یاغستانی سرزمین کا مخفی مجاہد : مولانا فضل محمود مخفیؒ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • یاغستانی سرزمین کا مخفی مجاہد : مولانا فضل محمود مخفیؒ

    اغستان اور قرب و جوار کی پشتون سرزمین وہ تحریکی آماجگاہ تھی، جس نے برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی ایک درخشاں تاریخ رقم کی۔...

    By محمد لقمان آزاد Published on Jan 08, 2026 Views 272

    یاغستانی سرزمین کا مخفی مجاہد : مولانا فضل محمود مخفیؒ

    تحریر؛ محمد لقمان آزاد، پشاور 


    یاغستان اور قرب و جوار کی پشتون سرزمین وہ تحریکی آماجگاہ تھی، جس نے برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی ایک درخشاں تاریخ رقم کی۔ اس زرخیز مٹی نے قومی آزادی کے لیے سینکڑوں سپوت قربان کیے،مگر ان میں سے اکثر اس دیار میں گمنامی کی نذر ہوگئے۔ انھی درخشاں مگر اوجھل ناموں میں حضرت مولانا فضل محمود مخفیؒ بھی شامل ہیں۔ آپؒ کا شمار امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے باوفا اور عقیدت مند شاگردوں میں ہوتا ہے۔ آپؒ کی شخصیت برصغیر کی تحریکِ آزادی، بالخصوص تحریکِ ریشمی رومال، میں ایک روشن اور تابندہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔

    ولادت اور خاندانی پس منظر

    مولانا فضل محمود مخفیؒ 1884ء میں چارسدہ کے علاقے میں مولوی قاضی نورمحمدخان ترکلانیؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد گرامی کا تعلق باجوڑ کے علاقے ماموند، ذیلی قبیلہ ملاخیل ترکلانی سے تھا۔ قاضی نورمحمد خان ماموند باجوڑ کے ڈنڈ بابو قریہ کے رہنے والے تھے، لیکن قبائلی دشمنیوں اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر پہلے ماؤگئ اور پھر چارسدہ ہشت نگر منتقل ہوگئے تھے۔ قاضی نور محمد خان ”بنگالےملاُ“ کے نام سے مشہور تھے۔موصوفؒ کی والدہ محترمہ نہایت فاضلہ اور دین دار خاتون تھیں، انھیں دینی علوم میں مہارت حاصل تھی اور فارسی کی مشہور کتب گلستان و بوستان اِن کو زبانی یاد تھیں۔[1]

    تعلیم و تربیت:

    حضرت مخفیؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی۔ والدین دونوں ہی علم و دانش کے حامل تھے، لہٰذا گھریلو ماحول ہی علمی و ادبی تھا۔ 1900ء میں پشاور کے اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد ایڈورڈز کالج پشاور میں داخلہ لیا اور 1902-1903ء میں ایف اے کی تعلیم مکمل کی۔

    اپنے چچا مولانا شیر محمدؒ کی ترغیب پر آگرہ (ہندوستان) کے دارالعلوم اسلامیہ میں داخل ہوئے، جہاں انھوں نے دینی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور یہاں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی صحبت میں رہتے ہوئے نہ صرف علمی فیوض حاصل کیے، بلکہ سیاسی شعور اور آزادی کا جذبہ بھی بیدار ہوا۔

    تحریکِ ریشمی رومال اور سیاسی جدوجہد:

    حضرت شیخ الہند محمود حسنؒ نے 1910ء میں مولانا مخفیؒ کو حاجی صاحب ترنگزئیؒ کے ساتھ خیبرپختونخوا (سرحد)بھیجا، تاکہ پشتون قبائل میں انگریزوں کے خلاف بیداری پیدا کی جائے۔ یہیں سے موصوفؒ کی عملی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔آپؒ حزب اللہ [2]کے فعال رکن تھے۔آپؒ نے حاجی صاحب ترنگزئیؒ کے ہمراہ باجوڑ، مومند، بونیر اور سوات کے علاقوں میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی تحریک چلائی[3]-21 اگست 1915ء کو ڈپٹی کمشنر پشاور نے چارسدہ کے اسسٹنٹ کمشنر کو لکھا ” یہ فضل محمود ساکن چارسدہ کے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ بھی حاجی ترنگزئی کے ساتھ ہی علاقہ غیر میں گیا ہوا ہے، اس کی اطلاع جلدی دی جائے کہ آیا یہ آدمی چارسدہ میں موجود ہے یا حاجی صاحب ترنگزئی کے ساتھ ہے“۔[4]۔ 1915ء میں آپؒ نےانگریزوں کے خلاف لڑائیوں میں بھرپورحصہ لیا۔[5] جنودِربانیہ [6]میں بہ طور لیفٹیننٹ کرنل منصب دار رہے ۔ وہ ریشمی رومال خط (9 جولائی 1916ء) جو انگریز سی آئی ڈی کو ملا تھا، اس میں بھی آپؒ کا ذکر موجود ہے،جس میں بتایا گیا ہے کہ جون 1916ء میں ازطرف حاجی صاحب ترنگ زئی جس خفیہ مشن نے بہ معاونت مولانا عبیداللہ سندھیؒ سردار نصر اللہ خاں کے ساتھ ملاقا ت کی تھی اس میں آپؒ ہمراہ تھے۔[7] بعدازاں، آپؒ افغانستان میں قیام پذیر ہوگئے۔حضرت سندھیؒ کی معاونت سے آپؒ کا تعلق امیرامان اللہ خانؒ سے قائم ہوا۔ انگریزی دستاویزات میں مولانا مخفیؒ کو ”بالشویکوں کا ایجنٹ“ اور ”انگریز مخالف سیاست کا فعال رکن“ قرار دیا گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؒ کی جدوجہد انگریز سامراج کے لیے کتنی خطرناک تھی۔

    1919ء میں جب افغانستان نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تو کابل میں منعقدہ جشنِ استقلال میں آپؒ نے فی البدیہہ انتہائی فصیح و بلیغ تقریر کی۔ آپؒ کی تقریر سے متأثر ہوکر روس کے سفیر جی آرگیرس نے کہا: ”اگر مخفی صاحب جیسے چند اور لوگ میدان میں آجائیں تو دنیا سے غلامی کا نام و نشان مٹ جائے“۔امیرامان اللہ خانؒ نے آپ کو اپنا مشیر مقرر کیا۔ آپؒ نے کابل میں قیام کے دوران اخبار ”انیس“ میں بہ طور ترجمان خدمات سرانجام دیں۔

    تعلیمی ،ادبی و اصلاحی خدمات:

    مولانا مخفیؒ کا یہ کہنا تھا کہ قوم کی آزادی اور ترقی کا انحصار تعلیم پر ہے۔ آپؒ نے فرمایا: ”جہالت ایک تاریکی ہے، اگر کوئی قوم زندہ بھی ہو، لیکن جہل کی تاریکیوں میں گھری ہو تو وہ مردہ کے برابر ہے“۔اس فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آپؒ نے متعدد مقامات پر مدارس قائم کیے، جن میں سے کچھ نمایاں اقدامات یہ ہیں: 

    1۔ سوات میں مولوی عبدالعزیزؒ کے ساتھ مل کر مدرسہ قائم کیا۔

    2۔ دیر کے علاقے خال میں مدرسہ قائم کیا، جہاں طلبا کی تعداد 600 تک پہنچ گئی۔ 

    3۔ 1923ء میں باجوڑ کے علاقے چارمنگ، باجوڑ، خار، چینگئی وغیرہ میں چار مدارس قائم کیے۔

    مولانا مخفیؒ کو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی لسانی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپؒ اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ عربی، فارسی، اردو، انگریزی[8]۔

     جرمنی اور ازبیکی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ مولانا مخفیؒ پشتو کے عظیم انقلابی شاعر تھے۔ باچا خان نے انھیں ”پشتو کا شیکسپیئر“ قرار دیا تھا۔آپؒ نے پشتو شاعری میں ایک نیا دور شروع کیا۔ زلف، رخسار، خط و خال، گل و بلبل کی روایتی شاعری کے بجائے آپؒ نے وطن، قوم، غربت اور آزادی کے موضوعات کو شاعری کا حصہ بنایا۔

    انھی کے اشعار ہے: 

    د ګل پۀ سیوري د جانان او جام سندرې پرېږدئ

    ملګرو! مونږ ته د بلها سوالونو حل پاتې دے

    راځئ چې زړونه، اوازونه او ګامونه یو کړو

    یو مو وحدت، یو مو تړون، یو مو مزل پاتې دے

    ترجمہ : گُل کے سائے میں جاناں و جام کے ترانے چھوڑ دو، اے دوستو! ابھی تو بے شمار سوالوں کے حل ہم پر باقی ہیں۔آؤ کہ دِلوں کو، صداؤں کو اور قدموں کو یکجا کریں۔ ہمارا ایک اتحاد، ایک معاہدہ، ایک سفر باقی ہے۔

    غنی خان نے اعتراف کیا: ”قومی جذبہ مجھ میں مخفی صاحب نے پیدا کیا“۔عبدالاکبر خان اکبر نے کہا: ”میں جمال اور فطرت کی شاعری کرتا تھا، لیکن جب میں نے مخفی صاحب کو پھٹے کپڑوں اور ٹوٹے جوتوں میں دیکھا اور ان کی شاعری سنی تو میں نے پرانی شاعری چھوڑ دی اور آزادی کی شاعری شروع کی۔ میں فخر سے کہتا ہوں کہ سیاست میں میرا استاد مخفی صاحب ہے“۔

    1921ء میں جب خان عبدالغفار خانؒ (عرف باچا خان) نے انجمن اصلاح الافاغنہ کی بنیاد رکھی تو مولانا مخفیؒ اس کے سرخیل رکن تھے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد پشتون قوم میں تعلیم کا فروغ، سماجی اصلاح اور سیاسی شعور بیدار کرنا تھا۔بعد میں ”خدائی خدمت گار“ تحریک میں بھی آپؒ نے فعال کردار ادا کیا۔ تحریک کے جلسوں کا آغاز آپؒ کی انقلابی نظموں اور ترانوں سے ہوتا تھا۔[9]

    آخری ایام اور وصال: 

     زندگی کے آخری سالوں میں آپؒ نے تعلیم اور سیاسی بیداری کا کام جاری رکھا۔ 1946ء میں دیر نواب نے آپ کو سکول میں ہیڈماسٹر مقرر کیا، جہاں آپؒ نے اپنی آخری سانس تک خدمت جاری رکھی۔ 28 مئی 1947ء کو بروز بدھ صبح نو بجے آپؒ نے دیر خاص میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ نواب دیر کے حکم پر سرکاری لاری میں مانڑوگی لائے گئے اور جمعرات کی رات سادہ قبر میں دفن کیے گئے۔ آپؒ کا مزار دیر پائین کے علاقے مانڑوگی میں مرجعِ خلائق ہے۔

    مولانا فضل محمود مخفیؒ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ عالمِ دین، مجاہدِ آزادی، انقلابی شاعراور ماہرِ تعلیم یہ سب اوصاف آپؒ میں جمع تھے۔ آپؒ نے تقریباً 36 سال اپنی زندگی افغانستان، آزاد قبائلی علاقوں اور ہندستان میں علم وشعور کے فروغ، تعلیم حریت کی اشاعت اور انگریزوں کے خلاف عملی جدوجہد میں گزارے۔ افسوس کہ مخفیؒ اپنے نام کی طرح اپنےلوگوں سے مخفی رہے، لیکن تاریخ کو نہ تو چھپایا جاسکتا ہے اور نہ جھٹلایا جاسکتا ہے۔ لہٰذا تاریخ آزادئ ہند یعنی تحریک شیخ الہند کا یہ درخشاں ستارہ تاریخ کے ماتھے پر جھومر کی طرح تا قیامت چمکتا دمکتا رہے گا۔ان شاءاللہ! 

    مولانا فضل محمود مخفیؒ کی قربانیاں اور ان کا کارنامے اس خطہ اور برصغیر کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے قربانیوں کا صحیح شعور و قدر نصیب فرمائے۔ آمین!

    حوالہ جات

    [1] هيوادمل زلمى، فرهنګيالى مبارز موالنا فضل محمود مخفي 1393هـ ش

    [2] جمعیتہ حزب اللہ یاغستان کے مہاجرین و انصار پرمشتمل حضرت شیخ الہندؒ کی زیرسرپرستی 1331ھجری (بمطابق 1913-1912) میں قائم ہوئی جس کے صدر حاجی صاحب ترنگ زئی تھے۔ 

    [3] پنجاب سی آئی ڈی نمبر2824 بابت 1916

    [4] ڈی سی ریکارڈ،ص 232 بنڈل نمبر 15، حاجی ترنگزئی ص 143

    [5] پنجاب سی آئی ڈی نمبر2824 بابت 1916

    [6] فوجی اصول پر مخصوص اسلامی جماعت تھی جس کا مقصد اولیہ سلاطین اسلام میں اعتماد پیدا کرنا تھا -بہ حوالہ ریشمی رومال خط نمبر 2

    [7] مولانا سید محمد میاں (مرتب)۔ تحریکِ شیخ الہند: انگریزی سرکار کی سازشیں، شیخی خطوط سازشیں اور کون کیا تھا (خطوطِ کلیات کا اردو ترجمہ)۔ لائل پور: انجمن خُدّامُ القرآن، ص 269۔

    [8] عبدالغفار: زما ژوند او جدوجہد، کابل،ِ دولتی مطبعه، ۱۳6۲ ه ش ۶۴-۶۴ مخونه.

    [9] هيوادمل زلمى، فرهنګيالى مبارز موالنا فضل محمود مخفي 1393هـ ش

    Share via Whatsapp