ترقیات کا مثبت اور منفی استعمال - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • ترقیات کا مثبت اور منفی استعمال

    انسان دوست نظام کے نتیجے میں انسانیت خوشحال ہوئی جبکہ ترقیات کے منفی استعمال سے انسانیت میں منفی اثرات نے جنم لیا.

    By محمد حارث خان یوسفزئی Published on Mar 29, 2020 Views 2902
    ترقیات کا مثبت اور منفی استعمال
    تحریر: حارث خان یوسف زئی، راولپنڈی

    اللہ تعالیٰ نے انسان کوملکوتی قوت کے ذریعے فہم و ادراک جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔انسانی عقل اس  مادی دنیا میں حیوانی جسم کے ساتھ مل کر ایجادات و اختراعات کرکے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دے رہی ہے۔ قدرت کی عطاکردہ عقل کے نتیجے میں ان فوق العادت کمالات کو دیکھ کر انسان   خالق و مالک کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔اسی لیے قرآن مجید میں جگہ جگہ تسخیر کائنات کے اشارے دیے گئے ہیں۔ انسانی عقل جتنا پختہ ہوتی چلی جائے گی، اتنا ہی بنی نوع انسان کا فائدہ بڑھتا چلا جائے گا ۔جتنا انسان اجتماعی سوچ،  خوبصورت سے خوبصورت  کی جستجو کے فطری تقاضے کی بنیاد پر  ایجاد کی صلاحیت  کو عمل میں لا تاجائے گااتنی ہی نت نئی  ایجادات وجود میں آئیں گی۔ پہیہ، کشتی، گاڑی، جہاز،  فون، ریڈیو، کمپیوٹر اور جدید آلات جراحی یہ تمام اللہ پاک کی عطا کردہ انسانی عقل ہی کی کاوشیں ہیں جس سے اللہ نے عقلا وحکما، فلاسفہ وسائنس دانوں کو نوازا اور کتنے ہی کائنات کے اسرار ہیں جن کی پردہ کشائی کا سلسلہ جاری و ساری  ہے۔
    اللہ تعالیٰ نےانبیا ورسل کا سلسلہ بھی جاری فرما یا، تاکہ عقل مادیت پرستی میں مشغول ہو کر اپنی اصل کو نہ بھول جائے کیونکہ عقل کا دائرہ تحقیقات، مشاہدات و تجربات تک محدود ہوتا ہے۔اگر یہ عقل حیوانی خواہشات کے تابع ہو جائے تو اس میں تکبر اور انفرادیت پسندی جنم لیتی ہے، اور انسان اشرف المخلوقات کے مقام سے گرنا شروع ہو جاتا ہے۔رسول اور انبیاء اور ان کے پیروکارفقہاء، حکماء اور صوفیاء یہی کام کرتے ہیں کہ انسانی عقل کی توجہ اللہ کی محبت کے ساتھ خدمت انسانیت  کی جانب مبذول رکھتے ہیں اور جہاں رکاوٹ آئے اس کو دور فرماتے ہیں۔
    آپ تاریخ کے اوراق پلٹیں گے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ادوارحکومت  میں جتنی بھی دریافتیں ہوئیں اورترقیات وجود میں آئیں، ان سے تمام انسانیت بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب مستفید ہوئی۔ ان ترقیات کا تعلق  کسی بھی شعبے سے ہو، ان کے ثمرات تمام بنی نوع آدم کے لیے عام تھے۔ اور ان ترقیات کے لیے حکومت وقت باقاعدہ سرپرستی کرتی تھی۔ آرکیٹیکٹ کا شعبہ ہو یا میڈیکل کا، حیاتیات کا ہو یا طبعیات کا، فلکیات کا ہو یا جغرافیے کا، غرض سائنس کا کوئی بھی شعبہ ہوان تمام میں شاندار کارکردگی دکھائی اور آنے والے دور کے لیے نئی راہیں کھولیں، تمام انسانیت کے اجتماعی ذہنی ارتقاء کو ساتھ لے کر چلے۔تعلق مع اللہ اور انسان دوستی کے نظام کے نتیجے میں کل انسانیت کو خوشحالی میسر آئی اور ترقیات کا نیا باب شروع ہوا۔
    مسلم دور حکمرانی کے زوال کے بعدمادی ترقیات کی کمان یورپ نے سنبھالی، اور یورپ کے نظام کی بنیاد مذہب کے انکار پر تھی۔انسانی عقل چونکہ اللہ کی عطا کردہ ہے تو وہ انسانی تقاضوں کے مطابق ایجادات کے عمل کو آگے بڑھاتی ہے۔ اس فطری اصول پر یورپ کے اعلیٰ دماغوں نے  پچھلی ایجادات میں مزید بہتری لا کر ترقیات کے سفر کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ لیکن ان کا نظام تقسیم انسانیت اور مفاد پرستی کی استحصالی بنیادوں پر تھا۔ جب نظام، ظلم پر استوار ہو تو ایک مخلص کوشش بھی ناکارہ ہو جاتی ہے بلکہ نظام ظلم اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسی لیے تمام ایجادات پر وہاں کا سرمایہ دار انہ نظام قابض ہوتا ہے۔جو اب ایک بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔ تمام ایجادات و ترقیات پرمخصوص سرمایہ دارطبقے کا قبضہ ہے۔ املاک دانش پر تمام انسانیت کا برابر حق ہوتا ہے، لیکن اس اصول کو سرمایہ دار طبقے نے پس پشت پھینکا اور اپنے لیے دولت کے انبار لگا لیے۔ عام انسانیت کو ایجادات سے مستفید کرنے کی بجائے برانڈازم کا نیا کلچر متعارف کرادیا۔ ان ایجادات سے غریب توکیا فائدہ اٹھاتایہ توتیسری دنیا کے مڈل کلاس کی  پہنچ سے بھی دورہوتی گئیں، باقی رہی سہی کسر نت نئے مہلک جنگی ہتھیاروں نے پوری کر دی ۔
    آج اس ڈیجیٹل دور میں جہاں ترقیات کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی  ہے، وہیں امریکہ کے عقلاء کی عقل خواہشات کے اتنی تابع آ چکی ہے کہ وہ نمرودی اور فرعونی اعمال پر اترکر،خود کو رب سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس کی مثال حالیہ کورونا وائرس کی ہے (جیسا کہ چین ، روس، ایران کے الزامات منظر عام پر آئے ہیں) جو سامراج نے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے انسانیت پر مسلط کر دیا ہے، اس کے پیچھے مقصد اپنے معاشی حریف ممالک کی  معیشت کوپیچھے دھکیلناہے۔ تجارت کی منڈی میں معیار، نرخ جیسے مقابلے میں اترنے کے بجائے سامراج نے سائنسی ترقی کا منفی استعمال کیا اوراس کا رخ  حیاتیاتی جنگ (Biological War) کی طرف موڑدیا۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا چین اور روس کے پاس سامراجی ممالک کے بائیولوجیکل ترقی کے منفی استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ ترقیات کے منفی استعمال سے انسانیت میں منفی اثرات نے جنم لیا۔ خود غرضی، انفرادیت پسندی، ذہنی امراض و دیگر مہلک بیماریوں نے بنی نوع انسان کی زندگی کادائرہ تنگ کر دیا ہے۔
    اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان دوست ہاتھوں میں ترقیات ہوں تو  نتائج تمام انسانوں کے فائدے میں ہوتے ہیں اوراگر انسان دشمن ہاتھوں میں ہوں  تو نتائج ایک خاص طبقے کے حق میں نکلتے ہیں۔تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں۔ درحقیقت  اسلام عالم گیر دین ہےجو تکمیل انسانیت چاہتا ہے، جودنیا میں احسن طریقے سے گزارنے کے اصول بیان کرتا ہے تاکہ آخرت کا سفر آسانی سے طے ہو سکے ۔درحقیقت انسانی عقل کی ایجاد ات کل انسانیت کی میراث ہوتی  ہیں، کیونکہ صاحب ایجاد کو اس مقام پر پہنچانے میں تمام انسانی تاریخ اور موجود انسانی اجتماعیت کا برابرحصہ ہوتاہے۔ دین اسلام کسی بھی انسان کو ترقی سے محروم نہیں رکھنا چاہتا تاکہ انسانیت بطور اجتماع ترقی کی جانب سفر کرتی رہے اور معرفت الہی کی منزل کو پالے۔
    Share via Whatsapp