سماجی تبدیلی؛ مشکل کام نہیں!
مشکل اور آسانی کا تصور فرد کے تجربے، حالات اور پس منظر پر منحصر ہوتا ہے

سماجی تبدیلی؛ مشکل کام نہیں!
تحریر: یاسر عرفات۔ ملتان
مشکل اور آسانی کا تصور فرد کے تجربے، حالات اور پس منظر پر منحصر ہوتا ہے، یعنی جو کام ایک شخص کے لیے آسان ہو، وہی دوسرے کے لیے مشکل ہوسکتا ہے ۔ ایک امتحانی پرچے میں بھی یہ ممکن ہے کہ ایک سوال کچھ طلبا کے لیے مشکل ہو، لیکن وہی سوال باقی طلبا کے لیے آسان ہو۔ جس طرح امتحان کی تیاری اور پیشگی فہم کسی بھی سوال کو آسان بنا دیتا ہے۔ سماجی تبدیلی کی نوعیت بھی ایسی ہی ہوتی ہے جو اس کے اصول، مقاصد اور طریقۂ کار کو گہرائی سے سمجھ لے، وہ اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو عبور کرسکتا ہے، لیکن جو اسے سطحی طور پر دیکھےگا، اسے سماجی تبدیلی مشکل اور پیچیدہ نظر آتی ہے۔
تاریخی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو گزشتہ صدی میں روس (1917ء)، چین (1949ء) اور ایران (1979ء) کی سماجی تبدیلیوں نے ان ممالک کی سیاسی، سماجی اور معاشی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کیا ۔اس کے برعکس، ایشیا اور افریقا کے وہ ممالک جنھوں نے سماجی تبدیلی کا طریقہ کار اختیار نہیں کیا وہ کوئی خاطر خواہ تبدیلی برپا نہیں کرسکے۔
سادہ الفاظ میں، ہمہ گیرسماجی تبدیلی ایک ایسی بنیادی تبدیلی کا نام ہے جو کسی قوم کو ہمہ جہت ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے ظالمانہ نظام کی جگہ ایک نیا، مؤثر اور منصفانہ نظام متعارف کراتی ہے ۔
ہر خطے کی سماجی تبدیلی کی قیادت وہاں کی نوجوان نسل نے کی۔ ان نوجوانوں نے اپنے معاشروں کے تاریخی اور سماجی حالات کا ادراک حاصل کیا اور نئے فکروفلسفہ کی بنیاد پر نظام کو یکسر تبدیل کیا اور سماجی تبدیلی لانے کے بعدقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
کسی بھی سماجی تبدیلی کی بنیاد ایک اعلیٰ فکر و فلسفہ ہوتا ہے۔ اس پر ایک تربیت یافتہ منظم جماعت تیار کی جاتی ہے۔ یہ جماعت مطلوبہ تیاری کے بعد ہی سماجی تبدیلی لاتی ہے۔ تبدیلی کے بعد ملک ترقی معکوس(زوال کے سفر) کے بجائے مطلوب ترقی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ مثلاً آئی ایم ایف کے قرضوں اور شرائط کے راستے پر چلنے سےترقی معکوس ہوتی ہے۔
1947ء سے لے کر اَب تک وطنِ عزیز میں متعدد جماعتوں اور تجربات کے نتیجے میں نہ تو قومی نظام کا فکر و فلسفہ بدلا اور نہ ہی ترقیِ معکوس سے نکلنے کی کوئی اُمید نظر آئی۔ مروج سیاسی جماعتیں مطلوبہ ترقی کا دعویٰ تو کرتی ہیں لیکن فیصلے کرتے وقت آقا کی رضامندی کوپیش نظر رکھتی ہیں۔ اس لیے یہ جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام میں رہ کر صرف اصلاحات کرتی ہیں مگر متبادل کے طور پر کوئی ٹھوس فلسفہ پیش نہیں کرتیں۔
کچھ لوگ یہ مایوسی پیدا کرتے ہیں کہ سماجی تبدیلی کی باتیں کرنا آسان ہے، لیکن اسے حقیقت کا روپ دینا بہت مشکل ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور امریکا جیسی عالمی طاقتوں کے اَثر و رسوخ کے ہوتے ہوئے سماج کا رخ موڑنا مشکل ہے۔ اور اگر ممکن ہو بھی جائے تو اسے قائم نہیں رکھاجاسکتا ہے۔ یہ سوالات ان اذہان میں پیدا ہوتے ہیں، جنھوں نے تاریخی اعتبار سے سماجی تبدیلیوں کا مطالعہ نہ کیا ہو ۔ مسلمانوں کی تاریخ سماجوں کو مثبت تبدیلیوں سے ہمکنار کرنےسے بھری ہوئی ہے جو ہمارے لیےمشعل راہ ہے۔
حجاز میں قائم کردہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی تبدیلی کو دیکھیں تو یہ دنیا کی تاریخ کی ایسی عظیم تبدیلی تھی، جس نےانسانی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اس فکروعمل نے نہ صرف عربوں کی محدود سوچ کو بدلا، بلکہ پوری دنیا میں انسانی فکر، معاشرت، اخلاقیات، سیاست اور معیشت کے نئے اصول متعارف کرائے۔
صحابہ کرامؓ اور سماجی تبدیلی:
حجازی تبدیلی سے پہلے مکہ کی سوسائٹی میں ایسی ہمہ گیر تبدیلی کے بارے میں سوچنا بھی ناممکنات میں شمار ہوتا تھا کہ غلام کبھی حکمران بن سکتے ہیں ۔لیکن نبی کریم ﷺ اور ان کی جماعت صحابہؓ کی اپنی زندگی میں یہ نمایاں تبدیلی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ وہ ہمہ جہت تبدیلی تھی جس نے نہ صرف عرب دنیا بلکہ عالمی سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے پر بھی گہرے اَثرات مرتب کیے ۔ چندایک صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں کابطور مثال مطالعہ کیا جاسکتاہے۔
حضرت بلال بن رباح (بلالِ حبشی) رضی اللہ عنہ مکہ میں سماجی تبدیلی کی صدا بلند کرتے تھے جو ایک حبشی غلام تھے انہیں مدنی ریاست میں بیت المال کے نگران کے عہدے پر فائز کیاگیا۔
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ جو مکہ میں غلام تھے، مدینہ کی حکومت میں مالیات اور تجارتی امور کے ذمہ دار مقرر ہوئے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں نبی پاکﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، اور مدینہ منورہ میں ریاست کی فوج کے سپہ سالار بنے اور غزوہ موتہ میں بہ طور قائدِ اعلیٰ (جرنیل) شہید ہوئے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حق کے عظیم متلاشی، جو بہ طور غلام کم از کم چار بار فروخت ہوئے، غزوہ خندق کی جنگی مشاورت میں ان کی رائے پر خندق کھودی گئی اور فتح عراق کے بعد اس کے انتظامی مرکز مدائن پر بہ طور گورنر مقرر ہوئے۔
حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہما بھی مکہ کی سوسائٹی میں غلام تھے، لیکن معاشرتی تبدیلی کے بعد ریاست کی طرف سے تعلیمی اور سماجی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوئے۔
باشعور افراد کی ذمہ داری :
کسی بھی معاشرے میں بڑی اور غیرمعمولی تبدیلی لانے کی ذمہ داری باشعور اور باصلاحیت قیادت پر ہوتی ہے۔ تربیت یافتہ افراد یا جماعت کا ہر عمل ان کی فطرت میں موجود ہوتا ہے۔ عام آدمی کو وہ کوئی کرامت کی بات لگتی ہے، لیکن شعوری طور پر تربیت یافتہ لوگ اپنے ہر عمل کو اپنی فطرت کے جزو کے طور پر ہی دیکھتے ہیں۔ وہ ان کے لیے معمول کے معاملات کے نتائج ہوتے ہیں۔ مثلا سائنس کی دنیا میں دیکھیں تو پہلے یہ بڑی بات تھی کہ دور دراز علاقے میں ریڈیو سگنل کے ذریعے میسج بھیج دیا جائے، لیکن اس کو ایجاد کرنے والے شخص مارکونی نے اسے اپنی فطرت کے دائرے کی چیز پایا۔آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت پیش کرنے کا عمل بھی اس کی ہمت سے پیدا ہونے والا اس کی فطرت کا ایک جزو تھا۔اسی طرح قوم کا ذہین طبقہ بھی فطری طور پر اخلاق اور افکار کا مالک ہوتا ہے۔ جو نوجوان سماجی تبدیلی کی خواہش رکھتا ہے وہ اپنی فطرت میں اس جامع تبدیلی کا جزو بننے کی قوت بھی محسوس کرتا ہے۔اس لیے اس اجتماعی عمل کو نوجوانوں کی اجتماعی قیادت ہی درست تشکیل دےسکتی ہے۔
حاصل یہ کہ سماج میں صالح تبدیلی برپا کرنا کوئی ناممکن کام نہیں ! آج ہم بھی نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ کی سیرت کا مطالعہ کرکے اپنے ملک میں عادلانہ سماجی تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔
نبوی
ہمہ گیرسماجی تبدیلی کے مطالعہ کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن حکیم ہے۔ قرآن پاک اس
جماعت کو حالات و واقعات کے تناظرمیں گائیڈ کرتا رہا جو یہ ذمہ داری نبھا رہی تھی۔
آج بھی قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں بین الاقوامی نظام عدل کی داعی جماعت یہ
نتیجہ پیدا کرسکتی ہے۔ اگر قوم کا باصلاحیت نوجوان اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بجائے
ولی اللہی فلسفہ سے اپنی عقل تیز کر لے تو عشقِ مصطفیٰﷺ کے رنگ میں رنگ کر عدم
تشدد کی حکمتِ عملی کے تحت ہمہ گیر سماجی تبدیلی لا سکتا ہے۔