آج کا یورپ جسے مغرب بھی کہا جاتا ہے، جب اپنی تاریخ مرتب کرتا ہے تو وہ خود کو دو تہذیبوں مصری تہذیب اور عراق کی دجلہ فرات کی پیداوار بتاتا ہے۔
مغربی تہذیب آغاز و ارتقاء
تحریر:ڈاکٹر ممتاز خان بلوچ۔ چین
آج کا یورپ جسے مغرب بھی کہا جاتا ہے، جب اپنی تاریخ مرتب کرتا ہے تو وہ خود کو دو تہذیبوں مصری تہذیب اور عراق کی دجلہ فرات کی پیداوار بتاتا ہے۔دونوں تہذیبوں کے آغاز میں کئی ریاستیں بنیں اور ٹوٹیں۔ان تہذیبوں کو ختم کرنے کے لیے جو دوسری اقوام آگے بڑھیں تو ان کے اپنے نظریات تھے،جن میں آج کے ترقی یافتہ علاقوں میں رہنے والی کچھ اقوام بھی شامل تھیں۔بعدازاں 700 قبل مسیح میں ایسورین سلطنت بنی،جس نے مصر اور قدیم عراقی تہذیب کو ایک سلطنت میں پرو دیا۔یہ لوگ نہ مصری تھے نہ ہی عراقی۔ان واقعات سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے کہ انسانی معاشرہ ایک وحدت ہے اور ریاست اس کا ایک ادارہ ہے۔اگر ریاستیں اپنے نظریات کو وقت کے ساتھ تبدیل نہ کریں تو پھر دیگر نظریات کی حامل طاقتیں اپنی تنظیمی طاقت سے ان پہ غالب آجاتی ہیں۔
اس ارتقا کے بعد یورپ کے تاریخ دان خود کو یونانیوں سے جوڑتے ہیں۔یونانی تہذیب موجودہ یونان اور ترکی کے یورپی خطے پہ سمندر کے ساتھ ساتھ بسنے والے لوگوں کی تہذیب تھی،یہ دو مشہور یونانی ریاستوں ایتھنز اور سپارٹا پر مشتمل تھی۔یہ 600 قبل مسیح میں ایران کی سلطنت کے زیراثر تھیں جو بعد میں دھیرے دھیرے الگ ہوتی گئیں۔یونان کے خطے میں ایک قدیم تہذیب بھی تھی،جو انسانی قربانی اور خون کو دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی۔وہ تمام تہذیبیں جو انسانی قربانی یا انسان کو اپنے بنائے ہوئے خداؤں کی پرستش پہ اُکساتی تھیں وہ آہستہ آہستہ ختم ہورہی تھیں اور اَب ایک خدا کا تصور انسانیت کے دل میں پیدا ہو رہا تھا۔ان یونانی لڑائیوں نےجو دونوں ریاستوں کے مابین جاری تھیں۔اس نے آہستہ آہستہ رومیوں کوغالب کیا۔مشہورفاتح سکندراعظم کے والد نے روم کے لوگوں سے مل کر ایک فوج بنائی اور مصر پہ اور پھر راستے میں آنے والے دوسرے شہروں اور ایرانی سلطنت پہ چڑھائی کرتا ہوا مرجاتا ہےاور پھر اس کی فوج کے جنرل ایران میں ہی رہ جاتے ہیں اور وہیں شادیاں کر لیتے ہیں اور اپنی زندگی گزارتے ہیں۔اس سے ایک اَور سبق بھی ملتا ہے کہ قدیم لوگوں کو اپنے رشتے ،خاندان سے لگاؤ تھا کسی خاص زمین سے نہیں، بلکہ وہ ملکوں اور ریاستوں کو فتح کرنا چاہتے تھے اور اس دوران تبدیل بھی ہوتے تھے۔
رومن شہروں میں بعد میں جس ریاست نے جنم لیا، اسے آج کے یورپی تاریخ دان رومن ری پبلک کہتے ہیں۔اس ریاست کو بہت سراہا جاتا ہے۔حال آں کہ 85 فی صد افراد ریاست سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے اور صرف 15 فی صد لوگ ہی آزاد تھے جو اس کا نظام چلاتے یا رائے کا حق رکھتے تھے۔جب کہ یہاں عورتوں کو بھی کوئی حقوق حاصل نہیں تھے۔اس ریاست کے اندرونی نظام میں عوام کی معاشی حالت بہت کمزور تھی۔ یہ ریاست سن 50 عیسوی کے قریب ختم ہوگئی۔اس کی جگہ رومیوں نے رومن سلطنت قائم کی۔یہ سلطنت کافی وسیع تھی،جس میں میڈیٹرینین سمندر ( Mediterranean sea ) کے ساتھ سارے علاقے شامل تھےجو آج یورپ، عرب یا افریقا کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔یہ ایک کثیرالقومی اور کثیرالمذہبی معاشرہ تھا۔جو 200 سال تک قائم رہا ۔لیکن اس ریاست میں کچھ سقراط جیسے غور و فکر والے افراد بھی تھے، جس کو ریاست نے زہر کا پیالہ پلا دیا تھا۔اس کی اندرونی کرپشن کی وَجہ سے اس کے بادشاہ کو مار دیا گیا۔یہ سن 300 عیسوی کے لگ بھگ کے واقعات ہیں۔
اس کے بعد موجودہ یورپ کے مغربی حصے میں عیسائی پوپ اور اس کے زیر اثر کئی راجوں کی حکومت بنی۔جب کہ مشرقی حصہ میں انھی رومیوں نے مشرقی رومن سلطنت یا بازنطینی سلطنت بنائی۔بنیادی طور پہ مغربی لوگ موجودہ یورپ میں باہر سے آئے تھے اور عام زبان میں حملہ آور تھے،جنھیں جرمینک قبیلے بھی کہا جاتا ہے،جنھوں نے رومن سلطنت کو ختم کیا اور اس کے مغربی حصے پہ اپنی عمل داری قائم کی۔بنیادی طور پہ یورپین ہی رومن کے اصل دشمن ہیں۔مغربی حصے میں آج کا فرانس، جرمنی،سپین اور برطانیہ شامل تھا۔اس پورے خطے کو مغربی رومن سلطنت کہا گیا۔حال آں کہ اس کا رومن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔300 ء سے لے کر 950ء تک اس علاقے پر پوپ کا مکمل سیاسی کنڑول تھا۔
اس کے بعد کچھ سیاسی طاقتیں جیسے شالمے غالب آیا اور یہیں سے فرینک قبیلے جو کہ پرانے جرمینک قبیلے کی ایک شاخ تھی۔اس نے اپنی الگ پہچان بنانا شروع کر دی۔اس وقت پوپ،فرانس اور انگلینڈ کے راجوں نے صلیبی جنگوں کا آغاز کردیا جو کہ دو صدیاں چلتی رہیں۔اور 1200ء کے قریب سلطان صلاح الدین کی فتح پہ ختم ہوئیں۔بیت المقدس سے جاتے جاتے صلیبیوں نے جو کہ پوپ ہی کے نمائندے تھے، انھوں نے بازنطینی ریاست کے دارالخلافہ کو تباہ کردیا۔جوکہ اس صلیبی کھیل کا حصہ نہیں تھے۔بنیادی طور پہ بازنطینی ریاست کو ترکوں نے نہیں، بلکہ جرمنیک قبیلوں اور پوپ نے صلیبی جنگجوؤں کے ذریعےختم کیا۔پھر بازنطینی شہزادوں نے دوبارہ ایک ملتے جلتے نام سے نئی ریاست بنائی،جسے ترکوں نے 1450ء کے لگ بھگ ختم کیا۔اس کے بعد 1200 ء سے 1450ء تک یہ مغربی یورپ کے حکمران آپس میں لڑتے رہے، لیکن اس دوران مغربی یورپ پہ مکمل سیاسی کنڑول پوپ کا ہی تھا۔1450ء سے لے کر 1650ء تک وہاں کے حکمرانوں نے پوپ کا اثر کم کرنے کے لیے ترقی پسندی اور نشاۃ ثانیہ کی تحریک چلائی۔
چوں کہ پوپ کا قبضہ پرانی رومن سلطنت کو ختم کر کے ہوا تھا اور اس سلطنت کے دانش وروں کو انھوں نے سراہنا شروع کیا۔اس کے علاوہ پوپ کے مذہبی نظریات کو بھی چیلنج کیا۔ یہیں سے پروٹسٹنٹ اور دیگر عیسائی فرقے پیدا ہونا شروع ہو گئے۔انگلینڈ کے بادشاہ ہنری نے شادی بیاہ کے انعقاد کےلیے ایک ادارہ بنایا،جس کو چرچ آف انگلینڈ کہا گیا۔بنیادی طوراس میں نشا ۃ ثانیہ سے زیادہ اہم پوپ کا اثر کم کرنا تھا۔اَب ان واقعات سے پوپ کا اثر تو کم ہو گیا۔لیکن نئی ریاستیں وجود میں آئیں،جن میں 1500ء سے 1700ء تک کا فرانس،سپین اور ہولی رومن سلطنت تھی۔خاص طور پہ فرانس اور انگلینڈ آپس میں لڑتے رہے۔سپین میں ہپس برگ خاندان کی حکومت تھی ، یہ خاندان جرمنی اور آسٹریا میں بھی حکومت کرتا تھا اور اس وقت کا سب سے طاقت ور خاندان تھا۔
انھوں نے عربوں کو بھی اسی دور میں سپین سے نکالا اور پھر یورپی بحری قزاقوں جن میں واسکوڈے گاما اور کولمبس شامل ہیں ان کی مالی معاونت کی اور سب سے پہلے جنوبی امریکا میں کالونیاں بنائیں جوکہ 1700ء کے قریب ختم ہو گئیں۔پوپ کو مزید کمزور کرنے کے لیے یورپین شہزادوں نے لوتھر کنگ کی خدمات بھی حاصل کی،جس نے پوپ کے مذہبی اور سماجی نظریات کو چیلنج کیا اور وہیں سے کئی عیسائی فرقے وجود میں آنا شروع ہو گئے۔اس سے پوپ کی طاقت کمزور ہوئی اور شہزادوں اور بادشاہوں کی طاقت میں اضافہ ہوا۔یہ 1400 سے 1700ء کا دور ہے۔1350 سے 1500ء تک مغربی یورپ کے ممالک طاعون کی وَبا کا شکار رہے۔اگرچہ بیماریاں پھیلانے کا اِلزام جنوبی امریکا کے لوگوں نے سپینی آباد کاروں پہ بھی لگایا تھا۔
اس دوران بازنطینی ریاست ختم ہوچکی تھی اور آسٹریا تک کا علاقہ خلافت عثمانیہ کے زیر اثر آ چکا تھا۔اَب 1700ء سے اصل نشا ۃ ثانیہ شروع ہوئی، جس میں عام دانش وروں نے بادشاہوں پہ بھی سوال اُٹھانے شروع کر دیے اور پارلیمنٹ کی بات بھی کی گئی۔پوپ اور بادشاہوں کے ظلم سے تنگ آ کر ان خطوں کے لوگوں نے امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف ہجرت بھی کرنا شروع کی۔ 1700ء سے 1850ء تک برطانیہ اور فرانس نے افریقہ، ہندوستان اور اور آسٹریلیا پہ اپنا تسلط مضبوط کیا، جب کہ امریکا پر اس کا کنڑول کم ہونا شروع ہو گیا اور امریکا 1776ء میں برطانیہ سے الگ ہو گیا۔لفظ یورپ کا استعمال بھی 1800ء کے بعد ہوا ہے۔انگریزی زبان کی تعلیم بھی 1600ء کے بعد شروع ہوئی، جب پوپ کا اثر ورسوخ کم ہوگیا تھا۔جب کہ 1600ء سےپہلے وہاں پہ بھی لاطینی زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔
ماخوذ!
The rise of western civilization by clement Anthony mulloy
Share via Whatsapp