انٹرنیٹ فائر وال ۔۔۔ ایک احسن اقدام؟ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • انٹرنیٹ فائر وال ۔۔۔ ایک احسن اقدام؟

    ہ فائر وال کیا ہے، اس کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں، اور حکومت کے اس اقدام کو قابلِ ستائش قرار دیا جائے یا نہیں۔

    By Asghar Surani Published on Sep 29, 2024 Views 375

    انٹرنیٹ فائر وال ۔۔۔ ایک احسن اقدام؟

    تحریر : محمداصغرخان سورانی۔ بنوں 

     

    کچھ دِنوں سے معاشرے میں ایک نئی بحث جاری ہے کہ حکومت انٹرنیٹ پر فائروال انسٹال کررہی ہے اور اس کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہورہی ہے۔ تو چلیں دیکھتے ہیں کہ یہ فائر وال کیا ہے؟ اس کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟ اور حکومت کے اس اقدام کو قابلِ ستائش قرار دیا جائے یا نہیں؟

    فائر وال کیا ہے؟

    سیکیورٹی اور نیٹ ورکنگ کی معروف کمپنی CISCO کے مطابق فائروال ایک سیکیورٹی سسٹم ہے جو داخلی اور خارجی نیٹ ورک ٹریفک کو مخصوص سیکیورٹی قواعد و ضوابط کے مطابق مانیٹر اور کنٹرول کرتا ہے۔ یہ ایک اعتمادشدہ داخلی نیٹ ورک اور غیراعتماد شدہ خارجی نیٹ ورکس ہے، جیسے کہ انٹرنیٹ، کے درمیان ایک رکاوٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔اور کمپیوٹر اور موبائل ڈیوائسز سے منسلک حساس معلومات کوغیر متعلقہ لوگوں کی رسائی اور سائبر حملوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔

    فائر وال کی تاریخ 

    پہلا دور: فائروال کا تصور 1980 ءکی دہائی کے اوائل میں کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کے آغاز کے ساتھ ابھرا۔ ابتدائی توجہ پیکٹ فلٹرنگ پر تھی، جو ڈیٹا کے پیکٹس کو قواعد کے سیٹ کے خلاف جانچتا ہے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ انھیں داخل ہونے دیا جائے یا روکا جائے۔ اس طریقے کو "اسٹیٹ لیس" یا Stateless فائروال کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ کنکشن کی حالت کو ٹریک نہیں کرتا۔

    1990 ءکی دہائی: اس دہائی میں فائروال نے Stateful Inspection ٹیکنالوجی کو شامل کرنا شروع کیا۔ یہ فائروال فعال کنکشن کی حالت کو ٹریک کرتا ہے اور فیصلے کنکشن کی حالت، سیاق و سباق اور استعمال شدہ پروٹوکول کی بنیاد پر کرتا ہے۔ یہ بنیادی پیکٹ فلٹرنگ سے زیادہ جدید کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ اسی دہائی میں پراکسی فائر وال یا ایپلیکیشن لیئر فائروال متعارف ہوا، جو ایپلیکیشن لیئر پر کام کرتا ہے اور ٹریفک کا مزید گہرائی سے تجزیہ کرتا ہے، اور داخلی نیٹ ورک اور خارجی نیٹ ورک کے درمیان ثالث کے طور پر کام کرتا ہے۔

    2000 ءکی دہائی: اس دہائی میں Next-Generation Firewalls (NGFWs) متعارف کروائے گئے، جن میں حملے کی روک تھام کے نظام (IPS)، ڈیپ پیکٹ انسپیکشن، اور ایپلیکیشنز پر تفصیلی کنٹرول شامل ہیں۔ اس کے ساتھ Unified Threat Management (UTM) بھی متعارف کیا گیا، جو فائروال، اینٹی وائرس اور حملے کی شناخت/روک تھام جیسے سیکیورٹی افعال کو ایک ہی ڈیوائس یا حل میں ضم کرتا ہے تاکہ جامع تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    موجودہ دور: کلاؤڈ بیسڈ فائروال اور زیرو ٹرسٹ سیکیورٹی ماڈل نیٹ ورک کی ہر سطح پر تصدیق اور سیکیورٹی کے اقدامات کی وکالت کرتے ہیں۔

    فائر وال کے فوائد اور نقصانات 

    فوائد

    سیکیورٹی: فائر وال نیٹ ورک کو غیرمتعلقہ لوگوں کی رسائی، سائبر حملوں اور دیگر سیکیورٹی خطرات سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔

    کنٹرول: یہ نیٹ ورک ٹریفک پر کنٹرول فراہم کرتا ہے اور صارفین کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرتا ہے۔

    پروٹیکشن: حساس معلومات کی حفاظت کرتا ہے اور ڈیٹا کی خلاف ورزیوں سے بچاتا ہے۔

    پروٹیکشن اور سیکیورٹی میں کیا فرق ہے؟

    نقصانات 

    انٹرنیٹ رفتار کی کمی: بعض اوقات فائروال کی موجودگی کی وَجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے، کیوں کہ فائر وال ڈیٹا کو جانچتا اور فلٹر کرتا ہے۔

    دیکھ بھال کی پیچیدگی: جدید فائر وال سسٹمز پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور ان کی تنصیب اور دیکھ بھال مشکل ہو سکتی ہے۔

    ممکنہ پابندیاں: کچھ ویب سائٹس یا سروسز بلاک کی جا سکتی ہیں، جس سے صارفین کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

    حکومت کا انٹرنیٹ پر فائر وال انسٹال کرنے کا اقدام قابلِ ستائش ہو سکتا ہے اگر اس کا مقصد قومی سیکیورٹی، صارفین کی حفاظت، اور سائبر حملوں سے بچاؤ ہو۔ تاہم، اس اقدام کے نقصانات، جیسے انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی، اور ممکنہ پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ فائر وال کی تنصیب اور اس کے اَثرات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس اقدام کو متوازن طریقے سے عمل میں لائے تاکہ صارفین کی سہولت اور سیکیورٹی دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔

    Share via Whatsapp