سوشل میڈیا کا استعمال ، اس کے منفی اثرات اور تدارک۔ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سوشل میڈیا کا استعمال ، اس کے منفی اثرات اور تدارک۔

    انسان اپنے سماج سے کٹ کر زندگی بسر نہیں کرسکتا

    By ملک ارسلان جاوید گوندل Published on Apr 04, 2025 Views 133

    سوشل میڈیا کا استعمال ، اس کے منفی اثرات اور تدارک۔۔۔۔۔

    تحریر: ارسلان جاوید گوندل۔ڈیرہ اسماعیل خان

     

    یہ درست بات ہے کہ انسان اپنے سماج سے کٹ کر زندگی بسر نہیں کرسکتا، لیکن عہدِجدید میں جو اہم مسئلہ اُبھر کر سامنے آیا ہے وہ یہ کہ آزادی کے نام پر ہماری اقدار و روایات، ہماری تاریخی حریتِ فکر، ہماری مزاحمتی استعداد کو نہایت مہارت سےاس جدید آزادی کی قیمت کے صلے میں سلب کیا جارہا ہے ۔ 

    ہر عہد کا سوشل میڈیا ہوتا ہے ۔ افسانے اور ناول سے آگے بڑھ کر ڈرامہ اور فلم تک اس کا کام ایک ہی ہےکہ مقتدر طبقات اس کی سمت طے کرتے ہیں  اور ذرائع ابلاغ خبر، افواہ ،جھوٹ اور پروپیگنڈا سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی خدمت انجام دیتے ہیں ۔ یہ انارکی کو جنم دیتا ہے اور نئے ٹرینڈز یا طور طریقے ایجاد کرنے میں ہی اس نظام کی یا مقتدر طبقات کی بقا مضمر رہی ہے۔ 

    آج کل کا سوشل میڈیا 

    دل کے لیے موت ہے مشینون کی حکومت   احساس مروت کو کچل دیتے ہیں حالات 

     کی حقیقی تفسیر بن کر سامنے آیا ہے ۔

    جدت یا وقت کی آواز اور ناگزیریت کے بلندآہنگ نعروں کے شور میں پہلے اس کے مقابل افکار کی قوت چھیننے کا مرحلہ طے کیا جاتا ہےاور اس کے لیے نہ کوئی ضابطہ اخلاق بننے دیا جاتا ہے ۔ مخالف سوچ کو ہرقیمت پر روکنے لیے پہلے ہی قواعد طے ہوتے ہیں ۔ یوں سوشل میڈیا قومی یا بین الاقوامی مقتدرہ کی باندی بن جاتا ہے ۔

    اس ڈیجیٹل ایج میں یہ کام جس ہنرمندی سے کیا جاتا ہے اس کی مثال پہلے کہیں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گی۔ اَب تو الگورتھم لگائیں اور مخالف پوسٹ غائب آپ کا اکاؤنٹ بند، غرض کھیل کے سارے اصول طاقت ور کے حق میں جاتے ہیں ۔

    ہر چند یہ چیز اہم ہے کہ سماج کے ان عناصر پر گفتگو کی جائے اور ایک ایسی راہ متعین کی جائے جو ہمارے سماج کی فلاح و بہبود کا جامع پروگرام اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔یعنی حقیقی انسانی بنیادوں پر بالمشافہ رابطے اور تعلق کا وہ نظام کہ جس کی بنیاد " بر اور تقوی" پر ہو ۔ کیوں کہ 

    کورس فقط حرف سکھاتے ہیں ۔

    آدمی کو (تو ) آدمی (ہی) بناتے ہیں ۔

    صحبت صالح وہ کرشماتی نسخہ ہے، جس نے ایک فرد کی کامل تربیت سے ایک مکمل معاشرے کی کایا پلٹ کا کام ہمشہ سرانجام دیا ۔ اس خطے کے صوفیا نے یہ کارنامہ کرکے دکھایا، جس کی معمولی سی جھلک اور توانائی آج مجھے یہ بات آپ تک پہنچانے کی قوت مہیا کررہی ہے۔

    انسانی اقدار و روایات کو ہم ہی بچا سکتے ہیں یا پامال کرسکتے ہیں ۔ 

     معلومات کا یہ ایک ایسا بحر بے کراں ہے کہ ہماری حیثیت ایک تنکے کی سی ہوگئی ہے ۔ ایسے میں منزل کی کوئی سدھ بدھ ہو، کیسے ممکن ہے۔

    اور یہی وَجہ ہے کہ دوربین نگاہیں رکھنے والے یہ دیکھ رہے ہیں کہ ملکوں کے سیاسی سماجی ڈھانچے کو تہہ و بالا کرنے کا کام ان ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے لیا جا رہا ہے۔ 

     پست مزاج خودغرض اور مفادپرست ذہنیت رکھنے والے کئی کردار سیاست، مذہب اور سماجی اِصلاح کے عنوان سے فساد فی الارض کا سبب بن رہےہیں۔ 

    اس مڈبھیڑ میں نوجوان کیا سمجھے گا۔اسی لیے کہیں مایوسی اور شدت پسندی چاپلوسی کو کامیابی کی سیڑھی بناتی نظر آتی ہے ۔تو کہیں دولت وسستی شہرت کے حصول کے لیے ہر حد پار کرنے کے لیے اسے بے قرار کرتی نظر آتی ہے ۔

    اکثر کارکنان نما نادان دوست اپنے ہی قائدین کی پوری بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ٹرینڈز کے پیش نظر وہ اصل بات چھوڑ کر اس مؤقف کو تراشتے ہیں، جس سے وقتی شہرت اور ان کی نظر میں جو اہم پہلو ہے وہ سامنے آئے ۔جب کہ اس طرح وہ اپنے بنیادی مقاصد اور پروگرام کو نقصان پہچانے کا سبب بن رہے ہیں ۔

    دین اسلام اور قرآن حکیم صالح نظریے اور اس پر عمل کرنے والوں کی ایک مرتب اور مربوط شان دار تاریخ ہمارے سامنے رکھتا ہے،جس سے پوری انسانی سوسائٹی فائدہ اُٹھائے ۔ اس کے لیے اپنا وقت ایک ایسے فکر کے سمجھنے اور پھیلانے کے لیے جسے قرآن حکیم انبیاعلیہم السلام کی سیرت طیبہ کی صورت میں ہمارے سامنے لاتا ہے، وقف کرنا ضروری ہے ۔ یہ فکر اقوام عالم کی چھوٹی جماعتوں کو بڑی اور طاقت ور قوتوں کے مقابلے پر صف آرا ہوکر کامیابی کے لیے آگے بڑھنے اور استقامت سے کھڑے رہنے اور اپنے نظریے کی سچائی سامنے لانے کا حوالہ فراہم کرتا ہے ۔

    تاریخ عالم ایسی سینکڑوں مثالیں آج کی اس صدی میں بھی فراہم کرتی نظر آتی ہیں ۔

    لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی تسلسل سے جڑے رہنے کے لیے ایک ایسا تعلیمی و سماجی نظام قائم کیا جائے ۔اور نوجوان کا وقت ضائع ہونے کے بجائے سوسائٹی کے لیے مفید ہو، تاکہ ہم دنیا کو انسانوں کے لیے جنت بنا سکیں اور یہ پیغام دنیا کو دے سکیں کہ اسلام ایک جامع اور کامل پروگرام دیتا ہے ۔

    ماضی قریب میں زوال آمادہ سماج میں حریت و آزادی کا پروگرام آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے میں ولی اللہی جماعت کا ہمہ گیر کردار اس خطے کی اجتماعی تاریخ کا شان دار باب ہے ۔ 

    اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور نوجوانوں کے لیے ایسا ہی ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے انسانی بھلائی کے اس آفاقی پروگرام کو سمجھنے کےلیےاپنا وقت  اور اپنی صلاحیتیں پروئے کار لائیں ۔

     

    Share via Whatsapp