اسلامی تاریخ کے سنہری ادوار: ایک مختصر جائزہ
اسلامی سلطنتوں نے مجموعی طور پر تقریباً 13سو سال تک حکمرانی کی، جس دوران اسلامی تہذیب و تمدن نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ ان مختلف ادوار نے عالمی ۔۔۔۔

اسلامی تاریخ کے سنہری ادوار: ایک مختصر جائزہ
تحریر: محمد اصغر خان سورانی، بنوں
مستشرقین کے ایک گروہ نے یہ کوشش کی کہ مسلمانوں کے سنہری دورکو غلط انداز میں پیش کیا جائے۔اس دور کے شخصی، سطحی اور فروعی اختلافات کو زیادہ سے زیادہ اچھال کر نوجوانوں کو مایوس کیا جائے۔ ایک اسلامی جماعت کے ذریعے یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ اسلامی دور صرف 30 برس تک رہا، باقی تو ملوکیت کا دور رہا ہے۔
اسلامی تاریخ کی اہم سلطنتوں نے مجموعی طور پر تقریباً 13 سو سال تک حکمرانی کی ہے، اس دوران اسلامی تہذیب و تمدن نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ ان مختلف ادوار نے عالمی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے اور انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان سلطنتوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی اَثرات کا حقیقی بنیادوں پر مختصر جائزہ پیش ہے۔
خلافت راشدہ کا آغاز 632 عیسوی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے ہوا اور یہ 661 ء میں حضرت علی ؓکی شہادت پر ختم ہوئی۔ اس دوران اسلامی بیت المال کا نظام قائم کیا گیا اور بہت ساری معاشی اصلاحات کی گئیں۔ مفتوحہ زمینوں کے حوالے سے حضرت عمر فاروق ؓ نے اہم اقدامات اور فیصلے کیے۔ اجتماعی خوش حالی یہاں تک ہوگئی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے زمانے میں کوئی زکوة لینے والا نہیں تھا۔ اُمت مسلمہ کی یکجہتی اور وحدت کی بنیاد رکھی گئی اور بلاتفریق عدل و انصاف کی روایات قائم کی گئیں۔ خلافت راشدہ کے دور میں ایک منظم ریاست کی تشکیل عمل میں آئی۔
دولت امویہ کا دور 661 ء سے 750 ء تک رہا، جس میں خلافت عامہ کا دارالحکومت دمشق کو بنایا گیا اور سلطنت کا دائرہ یورپ، افریقا اور ایشیا تک پھیل گیا۔ امویوں نے تجارتی راستوں کو مضبوط کیا، زرعی زمینوں کی بحالی کی اور سکہ سازی کے معیار کو بہتر بنایا۔ عربی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا گیا، جس سے دینی تعلیم و تمدن کو فروغ ملا۔ اس دور میں حکومت کا انتظام بہتر ہوا اور کئی اہم سماجی و ثقافتی اصلاحات کی گئیں۔
750ء میں عباسیوں نے ترکوں کو ساتھ ملا کر اموی خلافت کا خاتمہ کیا، مگر امویوں جو خالص عرب تھے،کے کچھ افراد نے اندلس میں خلافت قائم کی۔ اندلس کی اموی خلافت (756–1492 ء) نے یورپ میں زراعت، تجارت اور صنعتی ترقی کے میدان میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ دور علمی، ثقافتی اور سائنسی ترقی کا ایک سنہری زمانہ تھا، جس میں مسلمانوں نے اندلس کو تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ مسلمانوں نے نہ صرف ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کی، بلکہ یورپی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اندلس کی ترقی یافتہ معیشت، جدید زرعی نظام اور فنون لطیفہ نے خطے کو علم و تہذیب کا ایک منفرد مرکز بنایا، جو صدیوں تک دنیا کے لیے روشنی کا مینار بنا رہا۔
دولت عباسیہ کا آغاز 750 ء میں ہوا اور 1258 ء تک رہا۔ انھوں نے بغداد کو اسلامی دنیا کا سب سے اہم تجارتی، علمی اور ثقافتی مرکز بنایا۔ عباسی دور میں سائنسی، فلسفی، ادبی اور تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی ہوئی، جس میں "بیت الحکمت" جیسے ادارے قائم کیے گئے، جہاں دنیا بھر کے ماہرین و فلاسفہ نے علم کا تبادلہ کیا۔ طب، ریاضی، فلکیات اور کیمیا کے علوم میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی۔ اور بڑے سائنس دانوں جیسے ابن سینا اور الرازی نے اپنی تحقیقات سے دنیا کو ایک حیران کن علم فراہم کیا۔ اس دوران بغداد میں تجارتی روابط میں اضافہ ہوا اور یہ شہر مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی راستوں کا مرکز بن گیا۔ عباسیوں نے انتظامی اصلاحات متعارف کرائیں، جس سے حکومت کے نظام کو مستحکم کیا ۔ عباسی خلافت کے دوران اسلامی معاشرت، فنون اور آرٹ میں بھی ترقی ہوئی، جب کہ عدلیہ کو مضبوط کیا گیا۔ عباسی دور اسلامی تاریخ کا ایک سنہری دور تھا جس میں علم، ثقافت، تجارت اور انتظام میں بے شمار کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
اسی دور میں ایک اور سلطنت فاطمیوں کی جو 909 ء سے 1171 ء تک رہی، جس میں انھوں نے شمالی افریقا اور مصر میں اپنی خلافت قائم کی۔ فاطمی حکمرانوں نے قاہرہ کو دارالحکومت بنایا اور اسے ایک اہم علمی، تجارتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ترقی دی، جہاں "الازہر یونیورسٹی" کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ خلافت اسماعیلی شیعہ فرقہ کی پیروی کرتی تھی اور عباسی خلافت کے سنی اسلام سے مختلف تھی۔ فاطمیوں نے معاشی، تجارتی اور علمی ترقی کی اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی (1137–1193ء) ایوبی سلطنت کے بانی اور 12ویں صدی کے ایک مشہور مسلم حکمران تھے۔ آپ نے فاطمی خلافت کا خاتمہ کر کے مصر، شام اور حجاز کے علاقوں میں اپنی حکومت قائم کی۔ انھوں نے 1187 ءمیں صلیبیوں کو شکست دے کر بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ان جنگوں کو یورپ نے اپنی مصلحت کی خاطر صلیبی جنگوں کا نام دیا۔ ان کی حکمت، عدل اور دشمنوں کے ساتھ رواداری کی مثالیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ ایک بہادر سپاہی، ماہر حکمران اور عظیم مدبر تھے، جنھوں نے مسلم دنیا کو اتحاد اور استحکام فراہم کیا۔
دولت مملوک(خاندان غلامان)1250ء سے 1517ء تک قائم رہی۔ یہ بنیادی طور پر ایوبیوں کی فوج میں شامل غلام سپاہی تھے۔ مملوکوں نے 1250ءمیں مصر میں ایوبی سلطان توران شاہ کو شکست دے کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس دوران مملوکوں نے زرعی زمینوں کی دیکھ بھال اور تجارتی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا، علم و ثقافت کو فروغ دیا گیا اور قاہرہ ایک علمی مرکز کے طور پر ابھرا۔ مملوکوں نے صلیبی جنگوں اور منگول حملوں کے خلاف دفاعی کردار ادا کیا اور اسلامی دنیا کو ان خطرات سے محفوظ رکھا۔ مملوکوں نے 1517ء تک مصر اور شام پر حکومت کی۔
سلجوق سلطنت (1037–1194ء) ایک ترک اسلامی سلطنت تھی جس نے مشرقِ وُسطیٰ، ایران اور اناطولیہ پر حکمرانی کی۔ اس کا آغاز طغرل بیگ نے کیا اور 1071 ءمیں معرکہ ملازکرد میں بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر اناطولیہ پر مسلمانوں کا قبضہ کیا۔ سلجوقوں نے اسلامی ثقافت، فنون اور تعلیم کو فروغ دیا۔
دولت عثمانیہ(خلافت عثمانیہ) (1299–1924ء) اسلامی تاریخ کی سب سے طویل اور بااثر سلطنت تھی، جس نے تین براعظموں (یورپ، ایشیا، اور افریقا) پر حکومت کی۔ تجارتی راستوں کی حفاظت یقینی بنائی اور زرعی پیداوار میں اضافہ کیا۔ اس دور میں اسلامی فن تعمیر کے عظیم شاہکار، جیسے مسجدِ سلطان احمد تعمیر اور تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے علم و فنون کو فروغ دیا گیا۔ عثمانی خلافت نے اسلامی دنیا کو سیاسی اور ثقافتی طور پر متحد رکھا اور عالمی سطح پر اسلام کے اثرات کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔
دولت غزنوی (962–1186ء) اور دولت غوری (879–1215ء) دونوں سلطنتیں موجودہ افغانستان کے علاقوں میں قائم ہوئیں اور اپنے عروج کے زمانے میں ایران، افغانستان اور شمالی ہندوستان پر حکمرانی کی۔ غزنوی سلطنت کا مرکز غزنی تھا اور سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر متعدد کامیاب حملے کیے، فارسی زبان کو فروغ دیا اور اسلامی ثقافت کو تقویت دی۔ غوری سلطنت کا مرکز غور تھا اور اس کے مشہور حکمران شہاب الدین محمد غوری نے 1192ء میں پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر ہندوستان میں مستقل مسلم حکومت کی بنیاد رکھی۔ دونوں سلطنتوں نے اسلامی تہذیب کے فروغ اور دہلی سلطنت کے قیام کے لیے راہ ہموار کی۔
مغلیہ سلطنت (1526–1857ء) نے ہندوستان میں ایک عظیم دور کی بنیاد رکھی، جس میں تمدنی، ثقافتی اور اقتصادی ترقی کے اہم سنگ میل قائم ہوئے۔ 1526ء میں بابر کے قیام کے بعد مغلیہ سلطنت کا آغاز ہوا اور اس کے بعد ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاہجہان اور اورنگزیب جیسے عظیم حکمرانوں نے اس سلطنت کو اپنی طاقت اور عدل اجتماعی کے ذریعے وُسعت دی۔ مغلیہ حکمرانوں نے ہندوستان میں زراعت، تجارت، فنون اور فن تعمیر کو فروغ دیا، جس کا سب سے نمایاں شاہکار تاج محل ہے۔ اکبر کے دور میں مذہبی رواداری اور عدلیہ کے جدید اصولوں کو متعارف کرایا گیا، جب کہ اورنگزیب عالمگیرنے اپنے دور میں سلطنت کے وسیع حصوں پر حکمرانی کی۔ تاہم 1857ء میں ہندوستان کی آزادی کی جنگ کے بعد برطانوی سامراج کے تحت مغل سلطنت کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان کا انتظام برطانوی حکومت کے ہاتھوں میں منتقل ہو گیا۔
دولت مرابطین (1056–1147ء) اور دولت موحدین (1121–1269ء) شمالی افریقا اور اندلس کی دو اہم مسلم سلطنتیں تھیں، جنھوں نے خطے میں استحکام اور ترقی کی بنیاد رکھی۔ مرابطین نے تجارتی اور زرعی اصلاحات نافذ کرکے معیشت کو مضبوط کیا، اسلامی تعلیمات کی تجدید کی اور عدل و انصاف کو فروغ دیا، اور ریاست کو اندرونی خلفشار سے محفوظ رکھتے ہوئے اس کی سرحدوں کو مستحکم بنایا۔ موحدین نے ان اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہوئے تجارتی قافلوں کی حفاظت یقینی بنائی، زرعی ترقی پر زور دیا اور علمی و سماجی اصلاحات نافذ کیں۔ دونوں سلطنتوں نے اسلامی تہذیب کو فروغ دینے اور اندلس و شمالی افریقا میں مضبوط حکومتیں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلم دور کے عالمگیر عالمی اَثرات
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں قائم ہونے والی سلطنتوں نے نہ صرف مسلم دنیا، بلکہ عالمی تہذیب و تمدن پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ مستشرقین کی غلط کوششوں کے برعکس، ان سلطنتوں کا سنہری دور نہایت وسیع اور ہمہ جہت تھا، جس میں سیاسی استحکام، علمی ترقی اور سماجی اصلاحات کے نمایاں پہلو شامل ہیں۔
اس دوران اسلامی فنونِ تعمیر، قانون اور معاشرتی انصاف کی جو مثالیں قائم ہوئیں، وہ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں نظر آتی ہیں۔ اسلامی سلطنتوں نے جہاں داخلی طور پر عدل و مساوات اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا، وہیں بیرونی سطح پر عالمی تہذیب کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی کامیابیاں انسانی تاریخ کا وہ سچا باب ہیں جو جدت،عدل اجتماعی، استحکام اور ترقی کے لیے ایک عالمگیر ماڈل فراہم کرتا ہے۔