پاکستان کا نظام عدل: انصاف کی فراہمی یا فقدانِ عدل؟ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • پاکستان کا نظام عدل: انصاف کی فراہمی یا فقدانِ عدل؟

    پاکستان کا نظام عدل: انصاف کی فراہمی یا فقدانِ عدل؟

    By Kalim Ullah Published on Feb 17, 2025 Views 409
    پاکستان کا نظام عدل: انصاف کی فراہمی یا فقدانِ عدل؟
    تحریر: کلیم اللہ۔ بنوں

         کسی بھی ریاست یا ملک کے نظام کے تین بنیادی ستونوں میں عدلیہ کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ یہ ادارہ ریاستی امور میں پیدا ہونے والے تنازعات کے بروقت اور منصفانہ حل کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے۔ عدلیہ نہ صرف ریاستی نظام میں توازن برقرار رکھتی ہے، بلکہ فرد اور ریاست کے درمیان نیز افراد کے مابین تنازعات کو منصفانہ طریقے سے حل کر کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق عدلیہ کا بنیادی مقصد انصاف کی فوری اور مساوی فراہمی ہے، چاہے فریق کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے عدل کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "تم سے پہلے کی اقوام اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان کے معزز افراد جرم کرتے تھے تو انھیں چھوڑ دیا جاتا تھا اور جب غریب لوگ جرم کرتے تھے تو انھیں سزا دی جاتی تھی۔" (صحیح بخاری: 3475)۔
    یہ حدیثِ مبارکہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اگر کسی معاشرے میں عدل طبقاتی تفریق کا شکار ہوجائے تو وہ زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلام میں عدل ہر فرد کے لیے یکساں ہے، خواہ وہ حاکم ہو یا محکوم، امیر ہو یا غریب۔
    عدل سے مراد ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا اور ہر فرد کو اس کا جائز حق دینا ہے۔ فقہ میں عدل کو "وضعُ الشیءِ فِی مَحلِّه" یعنی "کسی چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنا" کہا گیا ہے، جب کہ اس کے برعکس ظلم کو "وضعُ الشیءِ فِی غیرِ مَحلِّه" یعنی "کسی چیز کو اس کے مقررہ مقام پر نہ رکھنا" قرار دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں عدل کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" (سورۃ المائدہ: 42)۔نیز ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اعدِلوا هو أقربُ للتَّقوى" (سورۃ المائدہ: 8) 
    "عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے"۔ 
    عدل کسی بھی ریاست کی کامیابی کا بنیادی ستون ہے جو امن، ترقی اور خوش حالی کو یقینی بناتا ہے۔ جہاں عدل کا بول بالا ہو، وہاں ظلم، کرپشن اور استحصال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔عدل اللہ کی صفت  ہے اور اس پر عمل کرنا ایک عظیم عبادت ہے۔
    خلافتِ راشدہ اور ترقی یافتہ ممالک کا نظام عدل:
    خلافتِ راشدہ کو اسلامی تاریخ میں عدلیہ کے ایک مثالی نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار قائم کیے گئے تھے۔ اس دور میں عدالتی فیصلے مکمل غیرجانبداری اور قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ہوتے تھے، جب کہ خلیفہ وقت بھی ایک عام شہری کی طرح عدالت میں پیش ہوتا تھا اور کسی کو قانونی استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔ ججز کی تقرری اہلیت، دیانت اور تقویٰ کی بنیاد پر کی جاتی تھی اور ان پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوتا تھا۔ عدالتی نظام تیز، شفاف اور کرپشن سے پاک تھا، جس کی بدولت عوام کو فوری اور بلاتفریق انصاف ملتا تھا۔ یہی وَجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کو عدل و انصاف کے ایک سنہری دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
    آج بعض ترقی یافتہ ممالک، جیسے سویڈن، ناروے اور کینیڈا میں عدلیہ کا نظام شفافیت، مساوات اور فوری انصاف پر مبنی ہے۔ ان ممالک میں عدالتی فیصلے شفافیت کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی تیز اور عوام کو عدالتوں تک رسائی حاصل ہے۔ قوانین کا اطلاق بلاتفریق ہوتا ہے۔ عدلیہ کسی بھی سیاسی یا حکومتی دباؤ سے آزاد ہوتی ہے، جس سے فیصلوں کی غیرجانبداری یقینی بنتی ہے۔
    پاکستان کا عدالتی نظام: 
    پاکستان کا عدالتی نظام بنیادی طور پر برطانوی نوآبادیاتی دور سے وراثت میں ملا ہے،جو برٹش کامن لا پر مبنی ہے۔ملکی ضروریات کے مطابق کی گئیں بعض ترامیم بھی برٹش لاء کاچربہ ہیں،عدالتی ڈھانچے اور طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں ابھی تک نہیں کی جاسکیں۔
     پاکستان کا عدالتی نظام بنیادی طور پر تین درجوں میں تقسیم ہے:
    1۔ سپریم کورٹ:
    سپریم کورٹ ملک کا اعلیٰ ترین عدالتی ادارہ ہے، جو آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور آئینی تنازعات کے فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ عدالت تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کا بھی اختیار رکھتی ہے اور حتمی عدالتی اپیل کے طور پر کام کرتی ہے۔
    2۔ ہائی کورٹس:
    پاکستان کے ہر صوبے میں ایک ہائی کورٹ قائم ہے، جو ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتی ہے۔ہائی کورٹس مخصوص آئینی و قانونی معاملات،عوامی مفاد کے مقدمات اور بنیادی حقوق سے متعلق درخواستوں کی سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔
    3۔ ضلعی و سیشن عدالتیں:
    یہ عدالتی نظام کی نچلی سطح پر کام کرنے والی عدالتیں ہیں جو ابتدائی نوعیت کے دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ سیشن جج سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات سنتا ہے، جب کہ سول جج دیوانی معاملات کا فیصلہ کرتا ہے۔
     پاکستان میں دیگر خصوصی عدالتی ادارے بھی قائم ہیں:
    •فیڈرل شریعت کورٹ: 
    یہ عدالت اسلامی قوانین کے نفاذ اور ان سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔ اس کا مقصد ملکی قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق پرکھنا اور اس میں مطابقت پیدا کرنا ہے۔
    •خصوصی ٹربیونلز: 
    مختلف نوعیت کے قانونی تنازعات کے حل کے لیے متعدد ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں، جیسے کہ ٹیکس ٹربیونل، لیبر کورٹ، انسدادِ دہشت گردی عدالتیں اور احتساب عدالتیں جو مخصوص مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔
    پاکستانی عدالتی نظام: موجودہ چیلنجز اور مسائل
    پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام کئی دہائیوں سے مختلف خامیوں اور مسائل کا شکار ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر، کرپشن، طبقاتی تفریق اور سیاسی دباؤ جیسے عوامل نے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
    پاکستانی عدلیہ کو سب سے بڑا چیلنج مقدمات کے طویل التوا کا سامنا ہے۔ 31 دسمبر 2023ء کو روزنامہ پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں 56,155 مقدمات زیر التوا ہیں۔ ضلعی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 1.8 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ ججز کی کمی، عدالتی عملے کی نااہلی اور عدالتی وسائل کی قلت ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سائلین کو سالوں تک انصاف کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔
    پاکستانی عدالتی نظام میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں طاقت ور اور بااثر افراد انصاف کے اصولوں کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔طبقاتی فرق نے عدلیہ کے وقار کو مزید کمزور کر دیا ہے۔امیر طبقہ مہنگے وکلا کی خدمات حاصل کرکے یا رشوت کے ذریعے فیصلے اپنے حق میں کروا لیتا ہے،جب کہ غریب افراد انصاف کے حصول میں ناکام رہتے ہیں، کیوں کہ وہ مہنگے قانونی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
    دیہی علاقوں میں عدلیہ کی رسائی محدود ہے، جہاں زیادہ تر لوگ غیررسمی پنچایت اور جرگہ نظام پر انحصار کرتے ہیں، جو بعض اوقات انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی فیصلے سناتے ہیں۔ خواتین اور اقلیتیں بھی عدالتی نظام میں خودکو غیرمحفوظ محسوس کرتی ہیں،انھیں سماجی اور قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    پاکستان میں عدلیہ پر سیاسی اثر و رسوخ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ججز کی تقرری اور عدالتی فیصلےبعض اوقات حکومتی اور طاقتور حلقوں کے مفادات کے تابع نظر آتے ہیں،جو انصاف کے اصولوں اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔سیاسی دباؤ کی موجودگی انصاف کی شفافیت اور غیرجانبداری پر سوالات اٹھاتی ہے،جو ایک آزاد عدلیہ کے لیے ضروری ہے۔
    انسان دوست عدلیہ کا قیام: ایک ضروری اقدام
    پاکستان میں ایک مؤثر، شفاف، اور عوام دوست عدلیہ کا قیام ناگزیر ہے، جس میں درج ذیل خصوصیات شامل ہوں
    عدلیہ کے نظام کو قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق استوار کیا جائے تاکہ انصاف فوری، غیر جانبدار اور مساوی ہو۔
    اسلامی عدلیہ کے ماڈل سے راہ نمائی لے کر کرپشن، ناانصافی اور طبقاتی تفریق جیسے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
    ججز اور عدالتی عملے کی کارکردگی اور غیرجانبداری کو جانچنے کے لیے ایک خودمختار ادارہ قائم کیا جائے۔
    مقدمات کے اندراج، سماعت اور فیصلوں کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جائے، تاکہ عدالتی کارروائیوں میں شفافیت اور رفتار پیدا ہو۔
    ویڈیو کانفرنسنگ اور آن لائن عدالتی نظام کو فروغ دیا جائے، تاکہ سائلین اور وکلا کو سہولت حاصل ہو۔
    عدلیہ میں کرپشن کے مکمل خاتمے کے لیے سخت نگرانی اور آزاد احتسابی نظام متعارف کرایا جائے۔
    دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں قانونی آگاہی مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ عوام اپنے حقوق سے واقف ہوں۔
    ججز کی تقرری اور تبادلے کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے لیے غیرجانبدار نظام قائم کیا جائے۔
    پاکستان کا عدالتی نظام فوری تبدیلی کا متقاضی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی تب ہی ممکن ہو گی، جب ملک میں ایک اعلیٰ نظریے پر تربیت یافتہ قیادت موجود ہو اور ملکی نظام کو یکسر تبدیل کیا جائے۔ عدالتی انصاف نہ صرف انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بناتا ہے، بلکہ معاشرتی امن اور ترقی کا بھی ضامن ہے۔ انصاف کا قیام کسی بھی ریاست کی ترقی اور انسانیت کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
    Share via Whatsapp