مایوس نوجوانوں میں سماجی تبدیلی کی روح پھونکنے والا مردِ قلندر
26 ستمبر ایک ایسی عظیم شخصیت کی یاد کا دن ہے، جس نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے پیغام، فکری بیداری، معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور نوجوان نسل کی تربیت کے ..
مایوس نوجوانوں میں سماجی تبدیلی کی روح پھونکنے والا مردِ قلندر
26 ستمبر: فکرِ ولی اللہی کے وارث اور سماجی تبدیلی کے داعی حضرت مولاناشاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی یاد میں
تحریر: ڈاکٹر محمد زبیر
26 ستمبر ایک ایسی عظیم شخصیت کی یاد کا دن ہے، جس نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے پیغام، فکری بیداری، معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے وقف کردی۔ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ محض ایک عالمِ دین یا روحانی شخصیت نہیں تھے، بلکہ وہ ایک مفکر، مربی، داعی اور ہمہ گیر سماجی تبدیلی کا مزاج رکھنے والے مربر تھے، جنھوں نے اپنے عہد کے مایوس اور بے سمت نوجوانوں میں امید، حوصلہ، خود اعتمادی اور مقصدِ زندگی کا شعور پیدا کیا۔
آپؒ نے قرآنِ حکیم کو محض تلاوت اور اِنفرادی عبادت کی کتاب کے طور پر نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے فکری، اخلاقی، معاشرتی اور اجتماعی مسائل کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ سمجھنے اور سمجھانے کی جدوجہد کی۔ آپؒ کے نزدیک قرآن انسان کو صرف اچھا فرد نہیں بناتا، بلکہ اسے اپنے معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور اجتماعی ذمہ داری ادا کرنے کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔
فکرِ شاہ ولی اللہؒ سے فکری تسلسل
حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی فکری شخصیت کو سمجھنے کے لیے فکرِ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپؒ اس عظیم ولی اللہی علمی روایت کے وارث تھے، جس میں دین کو زندگی کے تمام شعبوں سے مربوط، ایک جامع نظامِ فکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے انسانی زندگی کے اجتماعی مسائل، عدل، معاشرت، معیشت، سیاست اور اخلاق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی جو فکری بنیاد فراہم کی، حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اسی روایت کو اپنے عہد کے تقاضوں کو حل کرنے کےلیے نوجوان نسل کے سامنے ایک زندہ فکری پیغام کے طور پر پیش کیا۔
یہی فکرِ کلی، نظامِ انسانی کو فرد سے معاشرے اور معاشرے سے ایک عادلانہ اجتماعی نظام کی طرف سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔
مایوس نوجوانوں کو سماجی تبدیلی کےلیے تیار کرنا
حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو نوجوانوں کی فکری و عملی تربیت تھا۔ آپؒ ایسے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے رہے جو حالات کے جبر، معاشرتی بے یقینی اور مستقبل کے اندیشوں سے مایوس تھے۔
آپؒ نے ان نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑنے کے بجائے قرآن سے اُمید، ایمان سے قوت، علم سے بصیرت اور اجتماعی جدوجہد سے مقصدِ زندگی عطا کرنے کی کوشش کی۔
آپؒ کے ہاں سماجی تبدیلی محض نعرے کا نام نہیں تھا۔ اس تبدیلی کا آغاز انسان کے فکر، کردار اور شعور سے ہوتا ہے۔ ایک باشعور فرد، ایک ذمہ دار نوجوان اور ایک بیدار معاشرہ ہی مثبت اجتماعی تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔
دینی اور سیاسی بیداری
حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے دینی بیداری کو اجتماعی شعور سے جوڑا۔ آپؒ نے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ دین محض فرد کی نجی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے میں عدل، انصاف، ذمہ داری، امانت اور انسانی وقار کے قیام( نظام قائم کرنے)کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔
آپؒ نے نوجوانوں میں دینی و سیاسی شعور پیدا کیا اور انھیں اپنے عہد کے اجتماعی مسائل کو سمجھنے کی دعوت دی۔ آپؒ کے نزدیک ایک مسلمان کے لیے اپنے معاشرے کے حالات سے بے خبر رہنا اور ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں خاموش رہنا مطلوب نہیں۔
آپؒ نے سامراجی اور استحصالی نظام کے خلاف علمی، فکری اور شعوری مزاحمت کا احساس پیدا کیا۔ یہ مزاحمت جذباتی ردِعمل کے بجائے علم، بصیرت، کردار، تنظیم اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی تھی۔
سامراجیت کے خلاف شعوری مزاحمت
سامراج صرف سیاسی قبضے کا نام نہیں؛ غلامی کی ایک شکل ذہنوں پر بھی مسلط ہوتی ہے۔ حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اس ذہنی غلامی کے خلاف بھی شعور پیدا کیا۔ آپؒ کی دعوت یہ تھی کہ مسلمان اپنی تاریخ، تہذیب، قرآن اور فکری ورثے سے جڑیں، اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں اور دوسروں کی فکری نقالی کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
اسی لیے آپؒ کی جدوجہد میں فکری آزادی، دینی شعور اور اجتماعی ذمہ داری، بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔
فکر کو ادارے کی صورت دینا
حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی علمی و فکری جدوجہد نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور کی صورت میں ایک منظم علمی و تربیتی مرکز کو جنم دیا، جہاں قرآنِ حکیم کے پیغام کو عصرِحاضر کے فکری اور اجتماعی مسائل کے تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش جاری ہے۔
یہ ادارہ صرف درس و تدریس کا مرکز نہیں، بلکہ فکر، تربیت، شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی ایک علمی روایت کا تسلسل ہے۔
فکر کا تسلسل اور حضرت مولانا شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری
حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے بعد ان کے فکری و تربیتی مشن کو حضرت مولانا شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری بڑی استقامت، اخلاص اور مسلسل محنت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف مکاتبِ فکر کے افراد کے درمیان قرآنِ حکیم کی بنیاد پر دینی، فکری، اخلاقی اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کی علمی و تربیتی کوششیں جاری ہیں۔
یہ امر اس فکری روایت کی وُسعت کو ظاہر کرتا ہے کہ قرآنِ حکیم کا پیغام کسی ایک طبقے، جماعت یا محدود حلقے تک مقید نہیں، بلکہ پوری امت کے لیے ہدایت اور اجتماعی اصلاح کا سرچشمہ ہے۔
عصرِ حاضر اور نوجوان
آج کا نوجوان بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ معاشی مشکلات، فکری انتشار، بے یقینی اور مستقبل کے سوالات نے نئی نسل کے سامنے کئی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ایسے ماحول میں حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی فکر ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف مایوسی، شکایت اور بے سمتی دیں گے؟ یا انھیں علم، قرآن، کردار، اُمید اور مقصدِ زندگی بھی دیں گے؟
آج ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو قرآنِ حکیم کے فہم، سیرتِ رسول ﷺ، فکرِ ولی اللہی، علمی تحقیق، اخلاقی تربیت اور اجتماعی ذمہ داری سے جوڑا جائے۔ نوجوانوں میں ایسی مثبت اور تعمیری روح پیدا کی جائے جو انھیں اپنے معاشرے کی اصلاح، خدمت اور تعمیر کے لیے تیار کرے۔
یومِ وصال : صرف یاد نہیں، تجدیدِ عہد
26 ستمبر محض ایک بزرگ شخصیت کی یاد منانے کا دن نہیں؛ یہ فکر اور مشن کے ساتھ تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔
حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، قرآن سے وابستہ انسان مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ علم، ایمان، کردار اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے انسان اپنے عہد میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔
افراد دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، لیکن ان کی فکر، کردار اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بن جاتی ہے۔ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی زندگی بھی اسی زندہ فکری ورثے کی ایک روشن مثال ہے۔
آج ان کے یومِ وصال پر حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم قرآنِ حکیم سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اس کے پیغام کو سمجھیں، اپنی فکری و اخلاقی تربیت کریں، نوجوان نسل میں اُمید اور شعور پیدا کریں اور معاشرے میں عدل، انصاف، اخوت اور ذمہ داری کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی دینی، علمی، فکری اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، حضرت مولانا شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کی علمی و تربیتی جدوجہد میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں قرآنِ حکیم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے پیغام کو حکمت، اخلاص اور مثبت اجتماعی کردار کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!









