کچھ واخان کوریڈور کے بارے میں
واخان کوریڈور یا راہداری ایک تنگ پہاڑی راستہ ہے، جو وسطی ایشیا، چین، اور برصغیر پاک و ہند کے مابین ایک اہم تجارتی اور ثقافتی رابطہ رہا ہے۔تاریخ کے ۔۔

کچھ واخان کوریڈور کے بارے میں
تحریر : محمد اصغر خان سورانی، بنوں
وادئ واخان جغرافیائی طور پر اہم اور تاریخی لحاظ سے پرانا علاقہ ہے، جو اپنی تزویراتی اہمیت کی وَجہ سے ہمیشہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ افغانستان کے شمال مشرقی علاقے بدخشاں کا حصہ ہے اور اس کی سرحدیں پاکستان، چین اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔
واخان کوریڈور یا راہداری ایک تنگ پہاڑی راستہ ہے، جو وسطی ایشیا، چین اور برعظیم پاک و ہند کے مابین ایک اہم تجارتی اور ثقافتی رابطہ رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں واخان کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے انتہائی اہم راہداری بنا دیاہے۔ یہ علاقہ نہ صرف تجارتی راستوں کا مرکز رہا ہے، بلکہ ثقافتی تبادلے کا بھی ایک اہم ذریعہ رہا ہے، جس کے ذریعے مختلف تہذیبیں آپس میں جڑی رہیں۔
جغرافیہ اور محل وقوع
واخان کوریڈور مشرق سے مغرب تک تقریباً 350 کلومیٹر طویل ہے، جب کہ اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر 10 سے 65 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ یہ خطہ پاکستان کو تاجکستان سے جدا کرتا ہے اور کئی اہم دَروں کے ذریعے ان ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ ان میں سے بروغل پاس ،چترال اور گلگت بلتستان کے یاسین سے واخان کو ملاتا ہے، قرمبر پاس غذر کی تحصیل اشکومن کو واخان سے جوڑتا ہے، اور دَرہ ارشاد ہنزہ کو واخان کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔
واخان کے دریا، آبِ پنجہ، واخجیر گلیشیر سے نکل کر دریائے آمو میں شامل ہو جاتا ہے، جو علاقے کی زرخیزی اور آبپاشی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاریخی اہمیت
واخان کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ ہخامنشی سلطنت کا حصہ تھا، جب کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندراعظم نے اسے فتح کیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں یہ چین کے تانگ حکمرانوں کے زیراثر رہا۔ مارکو پولو، مشہور اطالوی سیاح، تیرہویں صدی میں واخان سے گزرے اور یہاں کے لوگوں کی بہادری اور مذہبی رجحانات کا ذکر کیا۔واخان میں اسلام کی آمد گیارہویں صدی عیسوی میں ہوئی، جب مشہور فاطمی اسماعیلی داعی حکیم ناصر خسرو نے یہاں اسماعیلی عقائد کی تبلیغ کی۔ اس کے بعد یہ خطہ اسماعیلی مذہب کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ یہاں کے زیادہ تر باشندے وخی زبان بولتے ہیں اور اسماعیلی نزاری مسلمان ہیں، جب کہ کچھ کرغز قبائل بھی آباد ہیں جو سنی مسلمان ہیں۔
انیسویں صدی کی گریٹ گیم
انیسویں صدی کے دوران واخان کوریڈور "گریٹ گیم" کا ایک مرکزی میدان بن گیا، جہاں برطانوی ہندوستان، روسی سلطنت اور افغان حکومت کے سیاسی و جغرافیائی مفادات آمنے سامنے تھے۔ اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت نے اسے ایک تنازعہ کا مرکز بنا دیا۔
1893ء میں برطانوی ہندوستان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت، واخان کو ایک غیرجانب دار یا بفر زون کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد برطانوی ہندوستان اور روسی سلطنت کے درمیان ایک تزویراتی سرحد قائم کرنا تھا۔ واخان کا علاقہ اس معاہدے کے ذریعے اس طرح متعین کیا گیا کہ یہ برطانوی ہندوستان اور روس کے مفادات کے درمیان ایک قدرتی رکاوٹ کے طور پر کام کرے، تاکہ دونوں طاقتوں کے درمیان کسی قسم کی براہِ راست کشمکش کو روکا جاسکے۔ اس بفرزون نے روس اور برطانوی ہندوستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی، جب کہ افغانستان کے لیے اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دونوں طاقتوں کے مابین غیرجانب دار رہے۔
واخان کی جغرافیائی پوزیشن اور ڈیورنڈلائن معاہدے کی شرائط نے اسے عالمی سطح پر تزویراتی اہمیت دے دی۔ اس معاہدے کی بنا پر، واخان نے نہ صرف اپنے جغرافیائی تعلقات کو برقرار رکھا، بلکہ یہ ایک پُرامن بفرزون کے طور پر بھی نمایاں رہا۔
واخان کے حکمران خاندان
واخان کے میر خاندان نے اس خطے کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جہان خان، ان کے بیٹے محمد رحیم بیک اور ان کے بعد فتح علی شاہ جیسے حکمرانوں نے اس علاقے پر حکومت کی۔ میر علی مردان شاہ، واخان کے آخری حکمران تھے،جنھوں نے1880ء میں افغان امیر عبدالرحمن خان کی حکومت سے بچنے کے لیے واخان چھوڑ کر چترال اور گلگت بلتستان کی طرف ہجرت کی۔میر علی مردان شاہ نے اپنی حکمرانی کے دوران گلگت بلتستان کے اشکومن میں اپنا مرکز قائم کیا۔ انگریزوں نے انھیں "میر" کا خطاب دیا اور اشکومن کا گورنر مقرر کیا۔ انھوں نے اپنی رعایا کے ساتھ مل کر خطے کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے اور وخیوں کو اشکومن اور اس کے گردونواح میں آباد کیا۔ 1926ء میں ان کی وفات ہوئی اور انھیں وصیت کے مطابق قلعہ پنجہ، واخان میں دفن کیا گیا۔
موجودہ دور میں واخان کی اہمیت
چین کی واخان کے راستے افغانستان، تاجکستان اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ چین کی وسیع تر جغرافیائی و اقتصادی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ واخان کوریڈور، جو چین کو وسطی ایشیا سے جوڑتا ہے، ایک اہم تجارتی راستہ بن چکا ہے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (BRI) کا حصہ ہے۔ اس راستے کی ترقی سے چین کو وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ملے گی اور یہ پاکستان کی بندرگاہوں کے بجائے ایک نیا تجارتی راستہ فراہم کرے گا۔
افغان حکومت، جو اس وقت طالبان کے زیرِاقتدار ہے، بھی چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ افغانستان کے حکام چین کے ساتھ معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔ طالبان حکومت چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے واخان کوریڈور کو ایک اہم تجارتی راستہ سمجھتی ہے۔
چین اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات یقیناً خطے کی سیاست پر گہرے اَثرات ڈال سکتے ہیں۔ چین کی افغانستان میں سرمایہ کاری اور تجارتی منصوبے، خاص طور پر اگر واخان کوریڈور کو فعال بنایا جاتا ہے، تو وسطی اور جنوبی ایشیا کے جغرافیائی تعلقات کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
سی پیک پر ممکنہ مثبت اور منفی اَثرات
ویسے تو سی پیک (چین-پاکستان اقتصادی راہداری) چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس کا بنیادی مقصد چین کو پاکستان کے ذریعے گوادر پورٹ سے جوڑنا ہے۔ اگر واخان کوریڈور کو ایک فعال تجارتی راستے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کے چند ممکنہ اَثرات ہوسکتے ہیں:
1۔ مسابقت یا تکمیل:
کچھ تجزیہ نگاروں کے نزدیک واخان کوریڈور اور سی پیک ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں، بلکہ بی آر آئی کے تکمیلی منصوبے ہو سکتے ہیں۔ دونوں منصوبے مختلف خطوں کو چین سے جوڑنے کا مقصد رکھتے ہیں اور چین کی اقتصادی اور اسٹریٹجک پالیسی خطے کے تمام ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے پر مرکوز ہے۔
2۔ تجارت میں تنوع:
واخان کوریڈور کے فعال ہونے سے چین کے پاس ایک اضافی راستہ ہوگا جو براہِ راست افغانستان کے ساتھ تجارت اور وسطی ایشیا تک رسائی کو ممکن بنائے گا۔ یہ سی پیک کی اہمیت کو کم نہیں کرے گا، بلکہ بی آر آئی کے مجموعی نیٹ ورک کو مضبوط کرے گا۔ اس کا فائدہ زیادہ تر چین اور افغانستان کو ہے۔
3۔ واخان کوریڈور کا اثر:
اگر چین واخان کوریڈور کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا یا ایران تک تجارتی راستے کے طور پر کامیابی سے استعمال کرتا ہے، تو یہ چین کے لیے پاکستان پر انحصار کو کسی حد تک کم کرسکتا ہے۔ اس سے چین کے تجارتی اور اسٹریٹجک اختیارات میں اضافہ ہوگا۔
4۔ پاکستان کے کردار میں تبدیلی:
اگر چین اور افغانستان کے درمیان براہِ راست رابطے مضبوط ہوتے ہیں، تو پاکستان کے کردار میں تبدیلی آسکتی ہے۔ پاکستان کو اپنے جغرافیائی محل وقوع کے فوائد کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
• اگر چین کے پاس متبادل راستے ہوں، تو پاکستان کو اپنی برآمدات اور تجارتی اہمیت کے لیے نئی حکمت عملی بنانی پڑے گی۔
• افغانستان کے راستے سے ہونے والی تجارت میں کامیابی پاکستان کو اپنی بندرگاہوں اور تجارتی راہداریوں کو مزید مؤثر بنانے پر مجبور کرسکتی ہے۔
• خطے میں پاکستان کی حیثیت بہ طور اہم اسٹریٹجک کھلاڑی متاثر ہوسکتی ہے، اگر چین براہِ راست افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔
• پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کو مزید اُجاگر کرنے اور اقتصادی مواقع کو بڑھانے کے لیے:
o سی پیک کو مزید فعال اور کشش بخش بنانا ہوگا۔
o افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا ہوگا۔
o چین کے ساتھ نئے شعبوں میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہوں گی، جیسے توانائی، ٹیکنالوجی اور زراعت۔
o عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی بندرگاہوں اور راہداریوں کی طرف راغب کرنے کی پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔