روزے کا مفہوم اور اس کے سماجی تقاضے - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • روزے کا مفہوم اور اس کے سماجی تقاضے

    روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ یہ نہ صرف ایک جسمانی عمل ہے، بلکہ ایک گہرا روحانی سفر بھی ہے، جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے ۔۔۔۔۔

    By Asghar Surani Published on Mar 04, 2025 Views 413

    روزے کا مفہوم اور اس کے سماجی تقاضے

    تحریر: محمد اصغر خان سورانی۔ بنوں


    روزے کا لغوی و شرعی مفہوم

    روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ یہ نہ صرف ایک جسمانی عمل ہے، بلکہ ایک گہرا روحانی سفر بھی ہے، جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔ روزے کا بنیادی مقصد نفس کی پاکیزگی، تقویٰ کا حصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔

    روزہ عربی زبان کے لفظ "صوم" سے ماخوذ ہے، جس کا لغوی مطلب ہے "امساک" یعنی "اپنے آپ کو روکنا"۔ شرعی اصطلاح میں، روزہ اللہ کی رضا کی نیت سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک اپنے آپ کو کھانے، پینے اورنفسانی خواہشات سے روکے رکھنے کا نام ہے۔

    یاد رہے کہ جتنے بھی ناجائز امور ہیں وہ تو غیر رمضان میں بھی منع ہیں، رمضان میں تو ان امور سے اپنے آپ کو روکنا ہوتا ہے جو غیررمضان میں جائز ہیں۔ 

    قرآن و حدیث کی روشنی میں روزے کی اہمیت:

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ"

    "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔" (سورۃ البقرہ: 183) 

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے روزے کا مقصد واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ اور وہ ہے "تقویٰ کا حصول" 

    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ عدل اختیار کرنے کو تقویٰ کے زیادہ قریب ٹھہراتا ہے، یعنی روزے سے انسان کے اندر عادلانہ نظام قائم کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ۔

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"الصَّوْمُ جُنَّةٌ"، "روزہ ڈھال ہے۔" (صحیح بخاری) یعنی روزہ گناہوں سےبچنے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے۔

    ایک حدیث قدسی ہے: "الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" "روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔" (صحیح بخاری) 

    نبی کریم ﷺ نے روزے کی خوشیوں کے بارے میں فرمایا: "لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ"

    "روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کے افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔" (صحیح مسلم) 

    ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری) 


    روزے کے مقاصد اور تقاضے:

    امام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒروزے کے مقاصد کے بارے میں فرماتے ہیں:"روزہ کی کامل حالت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات کو اُبھارنے والے اقوال و افعال سے پرہیز کیا جائے، ظلم و درندگی پیدا کرنے والی حیوانی عادات کو ترک کر دیا جائے اور شیطانی عمل اور طاغوتی فکر و عمل سے نفرت کی جائے". 

    ان کے مطابق، یہ تمام کام اِنفرادی اور اجتماعی بداخلاقیوں کو جنم دیتے ہیں اور فاسد نظام کو فروغ دیتے ہیں۔ روزہ انسان کو ان برائیوں سے پاک کرتا ہے اور اس کے اندر روحانی اور اخلاقی قوتوں کو بیدار کرتا ہے۔ 

    ذیل میں ہم روزے کےچند ایک مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔

    1۔ تقویٰ کا حصول:

    روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ تقویٰ کا مطلب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہوئے عادلانہ معاشرے کے قیام کی جدوجہد کرنا ہے۔ روزہ دار انسان دن بھر یہ احساس رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور اسی احساس سے وہ گناہوں سے بچتا ہے۔نتیجتاً اس میں عدل کا خلق بیدار ہوجاتا ہے ۔

    2۔ نفس کی پاکیزگی:

    روزہ نفس کو پاک کرتا ہے اور انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے۔ جب انسان اپنی جائز خواہشات پر بھی قابو پاتا ہے، تو وہ ناجائز خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔

    3۔ ہمدردی، مساوات اور احساس ذمہ داری:

    روزہ انسان کو بھوک اور پیاس کی تکلیف کا احساس دِلاتا ہے، جس سے غریبوں، محتاجوں اور محرومین کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسان کے اندر معاشرے میں برابری اور انصاف کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔روزے کے ذریعے ایک گہرا احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے،جس طرح روزہ دار پورا دن کھانے پینے سے اپنے آپ کو روکتا ہے، جو عام دنوں میں شرعاً جائز ہے، اسی طرح وہ سمجھتا ہے کہ کیسے بعض چیزیں جائز ہونے کے باوجود ایک بڑے مقصد کے لیے چھوڑی جا سکتی ہیں۔ روزہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کس طرح ایک غریب انسان پورا سال رزق کے لیے ترستا ہے، کیسے وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، جب کہ ہم عام دنوں میں بغیر کسی فکر کے کھاتے پیتے ہیں۔ یہ ایک ذمہ دار شہری اور مسلمان ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے جو محرومین کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور ان کی مدد کے لیے اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔

    4۔ صحت کے فوائد:

    روزہ جسمانی صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق، روزہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے، قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے، خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے اور مختلف مزمن بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ روزہ رکھنے سے نہ صرف روحانی اور نفسیاتی فوائد حاصل ہوتے ہیں، بلکہ جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

    5۔ روحانی تربیت:

    روزہ انسان کو صبر، تحمل، ضبط نفس اور خود داری کی تربیت دیتا ہے۔ یہ انسان کے اندر روحانی قوتیں پیدا کرتا ہے اور اسے خود پر قابو پانے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

    6۔ شکرگزاری کا جذبہ:

    روزہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ جب انسان دن بھر کھانے پینے سے محروم رہتا ہے، تو اسے ان نعمتوں کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے جو اسے عام دنوں میں میسر ہوتی ہیں۔

    رمضان المبارک کی برکات:

    رمضان المبارک کا مہینہ رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ اس مہینے میں لیلۃ القدر بھی آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں کیے گئے اعمال کا ثواب ہزار مہینوں کے اعمال سے بہتر ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں نیک اعمال کا اجر بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فرض عبادات کا ثواب ستر گنا اور نفل عبادات کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔

    عملی نصیحتیں:

    رمضان المبارک میں مندرجہ ذیل اعمال پر خاص توجہ دینی چاہیے:

    روزے کی حالت میں کھانے ، پینے اور جائز نفسانی تعلقات جیسے حلال نفسانی تقاضوں سے اجتناب کے ساتھ ساتھ جھوٹ، غیبت، بدزبانی، جھگڑے اور دیگر گناہوں سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا، اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں"۔ 

    سحری کا اہتمام: سحری میں برکت ہے، اس لیے اس کا خاص اہتمام کریں۔

    افطار میں جلدی: افطار میں جلدی کریں، کیوں کہ یہ بھی سنت ہے۔

    تراویح کی نماز: تراویح کی نماز باجماعت ادا کریں۔

    تلاوت قرآن: رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

    صدقہ و خیرات: رمضان میں صدقہ و خیرات کا خاص اہتمام کریں۔ ان بے سہارا لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو سفید پوش ہیں۔ روزے میں صدقہ، خیرات اور احسان کرنا مستحب ہے۔ حضور ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔

    اعتکاف: آخری دس دنوں میں اعتکاف بیٹھنے کی کوشش کریں۔

    دعا: زیادہ سے زیادہ دعا کریں، خصوصاً افطار کے وقت۔

    العرض: رمضان کا مہینہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے فضول اور غیر ضروری کاموں میں گزارنے کی بجائے تعمیری امور میں صرف کرنا چاہیے۔ کسی پرسکون جگہ جاکر صرف روزہ گزارنا اور اس کے حقیقی مقاصد سے اپنے آپ کو بے خبر رکھنا، روزوں کی اصل روح کے منافی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر مشکل کام کو روزوں کی حالت میں سر انجام دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ زیادہ تر غزوات رمضان المبارک میں ہی لڑے گئے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روزہ سستی اور کاہلی کا نام نہیں، بلکہ متحرک زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے۔روزے کی حالت میں انسان کے اندر کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور وہ کسی خاص مقصد پر بہتر توجہ دے سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ روزے میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ توانائی عادلانہ نظام کو رائج کرنے کی جدوجہد میں صرف کریں۔

    رمضان صرف بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک تربیتی نظام ہے جو انسان کو ایک بہتر انسان بنانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس ماہ میں ہمیں اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔

    Share via Whatsapp