پاکستان میں انگریزی زبان کی برتری ( مقاصد و نتائج کا جائزہ)
برطانوی استعمار نے ہندوستان پر تقریباً دو صدیوں تک حکومت کی اور اس دوران ہندوستانی ثقافت و زبان اور طرزِ زندگی پر گہرے اَثرات مرتب کیے۔۔۔۔۔

پاکستان میں انگریزی زبان کی برتری ( مقاصد و نتائج کا جائزہ)
تحریر: محمد صداقت طلحہ۔ وہاڑی
برطانوی استعمار نے ہندوستان پر تقریباً دو صدیوں تک حکومت کی اور اس دوران ہندوستانی ثقافت و زبان اور طرزِ زندگی پر گہرے اَثرات مرتب کیے۔برطانوی استعمار نے اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کے حصول کے لیے ایک ایسا نظام تشکیل دیا، جس کا مقصد مقامی باشندوں کو ان کی اپنی تہذیب اور زبان سے بیگانہ کرنا تھا اور انگریزی کو ایک برتر زبان کے طور پر متعارف کرانا تھا۔جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے قدم جمائےتو ابتدا میں وہ مقامی حکمرانوں اور عوام کے ساتھ روایتی طریقوں سے معاملات کرتے رہے۔مگر کچھ عرصے کے بعد برطانوی استعمار نے برصغیر میں اپنی حکمرانی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک گہری اور طویل المدتی حکمت عملی اپنائی،جس کا مقصد نہ صرف سیاسی اور اقتصادی تسلط تھا، بلکہ ثقافتی اور ذہنی طور پر لوگوں کو محکوم بنانا بھی تھا۔اس حکمت عملی کا سب سے بڑا ہتھیار زبان اور نظامِ تعلیم تھا،جس کے ذریعے انھوں نے ہندوستانیوں کو ان کی تہذیب، زبان اور روایات سے بیگانہ کیا اور انھیں یہ باور کرایا کہ انگریزی زبان،مغربی طرزِزندگی اور برطانوی اقدار ہی ترقی اور مہذب معاشرت کے لیے ناگزیر ہیں۔برطانوی استعمار نے ہندوستانیوں کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ کر دیا کہ اگر وہ انگریزی نہیں سیکھیں گے تو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکیں گےاور اسی سوچ نے وقت کے ساتھ ایک ایسا سماجی اور ثقافتی ڈھانچہ تشکیل دیا جو آج بھی جنوبی ایشیا کے ممالک خاص طور پر پاکستان میں قائم ہے۔
لارڈ میکالے کی 1835ء کی تعلیمی پالیسی برطانوی استعمار کی اس حکمت عملی کا ایک بنیادی ستون تھی۔لارڈ میکالے نے "Minute on Indian Education" میں واضح طور پر لکھا کہ ہمیں ہندوستان میں ایک ایسی کلاس تیار کرنی چاہیے جو ذہنی طور پر انگریزوں کی وفا دار ہو، مگر اپنی نسل اور رنگت میں ہندوستانی رہے۔اس مقصد کے تحت انگریزی کو اعلیٰ تعلیم اور سرکاری امور کی زبان بنا دیا گیا، جب کہ فارسی، سنسکرت،اردو اور دیگر مقامی زبانوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔اس پالیسی کے نتیجے میں وہی لوگ سرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیمی مواقع سے مستفید ہوسکے جو انگریزی سیکھنے میں کامیاب رہے،جب کہ باقی عوام، خواہ وہ کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں،ان مواقع سے محروم رہ گئے۔یہ ایک ایسا سماجی اور تعلیمی امتیاز تھا، جس نے ہندوستان میں ایک نئی اشرافیہ کو جنم دیا جو اپنی ہی عوام سے کٹی ہوئی تھی اور انگریزوں کے اندازِ فکر و معاشرت کو اپنا چکی تھی۔
برطانوی حکمرانوں نے نہ صرف تعلیمی نظام، بلکہ سماجی اور ثقافتی سطح پر بھی ہندوستانی روایات اور زبانوں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے ہندوستانی تہذیب کو "پس ماندہ" اور"غیرترقی یافتہ" قرار دے کر یہاں کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مغربی طرزِزندگی ہی برتر اور مہذب ہے۔انگریزوں نے تعلیمی اداروں،عدالتوں اور بیوروکریسی میں انگریزی کو لازمی بناکر ہندوستانی روایات، فلسفے اور ادب کو پسِ پشت ڈال دیا۔نتیجتاً،ایک پوری نسل ایسی پروان چڑھی جو اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے بیگانہ ہوگئی اور مغربی اقدار کو ترقی اور کامیابی کا معیار سمجھنے لگی۔
یہ رجحان برصغیر کی تقسیم کے بعد بھی جاری رہا، خاص طور پر پاکستان میں، جہاں آزادی کے باوجود انگریزی زبان کو برتری حاصل رہی اور مقامی زبانوں کو کمتر سمجھنے کا رجحان مزید بڑھا۔پاکستان میں سندھی، بلوچی، پشتون اور خاص طور پر پنجابیوں نے اپنی زبانوں سے بیگانگی اختیار کرلی اور انھیں جاہلوں کی زبان سمجھنا شروع کر دیا۔یہ مسئلہ صرف اتفاقیہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل نوآبادیاتی نفسیاتی حکمت عملی کارفرما تھی، جو لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھانے میں کامیاب رہی کہ ترقی یافتہ اور مہذب ہونے کے لیے اپنی مادری زبانوں کو چھوڑ کر انگریزی زبان کو اپنانا ضروری ہے۔یہاں کا تعلیمی نظام، سرکاری ادارے اور کاروباری دنیا آج بھی انگریزی زبان کے زیرِاَثر ہیں۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انگریزی کو لازمی حیثیت حاصل ہے اور اگر کوئی طالب علم انگریزی میں مہارت نہیں رکھتا تو اسے ذہین ہونے کے باوجود کمتر سمجھا جاتا ہے۔نوکریوں اور سرکاری ملازمتوں میں بھی وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں،جب کہ مقامی زبانوں میں ماہر افراد کے لیے مواقع محدود ہوجاتے ہیں۔
پنجاب جو برصغیر کا سب سے بڑا اور معاشی طور پر طاقت ور خطہ رہا ہے، پنجابی زبان سے بیزاری کا رجحان سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ایک زمانہ تھا جب پنجابی زبان صوفی شاعری، لوک ادب اور روزمرہ زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی، مگر برطانوی دور میں انگریزی اور پھر پاکستان بننے کے بعد اردو کو سرکاری زبان بنا کر پنجابی کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔پنجابی بولنے والوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی کہ اگر وہ اپنی زبان کو اپنائیں گے تو انھیں دیہاتی، غیرمہذب یا ان پڑھ سمجھا جائے گا۔آج یہ صورتِ حال ہے کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں پنجابی بولنا کمتر ہونے کی علامت بن چکا ہے اور والدین اپنے بچوں کو پنجابی سکھانے سے کتراتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ یہ زبان سیکھنے سے ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔
سندھی، بلوچی اور پشتون معاشروں میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے، اگرچہ یہ قومیں کسی حد تک اپنی زبانوں سے جڑی ہوئی ہیں، مگر پھر بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات میں ان زبانوں کو بولنے کو کم علمی یا پس ماندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔بلوچستان میں، جہاں پہلے ہی تعلیمی مواقع محدود ہیں، وہاں بلوچی زبان کو مزید دَبایا گیا اور آج وہاں کے لوگ اپنی مادری زبان کے بجائے اردو یا انگریزی میں بات کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، تاکہ وہ ترقی کے دھارے میں شامل ہوسکیں۔
یہی معاملہ خیبر پختونخوا میں پشتونوں کے ساتھ ہوا، جہاں پشتو زبان کو اکثر سرکاری اور تعلیمی معاملات میں نظرانداز کیا گیا اور آہستہ آہستہ یہاں کے نوجوان بھی اپنی زبان سے بیگانہ ہوتے گئے۔کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے، وہاں مختلف قومیتوں کے لوگ بستے ہیں، مگر زیادہ تر لوگ اپنی مادری زبان بولنے کے بجائے اردو یا انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں، کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ اپنی زبان بولیں گے تو انھیں کم تر سمجھا جائے گا۔
برطانوی استعمار کی مسلط کردہ ذہنی غلامی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ آج پاکستان میں لوگ اپنی زبانوں کو اپنانے کے بجائے ان سے شرمندہ ہیں۔ یہی اَثرات سماجی سطح پر بھی نمایاں ہیں۔آج پاکستان میں اکثر والدین اپنے بچوں کو اردو یا اپنی مادری زبان کے بجائے انگریزی سکھانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیوں کہ انھیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر ان کے بچے انگریزی میں مہارت حاصل نہ کرسکے تو وہ زندگی میں پیچھے رہ جائیں گے۔نتیجتاً، نئی نسل نہ صرف اپنی مادری زبان سے دور ہورہی ہے، بلکہ وہ اپنی ثقافت، ادب اور تاریخ سے بھی کٹتی جارہی ہے۔میڈیا نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے، جہاں انگریزی بولنے کو فیشن اور مہذب ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ جو لوگ اردو یا دیگر مقامی زبانوں میں بات کرتے ہیں، انھیں دیہاتی یا کم تعلیم یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔
برطانوی استعمار کی لسانی اور ثقافتی امتیاز کی یہ پالیسی آج پاکستانی معاشرے میں گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔یہ تمام مسائل اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ برطانوی استعمار کی بنائی گئی حکمت عملی آج بھی ہمارے ذہنوں پر اَثرانداز ہو رہی ہے۔ہم نے آزادی تو حاصل کر لی، مگر ذہنی طور پر ابھی تک غلامی میں ہیں، جہاں ہم اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنی زبانوں کو کمتر سمجھتے ہیں۔آج دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک جیسے چین، جاپان اور فرانس نے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر کے ترقی کی ہے،جب کہ ہم آج بھی انگریزی کے سحر میں گرفتار ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنی اصل پہچان کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی مادری زبانوں کو عزت دینی ہوگی۔نیز ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی زبان کو لازمی حیثیت دینی ہوگی۔سرکاری اداروں میں ان زبانوں کا استعمال بڑھانا ہوگا اور میڈیا میں ان زبانوں کے فروغ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے ذہنوں سے اس نوآبادیاتی نفسیات کو نکالنا ہوگا کہ ترقی کے لیے انگریزی ضروری ہے اور مادری زبانیں پس ماندگی کی علامت ہیں۔جب تک ہم اپنی زبانوں کو فخر سے نہیں اپنائیں گے ہم اپنی اصل شناخت کو مکمل طور پر بحال نہیں کر سکیں گے۔