زندگی ایک مقصد یا بے مقصد زندگی ؟
انسان کی تخلیق کے مقصد کا موضوع فلسفیوں، ماہرین الہیات، سائنسدانوں اور مفکرین کے لئے دور اول سے ہی نکتہ بحث رہا ہے,

زندگی ایک مقصد یا بے مقصد زندگی ؟
ڈاکٹر ندیم شہزاد۔ میانوالی
انسان کی تخلیق کے مقصد کا موضوع فلسفیوں، ماہرین الہیات، سائنس دانوں اور مفکرین کے لیے دوراول سے ہی نکتہ بحث رہا ہے اور ہر ماہر نے اپنے طریقے سے اس گرہ کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس بحث کو ہم پانچ نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1۔ مذہبی نظریات
ان کے مطابق انسان کو عبادت الٰہی،خدمت انسانیت اور خدائی منصوبے یا مقصد کے لیے تخلیق کیاگیا۔ (اسلام،عیسائیت،یہودیت اور ہندومت)
2۔ فلسفیانہ نظریات
وجودیت (Existensialism) کے مطابق انسان اپنا مقصد اور معنی خود تخلیق کرتا ہے۔ہیومنزم کے مطابق انسان علم، خوشی اور خود کی بہتری کے لیے کوشش کرتے ہیں اور یہی ان کا مقصد ہے۔
مضحکہ خیزی نظریات (Absurdism) کے حامل لوگوں کے مطابق زندگی کا کوئی موروثی مقصد نہیں ہے۔
3۔ سائنسی نظریات
ارتقائی اور کاسمولوجی نظریات کے حامل لوگوں کے مطابق انسان بس کائنات کے ارتقا اور پھیلاؤ کی پیداوار ہیں۔
4۔ روحانی نظریات
ان کے مطابق ذاتی ترقی اور خودشناسی فطرت، کائنات، یا کسی اعلیٰ طاقت سے تعلق،عظیم تر اچھی یا اجتماعی ارتقا میں شراکت ہی انسان کا مقصد ہے۔
5۔ باطنی نظریات
ان کے مطابق انسان الٰہی شعور کی چنگاریاں ہیں، یہاں تجربہ کرنے اور بڑھنے کے لیے معرض وجود میں آئیں یا انسان ایک کثیرجہتی مخلوق ہے جو مختلف دائروں اور جہتوں کو تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔یہ جہتیں اس ضمن میں اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ یہ یاد رہے کہ یہ جزوی ہیں کل نہیں۔ یہ پہلو ہیں اور جس نے جس پہلو کو دیکھا اور سمجھا اور اسی میں محدود رہا اور بعد میں ہونے والی بحث اور مثالوں نے اصل بات پر گرد کی چادر تان دی اور یہ پتہ لگانا دشوار تر ہوتا چلا گیا کہ نظریات اصل اور جامع مقصد حیات کا ایک معمولی پہلو ہیں۔یعنی ہمیں جزو کے بجائے کل پر سوچنا چاہیے۔ فرد کے بجائے اجتماع پر غور کرنا چاہیے۔کائنات کی لامحدود وسعتوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس رنگارنگی اور بوقلمونی میں وحدت کو سمجھیں ۔اس کائنات میں غور کرنے والے محو حیرت ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس کائنات کا بنانے والا اگر کوئی ہے تو وہ ایک ہی ہے دو نہیں ہوسکتے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ایجادات ہوں یا افکار اعمال ہوں یا کردار انسانی تاریخ کے معلوم پہلوؤں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ اختلاف مزاج اور عمل کے باوجود انسانی معاشروں کو آگے لے جانے کی سعی کی ہے۔تو اس لیے اس کائنات کا مرکزی کردار انسان ہے اور انسان جیسی اشرف المخلوقات بے مقصد نہیں ہوسکتی۔ اس کی زندگی ایک معنویت رکھی ہے اور وہ زندگی قیمتی ہے۔ موقع ہے کہ وہ اس کائنات کو ان کھلی آنکھوں سے دیکھے، محسوس کرے، غور و فکر کا دائرہ وسیع کرے اور بعد میں آنے والوں کے لیے اپنے تجربات اور افکار اس طرح مرتب انداز میں باقی رکھے، جس سے آنے والوں کو فائدہ ہو۔ یہی انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے تواَب یہ زندگی بے مقصد نہیں ہوسکتی۔ یہ اور بات ہے کہ جس نے زندگی کا جتنا مقصد طے کیا اس کے تحت زندگی گزاری اور بعد میں آنے والوں میں اپنے اپنے راہ نما کرداروں کی روشنی میں اسی کو کل سمجھ لیا۔ اَب یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بہ طور ایک مسلمان نوجوان کے تمام الہامی کتابوں کا خلاصہ اور پروگرام قرآن حکیم میں موجود ہے اور جتنے دنیا کے عقل مند لوگ ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ سورہ فاتحہ یا سورہ عصر بھی نازل ہوجاتی ہیں تو انسانیت کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ اس تناظر میں قرآن حکیم کی دیگر واضح آیات کو پیش نظر رکھنے سے مقصدحیات بھی واضح ہوتا ہے۔
چوں کہ ہم مسلمان ہیں اسلام ہمیں ایک جامع تصور تخلیق اور تصورِحیات و آخرت دیتا ہے۔قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
"اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی کریں"۔ (51،الذاريات 56)
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:" جس نے موت اور زندگی کو (اِس لیے) پیدا فرمایا کہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے "۔(67،الملک2)
اوپر دی گئی آیات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ انسان اور زمین و آسمان کو فضول پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ خالق نے ایک ایسا عظیم مقصد اس کو سونپ کر بھیجا ہے، جس کو پورا کرنے سے دنیا و آخرت میں ترقی کا ایک نیا باب کھل جاتا ہے ۔
حضور نبی اکرمﷺ انسانی تخلیق کا بہترین نمونہ بن کر دنیا میں تشریف لائے۔ انسانیت کو ترقی دی،عورتوں اور غلاموں کو حقوق دِلائے، غریبوں مسکینوں کے لیے بہترین معیشت اور اقربا کی دیکھ بھال کی بہترین مثالیں قائم کیں، مظلوم و مقتول کو ان کے حقوق دلوائے اور آزادی و فتوحات سے تمام جزیرہ عرب کو روشناس کروایا۔ آج کا معاشرہ ظلم کا معاشرہ ہے جو انسانی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ اس ظلم کے نظام کا خاتمہ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کا یہی وہ موڑ ہے، جہاں سے انسانیت میں ایک نئی اُمنگ پیدا ہوئی، آزادی و حریت سائنس و ٹیکنالوجی کا نیا باب شروع ہوتا ہے۔اسی سبب سے مسلمان جدید علوم کے بانی ہوئے، محنت، لگن جستجو ان کی میراث قرار پائی۔عہدموجود میں ایشیا اور افریقی عوام کی پستی اور بدحالی کا ذمہ دار اس عہد کے قیصر و کسری کا عالمی نظام ہے،اس لیے اَب پڑھے لکھے نوجوان کو نظام کا شعور حاصل کرکےانسانی ترقی میں اس رکاوٹ کو دور کرنا چاہیے۔جس طرح اللہ تعالی نے کائنات کے نظام کو بغیر کسی خامی سے قائم رکھا ہوا ہے۔ ایسا ہی ایک نظام انسانوں میں ہی انسانوں کے ذریعے مطلوب ہے۔ وہ نظام عدل و معیشت ہے اور سیاسی طور پر غلبہ دین کا نظام ہے جو اللہ کی آواز کو انسانوں کے ذریعے ہی بلند کرنے کی ذمہ داری کے طور پہ سامنے آتا ہےجو معاشروں میں سے ظلم، طبقاتیت،بھوک اور خوف کی فضا کو ختم کرتا ہے۔انسان کی تمام تر کوششیں نہ صرف اسی نظام کے قیام کے لیے صرف ہونی چاہییں، بلکہ اس کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو حکمت عملی سے دور کرنے اور پھر اس کو برقرار رکھنے کی تینوں جہتوں میں بھرپور جدوجہد کے عمل کو برقرار رکھنے والی جماعت کا حصہ (بغیر تفرقہ و فتنہ کو پھیلائے) بننا چاہیے۔ یہی اس کا مقصد تخلیق ہے۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا