے ذریعے اقتدار میں لائیں، تاکہ یہ مفادِ عامہ کے لیے کام کرے،لیکن جب رائے آزاد نہ ہو تو غلامانہ معاشرے میں کس طرح ممکن ہے کہ اس طریقہ سے کوئی خاص تبدیلی پیدا کی جاسکے ۔ اکثرجمہوری ممالک میں الیکشنز کو سرمایہ داروں، وڈیروں، جاگیرداروں یعنی الیکٹیبل کی منشا اور ان کے طے شدہ نتائج کے مطابق کروایا جاتا ہے۔ اس لیےہرالیکشن پر دھاندلی کادھبہ موجودہے۔
ہر الیکشن سے پہلے عوام کو روٹی، کپڑا، مکان، ووٹ کو عزت دو، تبدیلی، اپنی زمین پر اپنا اختیار وغیرہ کے نعروں سے عوام کو سبزباغ دِکھائے جاتے ہیں اور جیتنے کے بعد اقتدار حاصل کرنے والی جماعت اپنے کارِخاص اور اپنے مفادات حاصل کرنے میں لگی رہتی ہے اور عوام کو مزید مہنگائی، بدامنی وغیرہ جیسے مسائل سے دوچار کردیتی ہے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مؤمن کو ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔ لیکن ہمارے ساتھ پچھلے 77 سالوں سے ایسا عمل جاری ہے اور پتہ نہیں کب تک جاری رہے گا۔
اس سے یہ واضح ہوگیا کہ پاکستان میں الیکشن سے تبدیلی دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔
4۔تبدیلی بذریعہ تشدد
اس نظریے کا حاصل یہ ہے کہ صاحبِ اقتدار لوگوں نے ظلم کیا ہے اور لوگوں کا حق مارا ہے۔ اس لیے ان کو طاقت کے زور سے ہٹایا جائے یا قتل کر کے اقتدار حاصل کیا جائے تو نظام تبدیل ہوجائے گا،لیکن اگر تاریخ اور انبیاعلیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں سے بھی ایسی مثال نہیں ملے گی کہ انھوں نے تشدد کے ذریعے تبدیلی برپا کی ہو۔
موجودہ دور میں ایسی تحریکات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے پیچھے سامراج کی مدد ہوتی ہے اور وہ پرتشدد گروہوں کو فنڈنگ، اسلحہ اور میڈیا کی مدد فراہم کر کے قومی حکومتوں کے خلاف اندرونی خانہ جنگی شروع کر کے ان کا تختہ اُلٹ دیتا ہے،جس کے بعد ان ممالک کے وسائل کو لوٹا جاتا ہے، جیسا کہ ماضی قریب میں بہت سے ممالک عراق، افغانستان وغیرہ اور حال ہی میں بنگلادیش اور شام میں ہوا ہے۔
شیخ الہند مولانا محمودحسن رحمۃ اللہ علیہ نے قومی جمہوری دور کے اہم اصولوں میں ایک اصول یہ بھی دیا ہے کہ آج کے دور میں کسی ملک میں سماجی تبدیلی کو عدم تشدد کی بنیاد پر ہی کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔
5۔مکمل سماجی تبدیلی کانظریہ
اس سے مراد ہے کہ رائج نظام جو معاشرے کی مجموعی ترقی اور ارتقا میں رکاوٹ بنا ہو، اسے ایسے متبادل نظام کے ذریعے سے تبدیل کیا جائے جو معاشرے کی رُکی ہوئی ترقی اور ارتقا کو جاری کردے۔
اس مقصد کے لیے ایک متبادل فکر و فلسفہ کی ضرورت ہوتی ہے، جسے سمجھ کر معاشرے کے باصلاحیت نوجوانوں میں پھیلایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہم فکر اور ہم خیال لوگوں کی جماعت قائم ہوجاتی ہے۔ یہ جماعت سیاست، معیشت اور سماجی تعلیم و تربیت کے ذریعے متبادل نظام کی تربیت یافتہ لیڈرشپ تیار کرتی ہے جو عوامی طاقت کے ذریعے عدم تشدد کی بنیاد پر ظالمانہ نظام کو چیلنج کرتی ہے۔
حضرت محمدﷺو جماعت صحابہؓ کی سیرت کو مدنظر رکھا جائے تو ایسا ہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا کہ آپ ﷺنے مکہ مکرمہ میں ابوجہل، عتبہ و شیبہ کے ظالمانہ نظام کے متبادل نظام قائم کیا۔ مکہ مکرمہ میں آپﷺنے 13 سال جماعت سازی کی اور عدم تشدد کی حکمت عملی کی بنیاد پر اپنی جماعت کو ہر قسم کے جانی نقصان سے بچایا۔ اور 10 سال کے بعد مکہ مکرمہ کو فتح کر کے ہمہ گیر تبدیلی کی بنیاد رکھی۔
ابھی سوال وہی ہے کہ مکمل سماجی تبدیلی کا نظریہ کیسے تیز ترین طریقہ کار ہے؟ تو پہلے جو چار طریقے بیان ہوئے ہیں، ان کے حوالے سے جو تاریخی اور زمینی حقائق و شواہد ہیں، وہ ان سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتے اور آخری طریقے کے حوالے سے ہم اپنے ملک کے نظام کا تجزیہ کریں کہ کون سا ادارہ ہے کہ وہ اس نظام سے مطمئن ہے؟ ہر بڑے ادارے کا سربراہ یہ کہتا ہے کہ اس نظام میں ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ نظام عوامی طاقت سے کھڑا ہے اور عوام اس نظام سے مطمئن نہیں ہیں، جس کا اِظہار الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے تناسب سے بھی ہورہا ہے کہ تقریباً 55 تا 60 فی صد سے زیادہ لوگ ووٹ کے لیے جاتے بھی نہیں ہیں، جوکہ اس نظام پر عدمِ اعتماد کا ثبوت ہے۔ جتنی جلدی عوام کو موجودہ نظام سے کاٹ کر اپنا ہم فکر بنایا جائے گا، اتنی جلدی ہی مکمل سماجی تبدیلی ممکن ہوپائے گی۔