مصنوعی ذہانت کے دور میں ذمہ داری کاتصور
کمرشلیزیشن سے متاثر ہو کر انسان اپنی ضروریات کو بڑحاتا جا رہا ہے اور انفرادیت کا شکار ہو کر اجتماعی تقاضوں سے دور ہو رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں ذمہ داری کاتصور
ڈاکٹر محمد شفیق۔ زیبسٹ یونیورسٹی اسلام آباد
کچھ صدیوں سے انسان نے بہت تیزی سے تبدیلیاں ہوتے دیکھی ہیں، جیسے سادہ زرعی دور سے مشین کی آمد، انڈسٹرلائزیشن کا سفر اور پھر انڈسٹرلائزیشن سے کمپیوٹر و ڈیجیٹل دور کا سفر اور اَب مصنوعی ذہانت کا دور۔
اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور نت نئی ایجادات کے آنے سے انسان کی ضروریات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پرانے دور کی بہت سی اشیا جنھیں تعیشات تصور کیا جاتا تھا، آج سہولیات میں بدل رہی ہیں اور پرانی بہت سی سہولیات آج ضرورتیں بنتی جا رہی ہیں، جب کہ انسانی ذہن بھی اپنے ماحول سے متاثر ہوکر نئی نئی آسائشات کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس کش مکش میں جب وہ سماج میں اپنے سٹیٹس (رکھ رکھاؤ)، وقتی ذہنی سکون، بچوں اور خاندانی ضروریات کے لیے تگ و دو کرتا ہے تو وہ اپنی دیگر ذمہ داریوں کو سمجھنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے اور اگر وہ کسی حد تک اپنی ذمہ داری سمجھ جائے تو وہ اس حوالے سے کردار ادا کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا دور
مصنوعی ذہانت کا دور نیا ہے اور غیریقینی ممکنات لیے ہوئے ہے۔ اس نے انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ اسے غیریقینی صورتِ حال درپیش ہے ایسے ہی جیسے صنعتی دور کے آغاز میں مشین کی آمد کے وقت تھی۔ بہت سے انسان اپنی ضروریات کو پورا کرنے اور سہولیات کے حصول کے لیے دیہی زندگی سے شہری زندگی کی طرف منتقل ہوئے، زراعت سے آہستہ آہستہ تجارت کی طرف، پھر دوسرے کاروبار کی طرف، انڈسٹرلائزیشن کی طرف منتقل ہوئے، لیکن اَب انسانوں کا ایسا حال محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات مناسب خوراک، باعزت رہائش وغیرہ سے بھی دور ہو رہے ہیں، کیوں کہ شہروں میں ان کے گھر کا نہ ہونا، گھر کا کرایہ دینا، بجلی گیس پانی وغیرہ کے بل دینا نیز پرائیویٹ سکولوں اور ہسپتالوں کے اخراجات نے زندگی کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ پھر مشکل معاشی حالات میں سماج میں ”برانڈز“ کی دوڑ اور نئے نئے رجحانات نے تو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس صورتِ حال میں ہمیں سمجھنا ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے اس کو کیا تعلیم دی جارہی ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ انسان جو زمین پر اللہ کا خلیفہ بنا کے بھیجا گیا ہے، اس کی بنیادی ذمہ داری زمین پر اللہ کا دیا ہوا نظام قائم کرنا ہے، تاکہ انسان اور اللہ کے تعلق کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، انھیں دور کیا جائے۔ اس حوالے سے دور کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا کرنا ہے، لیکن موجودہ دور میں انسان مسائل کا شکار ہوتا جارہا ہے اور اس کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ اپنا کردار کیسے ادا کرے؟ انسان اپنی صلاحیت اور ذمہ داری کی بنیاد پر اشرف المخلوقات ہے اور اس کے بہت سے نوعی تقاضے ہیں، جیسے خوب سے خوب تر کی تلاش، مادہ ایجاد وتقلید اور رائے کلی کا استعمال، جس کا مطلب ہے اجتماع کے لیے سوچنا اور کردار ادا کرنا، لیکن ہمارا تعلیمی نظام ہمیں صرف اپنے لیے جینا سکھاتا ہے اور اِنفرادیت پیدا کرتا ہے۔
بیچلرز کی سطح پر ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں مغربی مفکر ابراہام ماسلو(1970-1908) (Abraham Harold Maslow) کا مضمون Maslow's Hierarchy of Needs پڑھایا جاتا ہے، جس کا تعلق انسانی احتیاجات اور ضروریات سے ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان کی پانچ بنیادی ضروریات ہیں، جن کے لیے انسان جدوجہد کرتا ہے اور بتدریج انھیں پانے کی کوشش کرتا ہے، جس طرح انسان کی جسمانی ضروریات (Physiological Needs) روٹی، کپڑا، مکان، علاج وغیرہ ہیں۔ اس کے بعد انسانی جان کا تحفظ (Needs of Protection) ہے۔ اسے تحفظ چاہیے۔ پھر نفسیاتی (Psychological) یا سماجی ضروریات (Behavioural Needs) ہیں، اسے سماج چاہیے، دوست چاہئیں۔ ان سب کے حصول کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کی ایک عزتِ نفس (Self ESteem) ہے، جس کی فکر، انسان، بنیادی ضروریات کے حصول کے بعد کرتا ہے۔ پھر سب سے اونچے درجے پر جب انسان کی باقی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں تو انسان اپنی حقیقت شناسی (Actualisation)کی طرف جاتا ہے اور پھر وہ خودشناسائی چاہتا ہے۔ پھر وہ کسی فن، کاروبار یا سماجی بہبود (Carer Swithing)کا سوچتا ہے، لیکن اس کے برعکس مغربی فکر کے مطابق اس کی ذات ہی اس سب کا محور ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جہاں انسان کو اس کی مندرجہ بالا ضروریات بتائی جاتی ہیں (جو یقینا اَدھورا تصور ہے) تو وہاں اسے اس کی ذمہ داریاں بھی سکھانی چاہییں۔ کیوںکہ آج کل کا معاشرہ کمرشلائزیشن سے متاثر ہے جو سرمایہ داریت کی پیداوار ہے، اس نفسانفسی میں انسان ضروریات سے، سہولیات اور پھر آسائشات کی طرف چل پڑتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کرنے لگتا ہے۔
انسان اپنے بڑے گھر کے لیے، اچھی گاڑی کے لیے، بچوں کی اچھی تعلیم کے لیے محنت کرتا ہے اور اپنی کُل ذمہ داریوں کو پورا نہیں سمجھتا۔ ہونا تویہ چاہیے کہ نظامِ تعلیم انسان کو اس کی احتیاجات کے ساتھ ساتھ اس کی کل ذمہ داریوں کا بھی احساس دِلائے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جب ہم اپنے طالب علم کو ضروریات بتا رہے ہیں تو ہم اس کو میٹرکس آف رسپانسبلٹی (ذمہ داری کا ڈھانچہ) بھی سمجھائیں اور یہ بات ہم امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر سے اسے سمجھا سکتے ہیں۔
امام شاہ ولی اللہؒ جو اس دور کے مجدد ہیں، قرآنِ حکیم، حدیث ِمبارکہ اور نبیﷺ کی سیرت کی روشنی میں اپنی روشن فکر سے ہماری راہ نمائی کرتے ہیں۔ شاہ صاحب کی فکر کے مطابق انسان کی ذمہ داریوں کے چار دائرے ہیں۔ پہلا دائرہ جب انسان اپنی اور اپنے خاندان کی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے سماج کی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔ سماج میں اس کے دوست ہیں، کمیونٹی ہے، اس کے رشتہ دار ہیں، اس کے پڑوسی ہیں، وہ اس کی ذمہ داری میں ہیں، ان کے ساتھ اس کا رہن سہن اور سماجی کردار ہے۔
اس سے اوپر بڑھ کر تیسرا دائرہ انسان کی اپنی قومی ذمہ داری ہے۔ اس کا قومی کردار ہے، اس کو فکر ہونی چاہیے کہ اس کا معاشرہ اور ملک کہاں کھڑا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ قوم زوال میں ہو اور انسان پر اس کا اَثر نہ ہو۔ انسان نے قومی تبدیلی کے لیے، قوم کو زوال سے عروج پہ لے جانے کے لیے قومی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔ چوتھے دائرہ میں انسان کا پوری انسانیت کے لیے کردار ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دی ہیں، جمادات، نباتات اور حیوانات سے بڑا مقام دیا ہے، مادہ ایجاد وتقلید دیا ہے، رائے کلی کا جذبہ دیا ہے، خوب سے خوب تر کی تلاش دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے عقل و شعور، طاقت، علم، قابلیت، صلاحیت کی بنا پر وہ پوری انسانیت کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے۔ رب الناس کی مخلوق، رحمة العالمینﷺ کے اُمتی اور قرآن کریم ھدی للناس سے وابستہ ہوتے ہوئے انسانیت کو تکلیفوں سے، پریشانیوں سے نکالنے کا فریضہ بالخصوص مسلمانوں پر ہے۔
اَب ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ آج کا انسان اپنی ذاتی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، یہ اپنی اِنفرادی ضروریات کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمیں نظر آرہا ہے کہ آج جب انسان تعلیم حاصل کرتا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملازمت کی طرف آتا ہے تو وہ کمپنیوں کی غلامی کے جال میں خوشی اور فخر سے پھنس جاتا ہے، کاروبار میں پھنستا ہے یا باہر کے ملکوں میں جاتا ہے، اپنا گھر بنانے کے لیے، اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تو وہ پہلے دائرے سے نہیں نکل سکتا یا بہت فکر کر لے تو شاید کبھی کسی حد تک، کسی کی مدد کر سکے۔
دراصل زراعت کا دور ہو یا صنعت کا، ڈیجیٹل ایج ہو یا آرٹیفشل انٹیلی جنس کا، بنیادی ضروریات (خوراک، رہائش، کپڑا، صحت، تعلیم، نکاح اور بغیر رکاوٹ اپنے رَبّ سے تعلق) تمام انسانوں کا عزتِ نفس کے ساتھ بلالحاظ رنگ، مذہب، نسل حق ہے۔ اچھے ماحول میں صالح فکر سے راہ نمائی لے کر انسان اپنی حقیقت کو پہچان سکتا ہے اور اپنے مالک حقیقی کے احکامات کے مطابق زندگی کی صحیح راہ متعین کرسکتا ہے۔ کسی بھی ٹیکنالوجی کا ظہور انسانیت کے فائدہ کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ انسانیت کی قیمت پر کہ صرف ہوس پرست سرمایہ داروں کے اثاثہ جات بڑھائے جائیں۔
ہمیں آج یہ سمجھنا ہے کہ ہم اپنی ضروریات اور سہولیات کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی، قومی اور کل انسانیت کی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔ بہت زیادہ سہولیات کے چکر میں آسائشات کا شکار نہ ہوجائیں۔ ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے کو مفلسی اور غلامی سے نکالیں، فکر و شعور کے چراغ جلائیں۔ خود اپنی ذمہ داری کو بھی سمجھیں، جماعت ِحقہ میں اللہ سے کیے گئے وعدہ کے مطابق اپنا کردار ادا کریں اور اپنے ارد گرد موجود انسانوں کو بھی ان ذمہ داریوں کا احساس دِلائیں، تاکہ انسان احتیاجات میں نہ پھنسا رہے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ سماجی، قومی اور انسانی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنا کردار ادا کرے۔